نئی دہلی :
دہلی ہائی کورٹ کی طرف سے غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کو لے کر حال ہی میں کئے گئے تبصرے کے بعد اس قانون پر بحث شروع ہوگئی ہے۔ دراصل کورٹ نے دہلی فسادات کے معاملے میں ملزم بنائے گئے تینوں لوگوں کو ضمانت دینے کے ساتھ ہی یو اے پی اے کے استعمال پر سوال اٹھائے تھے۔این سی آر بی کا 2015 سے 2019 تک کا ڈیٹا بھی کورٹ کے شکوک وشبہات کو مزید تقویت دیتا ہے۔ ریکارڈکے مطابق ان پانچ سالوں میں یواے پی اے کے تحت جتنی گرفتاریاں ہوئیں ، ان میں سے 2 فیصد سے بھی کم پر قصوروار ثابت کیا جاسکا ۔
’جن ستا‘ کی رپورٹ کے مطابق این سی آر بی کے ریکارڈز کے مطابق گزشتہ پانچ سالوں میں یو اے پی اے کے تحت کل 7840 لوگوں پر گرفتاری کے بعد کیس چلایا گیا۔ ان میں سے محض 155 لوگوں پر ہی دہشت گردی سے جڑے الزام ثابت کئے جاسکے ۔ جبکہ اس سال کی شروعات میں ہی وزیر مملکت برائے داخلہ جی کشن ریڈی نے جانکاری دی تھی کہ 2015 سے لے کر 2019 تک یو اے پی اے کے تحت گرفتاریوں میں اضافہ ہوا ہے، جہاں 2015 میں 1128 لوگوں کی گرفتاری ہوئی ، وہیں 2016 میں 999 ، 2017 میں 1554 اور 2018 میں 1421 لوگ گرفتار ہوئے۔ 2019 میں تو گرفتاریوں کا اعدادوشمار 1948 تک پہنچ گیا۔
کن ریاستوں میں یو اے پی اے کا سب سے زیادہ استعمال؟
اعداد وشمار کے مطابق سال 2019 میں سب سے زیادہ معاملے منی پور میں درج کئے گئے تھے۔ اس کے بعد تمل ناڈو میں 270 ، جموں وکشمیر میں 255، جھارکھنڈ میں 105 اور آسام میں 87 معاملے درج کئے گئے، حالانکہ سال 2019 میں یو اے پی اے کے تحت سب سے زیادہ 498 لوگوں کی گرفتاریاں اترپردیش میں ہوئیں۔ اس کے بعد منی پور میں 368، تمل ناڈو میں 308 ، جموں و کشمیر میں 227 اور جھارکھنڈ میں 202 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ این سی آر بی کے ہی اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ2015-19 کے درمیان دہلی میں یو اے پی اے کے تحت 17 مقدمات درج کیے گئے ۔ ان میں دہلی پولیس نے 41 مشتبہ افراد کو نامزد کیا۔
یو اے پی اے کیوں سخت قانون سمجھا جاتا ہے ؟:
بتادیں کہ یو اے پی اے کے تحت ضمانت پانا بہت مشکلہوتاہے۔ تفتیشی ایجنسی کے پاس چارج شیٹ داخل کرنے کے لئے 180 دن کا وقت ہوتاہے ، جس کی وجہ سے جیل میں بند شخص کے معاملے کی سماعت مشکل ہوتی ہے۔ یو اے پی اے کی دفعہ-43-ڈی (5) میں اس بات کاالتزام ہے کہ اگر عدالت ، کیس ڈائری کے بارے میں یا سی آر پی سی کے سیکشن 173 کے تحت بنائی گئی ایک رپورٹ پر غور کرتی ہے کہ یہ ماننے کے لیے مناسب بنیاد ہے کہ اس طرح کے شخص کے خلاف الزام لگانا بادی النظر صحیحہے۔










