تحریر: کے سی تیاگی
سینئر لیڈر (جے ڈی یو )
آزادی کے امرت مہوتسو کے موقع پر خان عبدالغفار خان کی سوانح عمری شائع ہوئی ہے ، جس کے بارے میں بحث جاری ہے،حالانکہ اصل کتاب پشتو زبان میں ہے جس کا انگریزی ترجمہ :’مائی لائف اینڈ سٹرگل‘ (میری زندگی اور جدوجہد)کے نام سے شائع ہوا ہے۔ یہ کتاب قبائلی ثقافت ، شمال مغربی سرحد کی تاریخ کے ساتھ ساتھ مجاہدین آزادی اور تقسیم کے واقعات پر مبنی ہے۔
افغانستان میں رونما ہونے والی موجودہ تبدیلیوں کے وقت اس کتاب کی اہمیت اور زیادہ اہم ہو جاتی ہے کہ کس طرح افغان عوام قدیم رسم و رواج پر عمل کرتے ہوئے ایک ترقی پسند اور جدید مہذب معاشرے کی طرف بڑھ رہے تھے۔ طالبان کے ترجمان کا یہ بیان مایوس کن ہے ، جس میں اس نے افغانستان میں جمہوری نظام کے امکان کو مسترد کردیا ہے۔ طالبان ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کے ملک میں جمہوری نظام کی بنیاد نہیں ہے۔
افغانستان کی انتظامیہ شرعی قوانین کے تحت چلائی جائے گی۔ پہلے ہی افغانوں کو بڑے پیمانے پر ملک چھوڑنے پر مجبور ہو ناپڑا ہے۔ اس بحران کے بعد روزانہ تقریباً 30 ہزار افغانی ملک چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔ افغان اپنی سرحدوں کی حفاظت اور اپنے قبائل کے تحفظ کے لیے مشہور ہیں۔ سب سے زیادہ ظلم وزیادتی آزادی سے سابق انگریزوں نے انہی قبائلی گروہوں کے خلاف کی تھی ۔ مگرشاید کسی نےتصور بھی نہیں کیا ہوگا کہ دو دہائیوں میں 85 ارب ڈالر کی لاگت سے تیار اور تربیت یافتہ افغان سیکورٹی فورسز کی طرف سے گولی تک نہ چلائی گئی۔ بادشاہ خان اگر آج ہوتےوہ پاکستان – افغانستان میں ان کی چلتی ، توطالبانی سفاکی کے آگے وہ کبھی گھٹنے نہیں ٹیکتے۔ بادشاہ خان کی روح افغانوں کی بہادرکہانیوں کے ان کے قصے وکہانیوں سے بھری ہے ۔
وہ اپنے عوام کے درمیان پیار سے باچا خاں،بادشاہ خاں، فخرے افغان وغیرہ ناموں سے پکار جاتے تھے ، لیکن گاندھی جی سے قربت اورمتحدہ ہندوستان کےسرحدی علاقےسے تعلق رکھنے کی وجہ سے انہیں ’ فرنٹیر گاندھی‘ کے نام سے زیادہ جانا جاتا ہے ۔ بھارت سرکار نے ان کی قربانیوں کے کام کو سراہتے ہوئے انہیں ’ بھارت رتن‘ سے نوازا ۔ 1890 سے شروع ہو کر 1988 تک چلی ان کی زندگی سفر منفرد واقعات سے جڑی ہوئی ہے ۔ ان کی آخری سفر میں اس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی بھی شامل ہوئے تھے ۔
’خدائی خدمتگار ‘ نامی تنظیم کا ہدف مختلف قبائل کو تعلیم یافتہ بنا کر جدید دور میں داخل کرانا تھا۔ اس تنظیم کو جہاں انگریز ایک باغی اور دہشت گرد تنظیم سمجھتے تھے ، وہیں مسلم لیگ کے لیڈروں کی پیشانی اس لئے تنی رہتی تھی کہ کانگریس پارٹی کے پروگرام میں ان کا قائدانہ رول ہوتا تھا ۔ باد شاہ خاں برصغیر پاک و ہند کے سب سے طویل عرصے تک قید رہنے والے (28 سال) ہیں۔ انہیں بھارت کی تقریباًتمام اہم ضلع میں سزا کاٹنے کا تجربہ تھا۔ جس میں گجرات، سابرمتی، ہزاری باغ، بریلی ، الموڑا، ممبئی ،لاہور وغیر شامل ہیں۔ جواہر لال نہرو، سردار پٹیل ،راجندر پرساد سمیت تمام نامور شخصیات کے ساتھ انہوں نے تجربات شیئر کئےہیں۔
سن 1918 کے ہسپانوی فلو کےشکار ہوئے اور کئی رشتہ داروں کو کھونے کا درد بھی محسوس کیا ۔ مہاتما گاندھی کی جہد وجہد آمادی میں اہم کردار ادا کیا۔ سابرمتی آشرم ، سیوا گرام اور بعد میں 1947 میں پٹنہ قیام کے دوران انہیں گاندھی جی کا بھرپور قربت ملی۔ انہوں نے نظر انداز پشتونوں کو تحریک آزادی کی سرکردہ قوت بنایا اور شمال مغربی سرحد میں دوبارہ حکومت بنا کر اپنی مقبولیت ثابت کی۔
برٹش نمائندوں سے وقت وقت پر ہونے والی تقریباً تمام اہم میٹنگوں میں نہرو، پٹیل، مولاناآزاد کے علاوہ گاندھی کے پسندیدہ کردار کے طور موجود رہتے تھے ۔ مسلم لیگ اور جنا کے پاکستان کے الگ قوم کے نظریے کا انہوں نے تمام فورمز سے شدید مخالفت کی، جس کے لیے انہیں پاکستان بننے کےبعد 10 سال سے زیادہ عرصہ تک وہاں کی اضلاع میں شدید اذیتیں برداشت کرنی پڑیں۔
وہ تقسیم ہند کے بارے میں گاندھی ، نہرو ، پٹیل ، راجا جی سے مایوس تھے۔ انہوں نے تمام کو کئی مواقع پرخبردار کیا کہ تقسیم کےبعد یہ لوگ بھوکے بھیڑیں کی طرح ہمیں نگل جائیں گے۔ بعد کے دنوں میں پاکستانی حکومت کےذریعہ انہیں وہ ان کےپریوار کو دی گئی اذیتیں کو اب بھی لوگ یاد کرتے ہیں۔ پختون پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ تقریباً 50 لاکھ سے زیادہ ان کی آبادی ہے۔ تقسیم کے وقت ’سوویت پشتون‘ کے خواہاں باد شاہ خاں کو ملال رہا کہ ماؤنٹین ، بھارت و پاکستان ،تمام نے اسےلاگو نہیں ہونے دیا۔ انہیں گاندھی اور نہرو کے موقف پر زیادہ افسوس ہوا۔
جناح نے اس وقت کہا تھا کہ بادشاہ خان ہمارے مسلم بھائی ہیں ، لہٰذا ہم ان سے نجی طور پر بات کرکے معاملہ کوحل کریں گے ، لیکن سرحدی صوبے کی خود مختاری کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ بعد میں مولانا آزاد نے اپنی کتاب انڈیا ونز فریڈم میں ذکر کیا کہ ‘تمام مسائل پر’ مسلم لیگ ، کانگریس اور ماؤنٹ بیٹن کے درمیان پہلے ہی اتفاق ہو چکا تھا ، اس لیے کانگریس کی قیادت نے بادشاہ خان کو اندھیرے میں رکھا۔ ‘
بادشاہ خان بہت پریشان تھے اور ناراض بھی تھے کہ کس طرح سرحدی صوبے کے لوگوں نے مسلم لیگ کی مخالفت کرکے کانگریس کا ساتھ دیا ، پھر بھی ان کے ساتھ یہ سلوک کیا گیا، حالانکہ کانگریس پارٹی کے رہنما عوامی مواقع پر انہیں بہت عزت دیتے رہے۔ کئی مواقع پر خود پنڈت نہرو ، سردار پٹیل ، گاندھی کے بیٹے دیوداس گاندھی ان کی قیادت کے لیے موجود رہتے تھے۔ راجندر پرساد ، مولانا آزاد وغیرہ نے بھی انہیں کانگریس کا صدر بننے پر قائل کرنے کی کوشش کی تھی ، لیکن وہ ‘’خدائی خدمتگار‘ کو بنی نوع انسان کی خدمت کا بہترین ذریعہ سمجھتے تھے۔
تقریباً 555صفحات میں پھیلی یہ سوانح عمری تاریخ کے ساتھ تقسیم ہند کی پریشانیوں کو بیان کرتی ہے۔ کس طرح پاکستان کے ذریعہ نظرانداز کئے گئے علاقوں کو پشتونوں نے انگریزوں سے آزادی اور غیرتقسیم شدہ بھارت کے لیے جد وجہد کیا اور اذیتیں برداشت کیں،لیکن بھارت کا بٹوارا انہیں سب سے بڑی تکلیف دے گیا۔ بادشاہ خاں آخری وقت تک جمہوریت اور سچ-عدم تشدد-محبت کے حامی رہے۔ پتہ نہیں ، آج کے پٹھان یا افغانی بادشاہ خان کو کتنا یاد کرتے ہیں؟










