لکھنؤ: (ایجنسی)
یوپی اسمبلی انتخابات میں صرف چند ماہ باقی ہیں۔ ایسے میں بی جے پی، ایس پی، کانگریس اور بی ایس پی اپنی حکمت عملی بنانے میں سرگرم ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اے بی پی سی ووٹر کے تازہ سروے سے پتہ چلا ہے کہ 2022 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی حکومت دوبارہ واپس آسکتی ہے۔ اس سروے کے مطابق سماج وادی پارٹی بی جے پی کو سخت مقابلہ دے سکتی ہے۔
ایس پی دے رہی ہے سخت ٹکر:
16 دسمبر کے اعداد و شمار کے مطابق سروے میں شامل 47 فیصد لوگوں کا ماننا ہے کہ آنے والے انتخابات میں بی جے پی کی حکومت بنے گی۔ وہیں 31 فیصد ایس پی حکومت کی بات کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بی ایس پی اور کانگریس بہت پیچھے دکھائی دے رہی ہیں۔بتا دیں کہ جہاں 8 فیصد لوگ کہتے ہیں کہ ریاست میں بی ایس پی کی حکومت بنے گی، وہیں 6 فیصد لوگ کانگریس کی واپسی بتا رہے ہیں۔
ان اعداد و شمار سے یہ واضح ہے کہ اکھلیش یادو کی پارٹی ایس پی یوپی انتخابات میں حکمراں بی جے پی کو سخت ٹکر دے رہی ہے۔ وہیں ، 12 دسمبر کے اے بی پی سی-ووٹر کے سروے میں پتہ چلا ہے کہ بی جے پی کو 212-224 سیٹیں مل سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ ایس پی کو 151-163 سیٹیں، بی ایس پی کو 12-24 سیٹیں اور کانگریس کو 2-10 سیٹیں ملنے کی امید ہے۔
واضح رہے کہ جیسے جیسے یوپی انتخابات قریب آرہے ہیں، ایس پی سربراہ اکھلیش یادو اپنی حکمت عملی کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ 16 دسمبر کو اکھلیش یادو نے اپنے چچا اور پرگتی شیل سماج وادی پارٹی کے صدر شیو پال سنگھ یادو سے ملاقات کی۔ یوپی کی سیاست کے پیش نظر اس میٹنگ کو کافی اہم سمجھا جا رہا ہے۔
دراصل شیو پال یادو کئی دنوں سے کہہ رہے تھے کہ انہوں نے اکھلیش یادو سے ملنے کا وقت مانگا ہے لیکن اب تک انہیں وقت نہیں ملا ہے۔ اس دوران جمعرات کو اکھلیش یادو شیو پال سے ملنے ان کے گھر پہنچے۔ دونوں کی ملاقات تقریباً 45 منٹ تک ہوئی۔ اس ملاقات کے بعد ایس پی اور پی ایس پی کے درمیان اتحاد کا اعلان کیا گیا۔
دوسری طرف، بی جے پی کے قومی ترجمان شہزاد پونا والا نے اس میٹنگ پر طنز کرتے ہوئے کہا، ’کیا اکھلیش یادو نے شیو پال یادو کے ذریعہ انہیں (اکھلیش یادو) 2018 میں کانس کہنے کےلیے معافی منگوائی یا پھر اکھلیش یادو نے مان لیا کہ ان کے چچا نے جس جملے کا استعمال کیا تھا ،وہ صحیح تھا۔
انہوں نے کہا کہ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے عوام کے لیے کیا کیا؟ پونا والا نے اکھلیش یادو پر کنبہ پروری کا الزام لگاتے ہوئے کہاکہ ایس پی لیڈر آئی پی سنگھ کبھی اس پارٹی کےصدربن سکتےہیں کیا؟










