اردو
हिन्दी
مئی 3, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

افغانی بہادری کی بے مثال علامت

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ گراونڈ رپورٹ
A A
0
افغانی بہادری کی بے مثال علامت
88
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر: کے سی تیاگی
سینئر لیڈر (جے ڈی یو )

آزادی کے امرت مہوتسو کے موقع پر خان عبدالغفار خان کی سوانح عمری شائع ہوئی ہے ، جس کے بارے میں بحث جاری ہے،حالانکہ اصل کتاب پشتو زبان میں ہے جس کا انگریزی ترجمہ :’مائی لائف اینڈ سٹرگل‘ (میری زندگی اور جدوجہد)کے نام سے شائع ہوا ہے۔ یہ کتاب قبائلی ثقافت ، شمال مغربی سرحد کی تاریخ کے ساتھ ساتھ مجاہدین آزادی اور تقسیم کے واقعات پر مبنی ہے۔

افغانستان میں رونما ہونے والی موجودہ تبدیلیوں کے وقت اس کتاب کی اہمیت اور زیادہ اہم ہو جاتی ہے کہ کس طرح افغان عوام قدیم رسم و رواج پر عمل کرتے ہوئے ایک ترقی پسند اور جدید مہذب معاشرے کی طرف بڑھ رہے تھے۔ طالبان کے ترجمان کا یہ بیان مایوس کن ہے ، جس میں اس نے افغانستان میں جمہوری نظام کے امکان کو مسترد کردیا ہے۔ طالبان ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کے ملک میں جمہوری نظام کی بنیاد نہیں ہے۔

افغانستان کی انتظامیہ شرعی قوانین کے تحت چلائی جائے گی۔ پہلے ہی افغانوں کو بڑے پیمانے پر ملک چھوڑنے پر مجبور ہو ناپڑا ہے۔ اس بحران کے بعد روزانہ تقریباً 30 ہزار افغانی ملک چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔ افغان اپنی سرحدوں کی حفاظت اور اپنے قبائل کے تحفظ کے لیے مشہور ہیں۔ سب سے زیادہ ظلم وزیادتی آزادی سے سابق انگریزوں نے انہی قبائلی گروہوں کے خلاف کی تھی ۔ مگرشاید کسی نےتصور بھی نہیں کیا ہوگا کہ دو دہائیوں میں 85 ارب ڈالر کی لاگت سے تیار اور تربیت یافتہ افغان سیکورٹی فورسز کی طرف سے گولی تک نہ چلائی گئی۔ بادشاہ خان اگر آج ہوتےوہ پاکستان – افغانستان میں ان کی چلتی ، توطالبانی سفاکی کے آگے وہ کبھی گھٹنے نہیں ٹیکتے۔ بادشاہ خان کی روح افغانوں کی بہادرکہانیوں کے ان کے قصے وکہانیوں سے بھری ہے ۔

وہ اپنے عوام کے درمیان پیار سے باچا خاں،بادشاہ خاں، فخرے افغان وغیرہ ناموں سے پکار جاتے تھے ، لیکن گاندھی جی سے قربت اورمتحدہ ہندوستان کےسرحدی علاقےسے تعلق رکھنے کی وجہ سے انہیں ’ فرنٹیر گاندھی‘ کے نام سے زیادہ جانا جاتا ہے ۔ بھارت سرکار نے ان کی قربانیوں کے کام کو سراہتے ہوئے انہیں ’ بھارت رتن‘ سے نوازا ۔ 1890 سے شروع ہو کر 1988 تک چلی ان کی زندگی سفر منفرد واقعات سے جڑی ہوئی ہے ۔ ان کی آخری سفر میں اس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی بھی شامل ہوئے تھے ۔

’خدائی خدمتگار ‘ نامی تنظیم کا ہدف مختلف قبائل کو تعلیم یافتہ بنا کر جدید دور میں داخل کرانا تھا۔ اس تنظیم کو جہاں انگریز ایک باغی اور دہشت گرد تنظیم سمجھتے تھے ، وہیں مسلم لیگ کے لیڈروں کی پیشانی اس لئے تنی رہتی تھی کہ کانگریس پارٹی کے پروگرام میں ان کا قائدانہ رول ہوتا تھا ۔ باد شاہ خاں برصغیر پاک و ہند کے سب سے طویل عرصے تک قید رہنے والے (28 سال) ہیں۔ انہیں بھارت کی تقریباًتمام اہم ضلع میں سزا کاٹنے کا تجربہ تھا۔ جس میں گجرات، سابرمتی، ہزاری باغ، بریلی ، الموڑا، ممبئی ،لاہور وغیر شامل ہیں۔ جواہر لال نہرو، سردار پٹیل ،راجندر پرساد سمیت تمام نامور شخصیات کے ساتھ انہوں نے تجربات شیئر کئےہیں۔

سن 1918 کے ہسپانوی فلو کےشکار ہوئے اور کئی رشتہ داروں کو کھونے کا درد بھی محسوس کیا ۔ مہاتما گاندھی کی جہد وجہد آمادی میں اہم کردار ادا کیا۔ سابرمتی آشرم ، سیوا گرام اور بعد میں 1947 میں پٹنہ قیام کے دوران انہیں گاندھی جی کا بھرپور قربت ملی۔ انہوں نے نظر انداز پشتونوں کو تحریک آزادی کی سرکردہ قوت بنایا اور شمال مغربی سرحد میں دوبارہ حکومت بنا کر اپنی مقبولیت ثابت کی۔

برٹش نمائندوں سے وقت وقت پر ہونے والی تقریباً تمام اہم میٹنگوں میں نہرو، پٹیل، مولاناآزاد کے علاوہ گاندھی کے پسندیدہ کردار کے طور موجود رہتے تھے ۔ مسلم لیگ اور جنا کے پاکستان کے الگ قوم کے نظریے کا انہوں نے تمام فورمز سے شدید مخالفت کی، جس کے لیے انہیں پاکستان بننے کےبعد 10 سال سے زیادہ عرصہ تک وہاں کی اضلاع میں شدید اذیتیں برداشت کرنی پڑیں۔

وہ تقسیم ہند کے بارے میں گاندھی ، نہرو ، پٹیل ، راجا جی سے مایوس تھے۔ انہوں نے تمام کو کئی مواقع پرخبردار کیا کہ تقسیم کےبعد یہ لوگ بھوکے بھیڑیں کی طرح ہمیں نگل جائیں گے۔ بعد کے دنوں میں پاکستانی حکومت کےذریعہ انہیں وہ ان کےپریوار کو دی گئی اذیتیں کو اب بھی لوگ یاد کرتے ہیں۔ پختون پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ تقریباً 50 لاکھ سے زیادہ ان کی آبادی ہے۔ تقسیم کے وقت ’سوویت پشتون‘ کے خواہاں باد شاہ خاں کو ملال رہا کہ ماؤنٹین ، بھارت و پاکستان ،تمام نے اسےلاگو نہیں ہونے دیا۔ انہیں گاندھی اور نہرو کے موقف پر زیادہ افسوس ہوا۔

جناح نے اس وقت کہا تھا کہ بادشاہ خان ہمارے مسلم بھائی ہیں ، لہٰذا ہم ان سے نجی طور پر بات کرکے معاملہ کوحل کریں گے ، لیکن سرحدی صوبے کی خود مختاری کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ بعد میں مولانا آزاد نے اپنی کتاب انڈیا ونز فریڈم میں ذکر کیا کہ ‘تمام مسائل پر’ مسلم لیگ ، کانگریس اور ماؤنٹ بیٹن کے درمیان پہلے ہی اتفاق ہو چکا تھا ، اس لیے کانگریس کی قیادت نے بادشاہ خان کو اندھیرے میں رکھا۔ ‘

بادشاہ خان بہت پریشان تھے اور ناراض بھی تھے کہ کس طرح سرحدی صوبے کے لوگوں نے مسلم لیگ کی مخالفت کرکے کانگریس کا ساتھ دیا ، پھر بھی ان کے ساتھ یہ سلوک کیا گیا، حالانکہ کانگریس پارٹی کے رہنما عوامی مواقع پر انہیں بہت عزت دیتے رہے۔ کئی مواقع پر خود پنڈت نہرو ، سردار پٹیل ، گاندھی کے بیٹے دیوداس گاندھی ان کی قیادت کے لیے موجود رہتے تھے۔ راجندر پرساد ، مولانا آزاد وغیرہ نے بھی انہیں کانگریس کا صدر بننے پر قائل کرنے کی کوشش کی تھی ، لیکن وہ ‘’خدائی خدمتگار‘ کو بنی نوع انسان کی خدمت کا بہترین ذریعہ سمجھتے تھے۔

تقریباً 555صفحات میں پھیلی یہ سوانح عمری تاریخ کے ساتھ تقسیم ہند کی پریشانیوں کو بیان کرتی ہے۔ کس طرح پاکستان کے ذریعہ نظرانداز کئے گئے علاقوں کو پشتونوں نے انگریزوں سے آزادی اور غیرتقسیم شدہ بھارت کے لیے جد وجہد کیا اور اذیتیں برداشت کیں،لیکن بھارت کا بٹوارا انہیں سب سے بڑی تکلیف دے گیا۔ بادشاہ خاں آخری وقت تک جمہوریت اور سچ-عدم تشدد-محبت کے حامی رہے۔ پتہ نہیں ، آج کے پٹھان یا افغانی بادشاہ خان کو کتنا یاد کرتے ہیں؟

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

ہم متبادل ورلڈ آرڈر کے حق میں، ٹیرف متاثرین کے لیے سرکار ہر ضروری قدم اٹھائے: امیر جماعت
گراونڈ رپورٹ

ہم متبادل ورلڈ آرڈر کے حق میں، ٹیرف متاثرین کے لیے سرکار ہر ضروری قدم اٹھائے: امیر جماعت

06 ستمبر
سنبھل فساد کی تحقیقاتی رپورٹ میں ایسا کیا ہے کہ یوگی حکومت پر اٹھے سوال دبا دیئے گیے؟
گراونڈ رپورٹ

سنبھل فساد کی تحقیقاتی رپورٹ میں ایسا کیا ہے کہ یوگی حکومت پر اٹھے سوال دبا دیئے گیے؟

01 ستمبر
آسام:بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت وتشدد میں بےحد اضافہ:India Hate Lab نے نیا ڈیٹا جاری کیا
گراونڈ رپورٹ

آسام:بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت وتشدد میں بےحد اضافہ:India Hate Lab نے نیا ڈیٹا جاری کیا

03 اگست
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN