نئی دہلی : (ایجنسی)
تریپورہ میں وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کی ریلی میںہوئے تشدد کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی ) نے اب معاملے کی جانچ کے لئے پانچ رکنی کمیٹی بنائی ہے ۔ کمیٹی میں بی جے پی کے اقلیتی سیل کے ارکان کو شامل کیا جائے گا۔
لوک سبھا ایم پی اور تریپورہ کے پارٹی انچارج ونود سونکر نے انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ ہم نے پارٹی کے اقلیتی سیل سے ایک پانچ رکنی ٹیم تشکیل دی ہے اور ان سے یہ دیکھنے کو کہا ہے کہ ریاست میں تشدد کن وجہ سے ہوئے۔ انہوں نے صورت حال کا تجزیہ کرنے اور تین دنوں میں رپورٹ دینے کو کہا گیا ہے ۔
بنگلہ دیش میں درگا پوجا پنڈال پر حملے کے بعد تریپورہ میں وشو ہندو پریشد کی جانب سے ایک ریلی نکالی گئی تھی۔ ریلی میں شامل کچھ نوجوانوں نے مسلم علاقوں سے گزرتے ہوئے مبینہ طور پر کچھ دکانوں اور مکانات میں آگ لگا دی تھی۔ ساتھ ہی مساجد کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
جس کے بعد 21 اکتوبر کو وشو ہندو پریشد اور ہندو جاگرن منچ نے کرفیو کی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہنگامہ کیا، جس میں تین پولیس اہلکاروں سمیت 15 سے زائد افراد زخمی ہوگئے تھے۔
سونکر نے دعویٰ کیا کہ تشدد ٹی ایم سی نے کیا ہے کیونکہ وہ تریپورہ میں اپنی سیاسی زمین تلاش رہی ہے ۔
پانچ رکنی ٹیم اپنی رپورٹ بی جے پی کی ریاستی اکائی کو پیش کرے گی۔ سونکر اس ہفتے کے آخر میں ریاست کا دورہ کر رہے ہیں، کیونکہ پارٹی 25 نومبر کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کی تیاری کر رہی ہے۔
مغربی بنگال میں اقتدار میں شاندار واپسی کے بعد ٹی ایم سی نے تریپورہ اور گوا جیسی چھوٹی ریاستوں پر توجہ مرکوز کرنا شروع کر دی ہے۔ ٹی ایم سی کے جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی نے دو بار ریاست کا دورہ کرنے کی کوشش کی لیکن ریاستی پولیس نے انہیں اجازت دینے سے انکار کردیا۔








