نئی دہلی :(ایجنسی)
| غیر قانونی سرگرمیاں( روک تھام) ایکٹ (UAPA) کے تحت پچھلے تین سالوں میں سب سے زیادہ گرفتاریاں اتر پردیش میں ہوئی ہیں۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اتر پردیش میں گزشتہ تین سالوں میں 1338 لوگوں کو گرفتار کیا گیا جن میں 70 فیصد نوجوان ہیں۔
انڈیا ٹومارو کے مطابق یوپی میں یوگی حکومت کے تحت یو اے پی اے کے تحت گرفتاریوں کی یہ سب سے زیادہ تعداد ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ان میں 70 فیصد نوجوان ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یو اے پی اے کے تحت کارروائی کے معاملات میں منی پور دوسرے نمبر پر ہے، جہاں تین سالوں میں 943 لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ اسی طرح کشمیر میں یو اے پی اے کے تحت 766 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔
گزشتہ تین سالوں میں یو اے پی اے کے تحت کی گئی گرفتاریوں میں سے 50 فیصد سے زیادہ 30 سال سے کم عمر کے نوجوان ہیں اور سب سے زیادہ گرفتاریاں اتر پردیش میں ہوئی ہیں۔
یہ جانکاری وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے پیر کو لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں دی۔معلومات دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ نے یہ بھی بتایا تھا کہ فی الحال حکومت اس قانون میں کسی تبدیلی پر غور نہیں کر رہی ہے۔
گزشتہ تین سالوں میں یو اے پی اے کے تحت 50 فیصد سے زیادہ گرفتاریاں 30 سال سے کم عمر کے نوجوانوں کی ہوئی ہیں۔ ان گرفتاریوں میں اتر پردیش سب سے آگے ہے۔ وزارت داخلہ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2018 سے 2020 کے درمیان یو اے پی اے کے تحت 4690 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔
این ڈی ٹی وی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گرفتار کیے گئے لوگوں میں 2501 کی عمریں 30 سال سے کم ہیں۔ ریاستوں میں یوپی میں پچھلے تین سالوں کے دوران سب سے زیادہ 1338 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان میں سے 69.58 فیصد یعنی 931 افراد کی عمر 30 سال سے کم ہے۔
اسی طرح دوسرے نمبر پر منی پور ہے جہاں تین سال کے دوران 943 افراد اس قانون کے تحت گرفتار کئے گئے ہیں۔ جموں و کشمیر میں اس قانون کے تحت 766 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں سے 366 نوجوان ہیں۔
اپوزیشن کا الزام ہے کہ حکومت اس قانون کو مخالفین کو دبانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔










