نئی دہلی :(رپورٹ مسیح الزماں انصاری )
| شمالی تریپورہ کے پانیساگر میں 26 اکتوبر کو مسلم مخالف تشدد میں ہندوتوا تنظیموں کی طرف سے دکانوں کو نذر آتش کرنے کے معاملے میں متاثرین کو دیئے جانے والے معاوضے کے بارے میں سوالات اٹھ رہے ہیں۔ آتشزنی میں جس متاثر ہ کا 17 لاکھ کا نقصان ہوا،اسے ابھی تک ایک روپہ بھی معاوضہ نہیںملاہے، حالانکہ جن متاثرین کو معاوضہ ملا ہےوہ نقصان کا 10 فیصد بھی نہیں ہے ۔
ہندوتوا تنظیموں کی طرف سے آتشزنی میں امیرالدین کی دو دکانیں جلادی گئی تھیں، جس میں 17 لاکھ کا نقصان ہوا تھا۔ انڈیا ٹومارو کو امیر الدین نے بتایا کہ اب تک انہیں ایک روپیہ بھی معاوضہ نہیں ملا ہے۔
انڈیا ٹومارو سے بات کرتے ہوئے متاثرین نے یہ بتایا کہ انہیں ڈی سی آفس کی طرف سے کچھ رقم معاوضہ کے طور پر دی گئی ہے جو رقم انہیں ملی ہے وہ نقصان کو دیکھتے ہوئے بہت کم ہے۔ متاثرین نے یہ بھی بتایا کہ انہیں کچھ رقم دے کر واپس کردیا گیا۔ معاوضے کی باقی رقم کے بارے میں پوچھے جانے پر عہدیداروں نے کہا کہ حکومت نے جورقم دی تھی وہ آپ تک پہنچا دی گئی ہے ۔ ایک متاثرہ نے انڈیا ٹومارو کو بتایا، ’’ہمیں ملی معاوضوں کی رقم اتنی بھی نہیں ہے جس سے جلائی گئی دکان کا ملبہ بھی صاف کرسکے۔‘‘
ان الزامات پر انڈیا ٹومارو نے پانیساگر انتظامیہ سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن کسی اہلکار سے رابطہ نہیں ہو سکا۔
پانیساگر میں ہندوتوا تنظیموں کی طرف سے کی گئی آتشزنی میں آٹھ دکانیں جلا دی گئی تھیں، جن میں متاثرین کو لاکھوں کا نقصان پہنچاتھا۔
پانیساگر میں مسلمانوں کی جو آٹھ دکانیں جلائی گئیں وہ امیر حسین، امیر الدین، نظام الدین، صنوفر، یوسف علی، جمال الدین، محمد علی اور سلطان حسین کی تھیں جو آتش زنی میں مکمل طور پر جل گئیں۔
ان متاثرین کو اب تک جو معاوضہ ملا ہے وہ درج ذیل ہے:
امیر کو 26 ہزار روپے، امیر الدین کو ایک روپیہ بھی نہیں ملا، نظام الدین کو 85 ہزار روپے، صنوہر کو 90 ہزار روپے، صنوفر کو 30 ہزار روپے، یوسف کو 36 ہزار روپے، محمد علی کو 20 ہزار روپے اور محمد علی کو 20 ہزار روپے ملے ہیں۔ تاہم ان سب کا لاکھوں کا نقصان ہوا تھا جسے انتظامیہ نے بھی تسلیم کیا ہے ، لیکن معاوضے کے طور پر بہت کم رقم دی گئی ہے۔
جلائی گئی دکانوں میں عامر کی الیکٹرک سامان کی دکان بھی شامل ہے اور تقریباً 12 لاکھ کا نقصان ہوا۔ امیر الدین کی راشن کی دکان تھی جن کا 17 لاکھ کا نقصان ہوا ۔ نظام الدین کی کاسمیٹک اور موبائل لوازمات کی دکان تھی، جن کا تقریباً 10 لاکھ کا نقصان ہوا۔ صنوفر اور صنوہر دو بھائیوں کی کپڑے، جوتے اور اسکول بیگ کی دکان تھی جن کا 15 لاکھ کے قریب نقصان ہوا ہے۔
اسی طرح یوسف علی کی راشن کی دکان تھی جن کا 15 لاکھ کا نقصان ہوا ہے۔ جمال الدین کی فوٹو کاپی کی دکان تھی جن کا 7 لاکھ کا نقصان ہوا۔ محمد علی کی جوتے، کپڑے اور کاسمیٹکس کی دکان تھی جن کا 5 لاکھ کا نقصان ہوا اور سلطان حسین کی فوٹو کاپی کی دکان تھی جن کا 3 لاکھ کا نقصان ہوا۔
متاثرین کو ملنے والی معاوضے کی رقم اتنی بھی نہیں ہے جس سے جلائی گئی دکان کا ملبہ بھی صاف کر سکیں۔
متاثرین کے مطابق یہ تمام دکانیں پولیس کی موجودگی میں جلا ئی گئیں۔ متاثرین نے جب پولیس سے فسادیوں کو روکنے کی اپیل کی تو پولیس نے کہنا تھا کہ ہم تعداد میں بہت کم ہیں ہم انہیں نہیں روک سکتے۔
واضح رہے کہ 26 اکتوبر کو شرپسند ہندوتوا بھیڑ نے تریپورہ کے پانیساگر رووا بازار میںمسلمانوں کی 8-9دکانوں کو آگ کے حوالہ کردی تھی۔ یہ حملہ تریپورہ میں ایک ہفتہ تک چلا مسلم مخالف تشددکا ایک سلسلہ تھا جس کے بعد فعہ 144 لگا دیا گیا۔
ہندوتوا تنظیموں کے یہ حملے بنگلہ دیش میں درگا پوجا کے دوران اقلیتوں پر حملوں کی بنیاد پر کیے گئے۔ ایک ہفتے تک چلے اس حملے میں تریپورہ کےالگ الگ علاقوںمیں 12 سےزائد مساجد کو نشانہ بنایا گیا۔
آتشزنی میں اپنی دکان گنوا چکے عامر ،امیرالدین اور صنوہر نے انڈیا ٹومارو کو بتایا کہ اگر ہم مسجد بچانے کے لیے نہیں جاتے تووہ اس مسجد کو بھی نشانہ بناتے۔ ہم نے اپنی دکانیں گنوا کر مسجد کو بچایا۔ پولیس موجود تھی مگر فسادیوں بلا روک ٹوک تشدد کرتے رہے۔
(بشکریہ: . indiatomorrow)










