لکھنؤ:(ایجنسی)
اترپردیش میں اس سال کے شروع میں ہی اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ یوپی اسمبلی انتخابات کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں اور کمیشن کسی بھی وقت انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کر سکتا ہے۔ اس درمیان اترپردیش میں اس بار پھر یوگی سرکار بنے گی یہ توانتخاب کے نتائج ہی بتائیں گے ۔ مگر ابھی سے سیاسی ہواؤں سے سیاست کی تصویر جھلکنے لگی ہے کہ کس کےحق میں ہوا ہے ۔ اتر پردیش کی سیاسی جنگ میں کون جیتے گا اور کون ہارے گا، ایسے ہی کچھ سوالات کے حوالے سے ایک انتخابی سروے سامنے آیا ہے، جس میں چونکا دینے والے اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ اے بی پی-سی-ووٹر کے سروے کے مطابق، اس الیکشن میں بھی بی جے پی کے حق میں ماحول بنتا نظر آ رہا ہے، لیکن ایس پی اسے برابر کی ٹکر دے رہی ہے۔
اے بی پی-سی ووٹر کے سروے میں اتر پردیش کے لوگوں سے پوچھا گیا کہ اگر آج انتخابات ہوتے ہیں تو اتر پردیش میں کون جیتے گا، جواب میں جو اعداد و شمار سامنے آئے ہیں وہ بی جے پی کے حق میں ہیں، لیکن ایس پی کا بڑھتا گراف انہیں پریشان کر رہا ہے۔ درحقیقت، سروے میں شامل تقریباً 41 فیصد لوگوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی دوبارہ اقتدار میں آئے گی۔ ساتھ ہی عوام کے موڈمیں ایس پی کے تئیں پیار بھی بڑھتا نظر آرہاہے۔ تقریباً 33 فیصد لوگوں نے سماج وادی پارٹی کے حق میں اپنی رائے دی ہے۔
یوپی میں بی ایس پی کی حکومت بنے گی،اس حق میں محض 12 فیصد لوگ ہی تھے، وہیں 8 فیصد لوگوں کا ماننا ہے کہ کانگریس سرکار بن سکتی ہے۔ اس کےعلاوہ 6 فیصد لوگوںنے کہاکہ کوئی اورپارٹی سرکار بنا سکتی ہے۔ اگرعوام کے موجودہ موڈ کوہی دیکھا جائے تو بی جے پی اورایس پی میں محض 8 فیصد کا فرق ہے۔ یعنی ایس پی کےحق میں بھی ہوا بنتی نظر آرہی ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس سروے میں 12 ہزار سے زیادہ لوگوںنے حصہ لیاہے۔










