لکھنؤ : (ایجنسی)
مدارس کی رجسٹریشن کا آن لائن عمل شروع ہونے کے بعد ریاست میں 8500 مدارس بند ہوگئے۔ ان میں پڑھنے والے تقریباًچار لاکھ بچوں کا مستقبل بیچمیں پھنس گیا ہے۔ اس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی حکومت کی وزارت اقلیتی امور نے ان بچوں کے بارے میں مکمل معلومات جمع کرنے کی ہدایات دی ہیں۔ تاہم چار سال میں سامنے آئے ان غیر رجسٹرڈ مدارس کے ڈر اپ آؤٹ بچوں کا پتہ لگانے میں ریاست کے ذمہ دار ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہے۔ اب مرکز سے سوال – جواب ہونے کے بعد تلاش میں مصروف ہوگئےہیں۔
مدارس کی آن لائن رجسٹریشن کا پورٹل سال 2017 میں شروع کیا گیا تھا۔ اس وقت جب یہ پورٹل شروع کیا گیا تھا ، اتر پردیش میں 19 ہزار سے زائد مدارس تھے۔ مدرسہ منتظمین کو رضاکارانہ طور پر پورٹل پر رجسٹر کرنا تھا۔ رجسٹریشن کے بعد ضلع سطح پر تصدیق کرائی گئی۔ تصدیق کے بعد مدارس کی تعداد صرف ساڑھے دس ہزار ہی سامنے آئی۔ یعنی اب ریاست میں صرف اتنے ہی مدارس رجسٹرڈ ہیں ، باقی مدارس بند ہو چکے ہیں۔
انڈیا ہیبی ٹیٹ سینٹر دہلی میں وزارت اقلیتی امور کے سیمینار میں یہ بات سامنے آئی کہ اتر پردیش میں پورٹل کے شروع ہونے کے بعد ساڑھے آٹھ ہزار مدارس کا رجسٹر نہیں ہو پایا اور یہ بند ہوگئے ہیں۔ وزارت کی جانب سے یہ سوال پیدا ہوا کہ اگر فی مدرسہ میں اوسطاًپچاس بچے بھی ہوں گے تو چار لاکھ سے زیادہ بچے کہاں چلے گئے؟ ان ڈاپ آؤٹ بچوںکو تلاش کرنے کےلیے کیا کیا گیا ؟بچوں کا مستقبل کیا ہوگا؟
یہ طے کیا گیا کہ اتر پردیش اقلیتی فلاح وبہبود محکمہ اس پر کام کرے اور ان تمام بچوں کا ڈیٹا تیار کرائے۔ ایسے تمام بچوں کو دوسرے مدارس یا اسکولوں سے منسلک کیا جانا چاہیے۔ میٹنگ میں ریاست سے پرنسپل سکریٹری اقلیتی فلاح وبہبود کے رویندر نائک ، ڈائریکٹر اندومتی ، رجسٹرار مدرسہ بورڈ آر پی سنگھ ، جوائنٹ ڈائریکٹر ایس این پانڈے بھی موجود تھے۔
ریاست میں پچھلے چار سالوں سے کسی نئے مدرسے کومنظوری نہیں ملی ہے ۔ ان بچوں کے ڈاپ آؤٹ ہونے کاایک بڑی وجہ یہ بھی ہے ،حالانکہ مانا جا رہاہے کہ اس سال کچھ مدرسوںکو منظوری دی جاسکتی ہے ۔
یو پی مدرسہ بورڈ جہاں بورڈ آف اسکول ایجوکیشن آف انڈیا (COBSE) میں رجسٹر کرنے کی تیاری کر رہا ہے ، تو وہیں اب نئی جدوجہد شروع ہوگئی ہے ۔اس میٹنگ میں دی گئی تجویز کے بعد ایسوسی ایشن آف انڈین یونیورسٹیز (اے آئی یو) میں بھی رجسٹر کرانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ ارادہ یہ ہے کہ مدرسہ بورڈ سے رجسٹرڈ طلباء و طالبات ہر قسم کی نوکریوں میں جا سکیں ۔ پرنسپل سکریٹری برائے اقلیتی فلاح و بہبود رویندر نائک نے کہا کہ ہم اس کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔
محکمہ اقلیتی بہبود کے پرنسپل سکریٹری کےرویندر نائک کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس مدارس کی تقریباًپانچ ہزار درخواستیں زیر التوا ہیں ، جن کی تصدیق کی جا رہی ہے۔ بہت کم درخواست گزار ہیں جو معیار پر پورا اترتے ہیں۔ بچوں کو آدھار کارڈ سے جوڑ کر رجسٹریشن کرایا جا رہا ہے تاکہ تمام کا پتہ چل سکے۔ ڈاپ آؤٹ بچوں کو بھی تلاش کرنے کی کوشش چل رہی ہے ۔










