بھاگلپور ؍ پٹنہ (ایجنسی)
بہار کے بھاگلپور میں واقع مہیلا کالج کے ایک نوٹیفکیشن نے اس کو بحث میں لا دیا ہے۔ بھا گلپور کے وقار اور واحد مہیلا کالج ’سندر وتی مہیلا مہا ودیالیہ ‘ ( ایس ایم کالج ) میں ایک نوٹیفکیشن جاری ہواہے ۔ اس میں بال کھول کر آنے کی ممانعت ہے ، جس سے طالبات نے طالبان کے شرعیہ قانون جیسا بتاتے ہوئے اس کی مخالفت کی ہیں۔
یونیورسٹی کے پرنسپل ڈاکٹر رمن سنہا کی طرف سے یہ نوٹیفکیشن جاری ہوا ہے ۔ انٹر کالج میں یہ ڈریس کوڈ 2021-23سیشن کی طالبات کے لیے ہے ۔ نئے ڈریس کوڈ میں طالبات کو کچھ سخت ہدایات بھی دی گئی ہیں۔ لکھا ہے کہ کالج میں کھلے بالوں پر پابندی ہے۔ اس کے ساتھ – ساتھ طالبات کو کالج احاطہ میں سیلفی نہیں لینے کو بھی کہا گیا ہے ۔ لکھا ہے کہ طالبات ایک یا دو چوٹی باندھ کر کالج آئیں، وہیں اگر کسی کے بال کھلے رہے تو اسے انٹری نہیں دی جائے گی۔ اس کے علاوہ بھی نئے ڈریس کوڈ میں طالبات کے لیے کئی دیگر ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔
بتایا جا رہاہے کہ بھاگلپور کے سندروتی مہیلا مہا ودیالیہ ( ایس ایم کالج ) کی کمیٹی نے یہ فیصلہ لیا ہے ، جس پر کالج کے پرنسپل پروفیسر رمن سنہا نے حتمی طور پر مہر لگائی ہے ۔
اس ایم کالج میں بارہویں کلاس کی تقریباً 1500 طالبات ہوں گی ۔ یہ تمام سائنس، کامرس یا آرٹس اسٹریم میں پڑھتے ہیں۔ پرنسپل نے نیا ڈریس کوڈ طے کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل کی تھی ۔ وہ کمیٹی نے نئے سیشن میں رائل بلیو کرتی ، سفید شلوار، سفید ڈوپٹہ ، سفید موجے، کالے جوتے اور بالوں میں دو یا ایک چوٹی کی بات کہی ہے ۔ ٹھنڈ کے موسم میں رائل بلیو بلیزر اور کارڈیگن پہننے کوکہا گیا ہے ۔
اس نئے ڈریس کوڈ کے باقی قوانین پر لڑکیوں کی پوری رضامندی ہے ، لیکن بالوں میں چوٹی باندھنے کےفرمان پر طالبات میں کافی ناراضگی پائی جاتی ہے ،حالانکہ کچھ طالبات نے اس فیصلے کا استقبال بھی کیا ہے ۔ یہاں تک کہ ایک طالبہ نے اس فیصلے کے لیے کالج انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا ہے ۔
ایس ایم کالج کے پرنسپل پروفیسر رمن سنہا فی الحال ڈریس کوڈ کے فیصلے کو بدلنے کے موڈ میں نہیں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ڈریس کوڈ لاگو ہوچکا ہے ، جس کے حوالہ سے نوٹیس بھی چسپاں ہوچکے ہیں ،ایسے میں طالبات کو قوانین تو ماننے ہی ہوں گے ۔ صحافیوں کے سوال پر انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ صحافی اب جو چاہیں لکھ سکتے ہیں۔
ایس ایم کالج انتظامیہ کے نئے ڈریس کوڈ والے اس فیصلے کے بعد صرف ایس ایم کالج ہی نہیں بلکہ یونیورسٹی کے کئی کالجز کی طالبات نے مخالفت کرنی شروع کردی ہیں۔ طالبات نے کہاکہ یہ فیصلہ طالبان کا شرعیہ قانون کے متوازی لگتا ہے ۔ آر جے ڈی کی طلبا یونین کے صدر دلیپ کمار یادو نے کہاکہ بیٹیوں کے کھلے بالوں پر پابندی کا فیصلہ کالج انتظامیہ کی گھٹیا ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اس کی شکایت بھاگلپور یونیورسٹی کی وائس چانسلر سے بھی کی جائے گی۔ این ایس یو آئی نے بھی انٹر کالج کے اس فیصلے کی مخالفت کی ہے اور آندولن کی دھمکی بھی دی ہے ۔








