اردو
हिन्दी
مئی 9, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

اردو صحافت کے دو سو سال ماضی اور حال کے آئینے میں

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
اردو صحافت کے دو سو سال ماضی اور حال کے آئینے میں
150
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر : مسعود جاوید

جمہوری نظام تین ستونوں ؛ مقننہ، Legislative, عاملہ Executive اور عدلیہ Judiciary پر قائم ہوتا ہے۔ تاہم معاشرہ میں صحافت کے اہم اور مؤثر کردار کے مدنظر صحافت کو جمہوریت کا چوتھا ستون fourth pillar of democracy کہا جاتا ہے۔

اخبارات کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اقتدار کی گلیاروں میں اس کی گونج ہوتی ہے۔اپوزیشن کے ہاتھوں میں اخبارات کی بعض خبریں بالخصوص تحقیقاتی صحافت investigative journalism ایک ہتھیار ہوتی ہے اور پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں اس کی بنیاد پر سوال اٹھا کر حکومت کو گھیرا جاتا ہے ۔ سرکاری محکموں کے افسران کی کارکردگی پر اخبارات کی گہری نظر ہوتی ہے۔ اخبارات معاشرہ میں پھیلی برائیوں کی نشاندہی کرتے ہیں اور حکومت کے بارے میں عوام کی رائے سے حکومت ، اور متعلقہ ارباب حل و عقد کو باخبر کرنے کا فریضہ انجام دیتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ حساس حکمرانوں کا یہ معمول رہا ہے کہ وہ اخبارات کی رائے اور مضامین سے واقف ہو کر بروقت اور مناسب اقدامات کرتے ہیں ۔ امریکی صدور کا یہ معمول تھا کہ بیڈ ٹی یعنی صبح کی چائے کے ساتھ چائے کے ٹرے میں معتبر اخبارات بالخصوص واشنگٹن پوسٹ اور نیو یارک ٹائمز ہوتے تھے‌۔

کسی بھی ملک میں انقلاب برپا کرنے میں صحافت کا بہت اہم کردار رہا ہے۔ ہندوستان میں برطانوی استعماریت کے خلاف اردو اخبارات کی اثر انگیزی تاریخ میں سنہری حروف میں درج ہے۔

27/3/1822 میں یعنی آج سے دو سو سال قبل، اردو کا پہلا اخبار’ جام جہاں نما‘ کلکتہ سے منشی سدا سکھ کی ادارت میں شائع ہونا شروع ہوا تھا۔ لیکن اردو صحافت کا اقبال بلند ہونا 1830 میں شروع ہوا جب انگریزی استعمار نے فارسی زبان کو ختم کر کے اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دیا تھا۔ اس کے بعد ہی اردو اخبارات کی تعداد بڑھنی شروع ہوئی ۔ منشی ہر سکھ رائے نے 1850 میں ہفت روزہ’کوہ نور‘ ، 1858 منیر خیر الدین نے کلکتہ سے ’اردو گائڈ‘، 1858 میں لاہور سے روزنامہ پنجاب اس کے بعد لکھنؤ سے 1858 میں منشی نول کشور نے اردو کا پہلا اخبار’ اودھ اخبار‘ شائع کرنا شروع کیا تھا۔ 1850 میں دہلی سے راما چندر نے ’فوائد الناظرین‘ اور اس طرح ایک لمبی فہرست ہے۔ بیسویں صدی کی شروعات میں1903 میں لاہور سے ظفر علی خان نے روزنامہ ’زمیندار‘، 1912 میں مولانا محمد علی جوہر نے ’ نقیب ہمدرد‘ اسی طرح مولانا ابوالکلام آزاد نے 1912 میں ’الہلال‘ اور1927 میں ’ البلاغ‘ ، جواہر لعل نہرو نے 1945 میں ’ قومی آواز‘ شائع کرنا شروع کیا۔ ان کے علاوہ ’پرتاپ‘ ،’ملاپ‘ ،’تیج‘ ، ہند سماچار …. ان اخبارات کے مالکان اور ایڈیٹرز ہندو بھی تھے اور مسلمان بھی۔ صحافت کے توسط سے برطانوی استعماریت کے خلاف دونوں فرقوں کی اظہار رائے کی زبان اردو تھی۔

ان تمام اخبارات کی مقبولیت کا راز برطانوی سامراج کے خلاف ان کی بیباکی تھی۔ ان کے مدیروں نے اپنی تحریروں سے لوگوں میں ایسی بیداری کی لہر دوڑائی کہ عوام اخبار بینی کے نہ صرف عادی بلکہ شدت سے منتظر رہنے لگی۔ ان اخبارات میں سیاست کے علاوہ عام دلچسپی کے، دینی ، ادبی ، سماجی خواتین کی دلچسپی کے لئے افسانے اور کہانیاں، کشیدہ کاری اور کھانا پکانے کی ترکیبیں بھی ہوتی تھیں۔ اردو صحافت میں ایک نام جو سب سے زیادہ نمایاں ہے وہ ہے محمد حسین آزاد کے والد مولوی محمد باقر کا۔ انہوں نے 1836 میں ’دہلی اردو اخبار‘ جاری کیایہ شمالی ہند کا پہلا اخبار تھا جس نے آزادی ہند کی جد وجہد میں پوری سرگرمی سے حصہ لیا اور اسی کی پاداش میں شہید کئے گئے۔

مابعد آزادی ہند بھی بہت حد تک اردو اخبارات رائے عامہ ہموار کرنے اور سیاست دانوں ؛ حکومت و اپوزیشن تک عوام کے مسائل اور اضطراب کو پہنچانے کا بہترین وسیلہ تھے۔ تاہم مابعد آزادی ہندوستان میں جس طرح مسلمانوں کی شوکت ختم ہوتی رہی اردو اخبارات پر بھی زوال کا اثر ہوتا رہا اور رفتہ رفتہ اردو لٹے پٹے بے وقعت مسلمانوں اور سیاسی طور پر ایک بے حیثیت فرقہ کی زبان ہو کر رہ گئی جس کی آہ و پکار سے باخبر ہونے کی ضرورت مقتدرہ نے محسوس کیا اور نہ اپوزیشن نے ۔ اور جب ارباب حل و عقد کو اس فرقے کے مسائل سے دلچسپی ہی نہیں ہے تو وہ اردو اخبارات کی بریفنگ کیوں سنیں گے اپنے دفاتر میں اس کے تراشے اور ترجمے رکھنے پر کسی کو متعین کیوں کریں گے!

الناس على دين ملوكهم اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں ذرا بھی تذبذب نہیں ہونا چاہئے کہ جب مسلمانوں کی شوکت پر زوال آیا تو بحیثیت مجموعی مسلم تہذیب پر زوال آیا اور زبان تہذیب کا حصہ ہے۔جس طرح مسلمانوں کے عروج کے دور میں کرتا پاجامہ شیروانی ٹوپی صدری اچکن اور اردو زبان وادب مہذب اور تعلیم یافتہ کی شناخت تھی اور غیر مسلم بھی اسے فخریہ طور پر اپناتے تھے اسی طرح جب انگریزی استعماریت کا عروج ہوا تو انگریزی تہذیب، انگریزی کھانے پینے کے آداب، انگریزی پوشاک اور انگریزی زبان معاشرہ میں مہذب ہونے کی شناخت بن گئی۔

ہندوستان کے تناظر میں کہا جائے تو اردو صحافت کا ماضی جس قدر تابناک تھا اس کا حال اتنا ہی اندوہناک ہے۔ اور اس کی متعدد وجوہات میں سب سے بڑی وجہ اردو زبان کی سرپرستی سے محرومی ہے۔ اردو کا گہوارہ کہی جانے والی ریاست اترپردیش میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ نہیں دیا جانا اردو کی بقا کے لئے جان لیوا ثابت ہوا۔ دوسری سرکاری زبان کا درجہ نہیں دینے کی وجہ سے نسل در نسل اردو لکھنے پڑھنے سے محروم ہے۔ دوسری سرکاری زبان کا درجہ نہیں دئے جانے کی وجہ سے اسکولوں میں اردو اساتذہ کی تقرری نہیں ہوگی اور اردو پڑھنے کے خواہشمند طلباء اردو سے محروم ہوتے گئے نتیجتاً اترپردیش میں اردو زبان بولنے والوں کی اکثریت اردو لکھنے اور پڑھنے سے نابلد ہیں۔ اترپردیش ملک میں نا صرف سب سے بڑی ریاست ہے بلکہ اس میں اردو مادری زبان والوں کی اکثریت بھی رہتی ہے۔ ظاہر ہے جب وہ اردو پڑھنے اور لکھنے کے اہل نہیں ہیں تو وہ اردو کی بجائے ہندی اخبارات پڑھتے ہیں اور اس طرح اردو اخبارات کے قارئین کی تعداد دن بدن کم ہوتی گئی جس کے منفی اثرات اردو اخبارات کے سرکولیشن پر بھی مرتب ہوئے۔ قارئین کی تعداد طے کرتی ہے کہ یہ اخبار اشتہارات کا مستحق ہے بھی یا نہیں۔ قارئین کا اشتراک زائد اشتہارات سے ہی اخبار کے اخراجات اٹھائے جاتے ہیں۔ مالی وسائل کی قلت اچھے ، با صلاحیت اورفن صحافت میں مہارت رکھنے والے افراد کی خدمات لینے میں مانع رہتی ہے اس لئے اردو اخبارات ہندی اور انگریزی کی بنسبت کمتر اور غیر معیاری ہیں۔ بسا اوقات ایک دو روز پرانی خبریں ہندی یا انگریزی اخبارات سے لی ہوئی شائع ہوتی ہیں۔

سرپرستی کے معاملے میں اردو اخبارات نہ صرف حکومت کی سرپرستی سے محروم ہے بلکہ ملی تنظیموں کی سرپرستی کا سایہ بھی ان کے سر سے اٹھ گیا۔ روزنامہ قومی آواز کانگریس کی سرپرستی میں جب تک رہا اردو صحافت کو وقار بخشتا رہا روزنامہ الجمعیۃ جمعیت علماء ہند کی سرپرستی سے محروم ہو کر ماضی کی یاد بن گیا تو روزنامہ دعوت جماعت اسلامی ہند کی سرپرستی میں کبھی روشن چراغ تھا لیکن افسوس روزنامہ سے ٹمٹماتا چراغ بالآخر سہ روزہ اس کے بعد ہفت روزہ اور وہ بھی بہت محدود تعداد میں اشاعت یعنی ٹمٹماتا چراغ اب بجھنے کے قریب ہے۔ روزنامہ انقلاب، اگر اردو مسلمانوں کی زبان ہے، تو اس مسلم اردو اخبار کو ایک غیر مسلم ہندی اخبار دینک جاگرن نے خرید لیا، ’راشٹریہ سہارا اردو‘ ظاہر ہے سرمایہ دار سہارا سری کی ملکیت ہے۔

تو سوال یہ ہے کہ مسلمانان ہند کا ترجمان اردو اخبار کون سا ہے۔ اور اگر نہیں ہے تو کیوں؟ روزنامہ دعوت اور روزنامہ الجمعیۃ اخبار کا بند ہونا ملت اسلامیہ ہند کی بے بسی ، بے حسی اور زبوں حالی کا عکاس ہے۔

ایسا نہیں ہے کہ ملی تنظیموں کے ارباب حل و عقد ذرائع ابلاغ کی اہمیت افادیت اور ضرورت سے واقف نہیں ہیں وہ خوب سمجھتے ہیں کہ یہ دور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا ہے جس کے ذریعے برق رفتاری سے ذہن سازی کی جا سکتی ہے اور اپنے حق میں رائے عامہ ہموار کیا جاسکتا ہے۔ اس کے باوجود ارباب حل وعقد کا میڈیا کی جانب توجہ نہیں دینا چہ معنی دارد ! ملی مسائل میں مسلمانوں کی گھڑی کی سوئیاں الٹی کیوں چل رہی ہیں؟ آج سے بیس پچیس سال قبل تک مسلمانوں کے اپنے اخبارات تھے مگر آج جبکہ اس کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے، کسی بھی زبان میں مسلمانوں کا ترجمان اخبار نہیں ہے !

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN