اردو
हिन्दी
مئی 2, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

مغربی بنگال اور تمل ناڈو کے رجحان ساز نتائج!

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
0
مغربی بنگال اور تمل ناڈو کے رجحان ساز نتائج!
46
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

عبدالسلام عاصم

مغربی بنگال اور تمل ناڈو کے اسمبلی انتخابات کے نتائج بظاہر رُجحان ساز ہیں۔اس مرتبہ بنگال میں ممتا بنرجی کی تنہا قیادت نے جہاں ایک سے زیادہ کورونائی اور غیر کورونائی نامساعدات کا انتہائی بے باکانہ لیکن تدبر کے ساتھ مقابلہ کیا اور اپنی پارٹی کو تاریخی جیت دلائی، وہیں اس میں تمل ناڈو کی طرف سے حکومتی تبدیلی کا بظاہر روایتی اشتراک مستقبل میں دوررس نتائج مرتب کرتا نظر آتاہے۔ تمل ناڈو میں انا ڈی ایم کے کی جگہ ڈی ایم کے کا اقتدار میں آجانا ایک روایتی سلسلہ ہونے کے باوجود حالات کے تازہ موڑپر اپنے اندر ایک سے زیادہ مفہوم رکھتا ہے۔ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے بھی اس بار دو نتائج سامنے آئے ہیں۔ پہلا اظہر من الشمس نتیجہ یہ رہا کہ ممتا بنرجی اپنی علاقائی پارٹی کی اقتدار کی کشتی کو کچھ اپنے اور کچھ دوسروں کے اعمال سے اُٹھنے ہونے والے طوفان کی پوری طرح زد میں آ جانے کے باوجود ڈوبنے نہیں دیا۔دوسرا نتیجہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کی مشترکہ قیادت میں بی جے پی کے حق میں آیا ہے جو یہ ہے کہ اس قومی پارٹی نے بالآخر ریاست میں اپنے قدم مضبوطی سے جما لئے۔
دیگر ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام پڈوچیری کے نتائج بھی آ چکے ہیں۔ آسام میں نتائج بی جے پی کے حق میں اس لئے آئے کہ وہاں متبادل سوچ کی پکڑ مضبوط نہیں۔ ساتھ ہی وہاں فرقہ وارانہ سیاست کی کمان دونوں طرف مضبوط ہاتھوں میں ہے۔ اس کا بالواسطہ فائدہ بی جے پی کو پہنچا۔کیرالہ کے نتائج چونکانے ولے کم اور روایتی زیادہ ہیں۔پڈوچیری کا نتیجہ محدود نوعیت کا ہے۔
بنگال کے انتخابی نتیجے نے ممتا برانڈ کی سیاسی سوچ کو ایک بڑی راحت ضرور دی ہے لیکن الیکشن کے اعلان اور انتخابی جدول کے اجرا سے لے کر انتخابی مہم اور مرحلہ وار پولنگ تک یہ محسوس کیا گیا ہے کہ قومی سیاست میں نام نہاد سیکولرزم کوجن خرابیوں کی وجہ سے مسترد کیا گیا، اُن سے غیر بی جے پی پارٹیاں بشمول ترنمول کانگریس ابتک نجات حاصل نہیں کر سکی ہیں۔ اگر موجودہ مرکزی حکوت نے کسان تحریک اور کورونا رُخی اقدامات کے محاذ پر سماجی سروکار کے تئیں اپنے مجموعی رویے سے لوگوں میں بے اطمینانی پیدا نہ کر دی ہوتی توممتا بنرجی کیلئے بی جے پی کی طوفانی انتخابی مہم کی تاب لانا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ میرے خیال میں بنگال کی روایتی سیاسی سوچ جو ایک حد تک مستقبل رُخی ہوتی ہے، وہ موقع سے کام کر گئی جس کے نتیجے میں وہاں کے ووٹروں نے ترنمول کو اقتدار سے بے دخل کرنامناسب نہیں سمجھا۔
جیسا کہ اوپر ذکر کر چکا ہوں، بنگال کا انتخابی نتیجہ اس بات کا بھی مظہر ہے کہ سیکولرزم کی دعویدار پارٹیاں آپس میں ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کی جتنی طاقت رکھتی ہیں اتنا وہ اُس محاذ پر موثر نظر نہیں آتیں جہاں ہونا چاہئے۔ ایسا شاید اس لئے ہے کہ اُنہیں ایسے کسی اتحاد سے اُتنی دلچسپی نہیں جس سے اُن کے محدود مفادات کی تکمیل نہیں ہوتی۔ بصورت دیگر نندی گرام میں ممتادی کوجیتنے سے پہلے کبھی ہار کبھی جیت کے آزمائشی مرحلے سے گزرنا نہیں پڑتا۔کسی بھی وزیر اعلی کی اپنی الگ پہچان ہوتی ہے جس کا پاس رکھا جانا چاہئے۔ ازکار رفتہ ہو کر رہ جانے والی کمیونسٹ پارٹیوں کو اس کا ادراک کیوں نہیں، اس کی بہتر وضاحت وہی کر سکتی ہیں۔سی پی آئی ایم کی میناکشی مکھرجی کو نندی گرام میں ووٹوں کو خراب نہیں کرنا چاہئے تھا۔
بہر حال اب تو جو ہونا تھا ہو گیا۔ ممتا بنرجی کو جو لوگ مغربی بنگال میں بایاں محاذ کی حکومتوں کے زمانے سے جانتے ہیں، انہیں یہ بھی پتہ ہے کہ وہ جوش کے ساتھ اب ہوش سے بھی کام لینے لگی ہیں۔انہوں نے کانگریس میں رہنے اور نکل کر ایک نئی پارٹی بنانے تک کے اپنے سفر میں ایک سے زیادہ تجربے کئے، جن میں ان کا این ڈی اے کا حصہ بننا بھی شامل ہے۔این ڈی اے میں شامل ہو کرپھر اس سے الگ ہونے والوں میں بیشتر نے جہاں اپنی پہچان کھو دی وہیں ممتا نے اپنے وقار کا سودا کبھی نہیں کیا۔باوجودیکہ عمر کی جس منزل سے وہ گزر رہی ہیں اُن سے اب کسی ایسی لمبی اننگ کی توقع نہیں کی جاسکتی جس میں وہ وزارت عظمی تک کا سفر کر سکیں لیکن اُنہیں درون جماعت ایسے عناصر پر قابو ضرور پانا چاہئے جن کی وجہ سے پارٹی میں سکنڈ لائن قیادت اب تک واضح طریقے سے نہیں ابھر پائی ہے۔
نندی گرام میں انہیں قسمت آزمانے کی ضرورت ہرگز پیش نہیں آتی اگر پارٹی میں نااہل لوگوں نے انہیں اس قدر گھیر نہ رکھا ہوتا۔درونِ جماعت غرض مندوں کی پشت پناہی بعض اوقات مہنگی پڑتی ہے۔ اہل اور طاقتور ساتھی اپنا راستہ الگ کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ماضی میں خود ممتا دی کانگریس سے اسی بنا پر الگ ہو گئی تھیں۔ سماجی اور اقتصادی مسائل سے دوچارر ملکوں میں سیاست چونکہ انتہائی موقع پرستانہ کھیل ہے اس لئے حالات کو یکسر بدلنے کی طاقت نہ رکھنے والے لیڈر کو بہت زیادہ دور بین ہونا چاہئے۔ مزید یہ کہ ملک میں اقلیتی ووٹ بینک کے نتیجے میں اکثریت کا ووٹ بینک قائم کرنے کا رجحا ن ختم کرنے کیلئے سیکولر پارٹیوں کو زبانی جمع خرچ سے آگے بڑھ کر کام کرنا ہوگا۔
وطن عزیزمیں عوام کو جو مسائل درپیش ہیں وہ اکثریت اور اقلیت کے لئے الگ الگ نہیں ہیں۔ فرقہ پرستی اگر نقصان دہ ہے تو دونوں کے لئے ہے۔روٹی روزی کی ضرورت دونوں کو یکساں شدت کے ساتھ ہے۔ پچھلے سال کورونا کے رُخ پر ناگزیر لاک ڈاون سے پڑنے والے خلل کی مار نقل مکانی کرنے والے جن مزدوروں پر پڑی تھی، اُن کا تعلق بالترتیب زیادہ اور کم اکثریت اور اقلیت دونوں سے تھا۔ تعلیم، روزگار، گھر کی ضرورت سب کو ہے۔ حکومتوں کو چاہئے کہ وہ اقلیت یا اکثریت کی منھ بھرائی کرنے کے بجائے اِن ضرورتوں کو پورا کریں۔
ایسا بہر حال اُسی وقت ہوگا جب قومی سیاست حقیقی معنوں میں سیکولر نوعیت کی ہوگی اور اُس میں حکومتیں مدارس، مٹھوں، درگاہوں، آشرموں کی فنڈنگ کرنے،تیوہاروں کی سہولتیں فراہم کر نے اورزیارت اور تیرتھ کرانے کا جذباتی دھندہ کرنے کے بجائے رات دن محنت کر کے نئی نسل کی خاطرعصری تعلیمی تقاضوں سے ہم آہنگ حقیقی اسکول، کالج، یونیورسٹیاں قائم کریں گی اور بہترین سہولتوں کے ساتھ سڑکیں، تفریحی مقامات اور اسپتال قائم کرنے کو اولین ترجیح دیں گی۔
اسمبلی انتخابات کے نتائج سے محدود خوشی کشید کرنے اور غم کا اظہار کرنے میں وقت کے زیاں کو روکنا کیسے ممکن ہوگا! اِس پر سماج کے ہر اُس طبقے کو غور کرنا چاہئے جسے مسائل کی تجارت پسند نہیں۔ ایسے طبقے محدود نہیں، پھیلے ہوئے ہیں۔ انہیں بس متحرک کرنا ہے اور یہ کام اُسی میڈیا کو کرنا چاہئے جس کا ہم فائدہ اور نقصان دونوں کا تجربہ رکھتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کی دنیا کی رسائی اب چند لوگوں، ہاتھوں یا ذہنوں تک محدود نہیں۔دنیا میں اِس سے استفادہ کر کے ہی مثبت اور منفی تبدیلیاں آرہی ہیں۔ کورونا سے متاثر زندگی جو آج کل گھروں میں قید ہوکر رہ گئی ہے، سوشل میڈیا کے ذریعہ ہی اپنی ضرورتوں کی تکمیل کر رہی ہے۔یہ تبدیلی از خود ایک رجحان ساز تبدیلی ہے۔ اگر ابھی سے اس کا رُخ تعمیر و تشکیل کی طرف موڑ دیا گیا تو عجب نہیں کہ آنے والا کل ایک سے زیادہ محاذوں پر ہمارے لئے نجات دہندہ ہو۔
اگلے کچھ دنوں میں چاروں ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام پڈوچیری میں نئی حکومتیں بن جائیں گی۔زندگی اُن معمولات کی طرف پھر لوٹ جائے گی جن سے ہم یومیہ رجوع کر کے دن، ہفتے، مہینوں اور سال کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔آئیے اس عمل میں ایک اضافہ اور کرتے ہیں: زندگی کے احترام، بہتر ہمسائیگی،احسن کنبہ پروری اور دنیا داری کو سب کے لئے نفع بخش بنانے اور اسے استحکام بخشنے کا۔ الیکشن لڑنے، جیتنے اور ہارنے کا دائرہ رنگ اور نسل، ذات اور مذہب تک محدود رکھ کر ہم زندگی کی لا محدود نعمتوں تک عام رسائی کبھی ممکن نہیں بنا پائیں گے۔ لہذانئی حکومتیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ اب مرکزی خطوں، ریاستوں اور ملک کا ہر بچہ روزانہ اسکول جائے گا اور جسمانی بلوغت کا سفر ذہنی بلوغت کے ساتھ طے کرے گا۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN