لکھنؤ : (ایجنسی)
کانگریس اب اترپردیش میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لیے آر ایس ایس کی طرز پر خاص کارکنوں کی فوج تیار کررہی ہے۔ کانگریس کا ماننا ہے کہ آر ایس ایس اور بی جے پی کے ‘’جھوٹے ایجنڈے‘ سے لڑنے کا یہی واحد طریقہ ہے۔ اس کے لیے کچھ خاص کارکنوں کو منتخب کیا گیا ہے ، جو کہ کانگریس پارٹی کے نظریے پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کو ٹرینگ دینے کے ارادے سے ایک کتابچہ بھی تیار کیا گیا ہے جس میں کل 14 ابواب ہیں۔ پارٹی کے مطابق بی جے پی-آر ایس ایس کی طرف سے پھیلائے گئے جھوٹ اور الزامات کی سچائی ہر باب میں بتائی گئی ہے۔
کانگریس کے کتابچہ کا پہلا باب قوم پرستی کے بارے میں ہے۔ یہاں پارٹی اپنے کارکنوں کو بی جے پی-آر ایس ایس کے پروپیگنڈے کے بارے میں سمجھا رہی ہے ، جس کے مطابق ’کانگریس پارٹی ملک مخالف سرگرمیوں کی حمایت کرتی ہے، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی ایک قوم پرست پارٹی ہے۔‘ کتابچہ میں اگلا باب بی جے پی کا مقبول پروپیگنڈا ہے ، جس کے مطابق ’جواہر لال نہرو نے سردار ولبھ بھائی پٹیل کو وزیر اعظم نہیں بننے دیاتھا‘۔ پارٹی یہاں ایک ایک باب کے ذریعہ کارکنوں کو سمجھانےکی کوشش کررہی ہے کہ کس طرح سے کانگریس کےحلاف ماحول تیار کیا گیا۔
کانگریس نے اپنے کتابچہ میں اسی طرح کے کئی مسائل کو شامل کیا ، جس میں ’ اگر پٹیل وزیر اعظم ہوتے تو ملک کو کئی مسائل کا سامنا ہی نہیں کرنا پڑتا‘۔’ کانگریس نے گزشتہ 70 سالوں میں کچھ نہیں کیا‘ ۔مہاتما گاندھی اور کانگریس لیڈروں نے بھگت سنگھ کی پھانسی کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا‘۔ نہرو نے دفعہ 370 کو لاگو کرکے کشمیر کو بھارت سے الگ رکھا۔‘ کشمیر ی پنڈتوں پر استحصال کے لیے کانگریس ذمہ داری تھی۔‘ ’کانگریس نے دہشت گردوں کو بریانی کھلائی‘جیسے مسائل شامل ہیں۔ اس کتابچہ کا ٹائٹل ’ ہم کانگریس کے لوگ- پروپیگنڈہ اور سچ‘ ہے ۔
کانگریس کے ایک سینئر لیڈر نے اخبار ٹائمز آف انڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایسے کارکنوں کی ضرورت ہے جو کچھ ’جھوٹے پروپیگنڈے‘ کا مقابلہ کرنے کے لیے کانگریس کے نظریے پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم گزشتہ تین دہائیوں سے ریاست میں اقتدار سے باہر ہیں ، اس لیے ہم 2022 سے پہلے آر ایس ایس جیسی تنظیم بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ اس تصور نے ہمیں چھتیس گڑھ میں فائدہ پہنچایا، جہاں بھوپیش بگھیل کی قیادت میں ایک کامیاب حکومت چل رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چھتیس گڑھ میں گرام پنچایت کی سطح پر کیڈر تیار کیا گیا ہے۔
کانگریس لیڈر نے بتایا کہ اسے تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جبکہ سوشل میڈیا کی نگرانی سابق صحافی اور اب کانگریس لیڈر ونود ورما کر تے ہیں ، وہیں بوتھ اور گرام پنچایت سطح پر مضبوطی دینے کا نام کانگریس سکریٹری راجیش تیواری کی رہنمائی میں کیا گیا تو وہیں سابق وزیر اعظم آنجہانی اٹل بہاری واجپئی کی بھتیجی کرونا شنکر شکلا کی قیادت میں سیاسی فریم ورک تیار کیا گیا تھا ۔
یوپی کانگریس کارکنوں کو ٹریننگ کی ذمہ داری راجیش تیواری کو ہی دی گئی ہے ۔ گزشتہ دنوں انہیںپرینکا گاندھی کی ٹیم کے ساتھ جوڑا گیا تھا۔ اس کے علاوہ اترپردیش کے کارکنوں کے ٹریننگ کی دیکھ ریکھ سندیپ سنگھ بھی کررہے ہیں جوکہ پرینکا گاندھی کے سیاسی مشیر بھی ہیں۔ ذرائع کے مطابق پارٹی نے بلاک لیول پر ٹریننگ پروگرام پورا کرلیا ہے ۔ تقریباً18 ہزار افراد کو یہ ٹریننگ دی جاچکی ہے ،20 ستمبر تک دیگر کی ٹریننگ بھی پوری ہونے کے امکان ہے ۔ ذرائع کے مطابق پارٹی کی کوشش ہے کہ نومبر مہینہ تک کم سے کم 2 لاکھ کیڈر تیار کرلیاجائے گا۔










