تحریر: یوسف کرمانی
صرف 10 دن پہلے تک یہ واضح نہیں تھا کہ آیا اتر پردیش میں یادو سیاست کے دو تجربہ کار چچا -بھتیجے یعنی شیو پال یادو اور اکھلیش یادو کے درمیان کوئی سمجھوتہ ہو سکتا ہے یا نہیں، لیکن آخر کار شیو پال یادو بھتیجے کا دامن تھامنے کو مجبورہوگئے ۔
دونوں کا میل ملاپ آپ مجبوریوں کا میل ملاپ بھی کہہ سکتےہیں۔ شیو پال اپنی پرگتی شیل سماج وادی پارٹی کے بینر کے ساتھ پچھلے دو ماہ سے یوپی کا دورہ کر رہے تھے۔
انہوں نے یادو اکثریتی اٹاوہ، ایٹا، فرخ آباد، مین پوری، فیروز آباد، قنوج، بدایوں، اعظم گڑھ، فیض آباد، بلیا، سنت کبیر نگر، جونپور اور کشی نگر اضلاع کا دورہ کیا۔ انہیں جس تعداد میں کارکنانوں اوریادو وٹروں کے امڈنے کی امید تھی ، وہ پوری نہیںہوئی ۔
شیو پال نے طویل عرصے تک ایس پی کی تنظیم کو سنبھالا ہے۔ وہ اشارے کو سمجھنے میں ماہر ہیں۔ انہوں نے اشارہ سمجھ لیا۔شیو پال جہاں بھی گئے، ان اضلاع کے بزرگ یادووں نے شیو پال سے یہی کہا کہ اگر وہ اکھلیش سے سمجھوتہ کر لیں یا ایک ہو جائیں تو یادو بکھر یں گے نہیں ۔ شیو پال یہ سن سن کر تنگ آ گئے تھے۔
22 نومبر کو ایس پی کے بانی ملائم سنگھ یادو کا یوم پیدائش تھا۔ شیو پال نے سیفئی میں دنگل کا انعقاد کیا ۔ شیوپال کو امید تھی کہ بڑا بھائی اوربھتیجہ اس پروگرام میں ضرور آئیں گے، لیکن دونوں ہی نہیں آئے۔
شیو پال نے اکیلے ہی سیفئی میں ملائم کی تصویر کو کیک کھلایا۔ کارکن بھی کم ہی آئے۔ شیو پال 22 نومبر کے بعد مایوسی کی حالت میں پہنچ گئے۔
اعظم خاں کا مشورہ
28 نومبر کو شیو پال سیتا پور جیل جا کر ایس پی کے سینئر لیڈر اعظم خان سے ملاقات کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اعظم خاں نے انہیں فی الحال اکھلیش کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کا مشورہ دیا ۔بتاتے ہیں کہ اعظم خاں نے شیو پال سے کہا کہ اگر دونوں اکٹھے نہیں ہوئے تو 2017 کے اسمبلی انتخابات اور 2019 کے لوک سبھا انتخابات کی طرح یادو ووٹ تقسیم ہو جائیں گے۔ اس کے بعد ہی شیو پال نے اکھلیش سے ملنے کا فیصلہ کیا۔
تقریباً 9 فیصد یادو ووٹر اتر پردیش کے 44 اضلاع میں ہیں۔ یادو ووٹر 10 اضلاع میں 15 فیصد سے زیادہ ہیں۔ مشرقی اتر پردیش اور برج علاقے میں یادو ووٹر سب سے زیادہ ہیں۔
تاہم 2017 میں بی جے پی نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ لیکن ایس پی کو اپنے طور پر 21.82 فیصد ووٹ ملے۔ کانگریس کے ساتھ ان کا اتحاد تھا لیکن دونوں پارٹیوں کو اس کا زیادہ فائدہ نہیں ملا۔2017 میں شیو پال بھتیجے سے ناراض تھے۔ خاندان کی لڑائی میڈیا میں سرخیوں میں آگئی ہے۔ اس کے نتیجے میں بی جے پی بھی یادو ووٹ ٹرانسفر کرالے گئی۔2017 میں کل 18 یادو ایم ایل اے بنے، جن میں سے 6 بی جے پی اور 12 ایس پی کے تھے۔ اگر شیو پال ان کے ساتھ ہوتے تو ایس پی کے کم از کم 20 ایم ایل اے ہوتے۔ یادو لیڈر تقریباً ہر پارٹی میں ہیں۔ لیکن ایس پی کو یادووں کی پارٹی سمجھا جاتا ہے۔ ملائم کے دور میں یادو -مسلم اتحاد انتخابی سیاست میں بی جے پی اور کانگریس کو شکست دیتا رہا ہے۔
انتخابی زبان میں یادو ایس پی کے روایتی ووٹر ہیں۔ شیو پال-اکھلیش کا اتحاد اسے مضبوط کرے گا اور ایس پی کو اس کا زبردست فائدہ ہوگا، تاہم دونوں کا اتحاد کب تک چلے گا، اس کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے۔ شیو پال کی کچھ متنازع شخصیات بھی ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اکھلیش انہیں ایس پی کا ٹکٹ دیں، جبکہ اکھلیش صاف ستھری شبیہ والے چاہتے ہیں، اس لیے دونوں کی سیاسی ملاپ کو فی الحال مجبوری کہا جا سکتا ہے۔
(بشکریہ: ستیہ ہندی)










