کابل :
غیر ملکی میڈیا نے سوال اٹھا یا کہ امریکہ نے افغانستان میں تقریباً چار ہزار کھرب روپے خرچ کیے مگرکس کے لیے؟ امریکہ کی ایسی سرمایہ کاری جس کاانجام ذلت آمیز ہوا۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق براؤن یونیورسٹی کے مطالعے میں کہا گیا کہ 2001 کے بعد سے، امریکہ نے افغانستان میں3718 کھرب روپے( 2.26 ٹریلین ڈالر) خرچ کیے ہیں، ایک ایسی سرمایہ کاری جس سے امریکہ کی طویل ترین جنگ کا خاتمہ افراتفری، ذلت آمیزی پر ہوا،کسی بھی قوم کی تعمیر کی کوشش کی بنیاد سلامتی ہے۔
اگر لوگ محفوظ محسوس نہیں تو عدم استحکام، بدعنوانی اور بدعنوانی پنپتی ہے جبکہ رسمی معیشت مرجھا جاتی ہے۔امریکی حکومت نے جنگ کو فنڈ دینے کے لیے جو رقم لی تھی اس پر متوقع سود کی ادائیگی 872کھرب روپے(530ارب ڈالر)ہے۔ افغانستان میں غیر قانونی معیشت میں تیزی آئی ، 2001 میں امریکی افواج کی طرف سے طالبان کو اقتدار سے ہٹانے کے بعد، افغانستان نے افیون اور ہیروئن کے عالمی سپلائر کے طور پر اپنی جگہ کو مضبوط کر دیا۔
امریکی اخبار لاس اینجلس ٹائمز کے مطابق امریکہ نے افغان سیکورٹی فورسز کی تعمیر اور تربیت پر137کھرب روپے(83 بلین ڈالر) خرچ کر ڈالے، فورسز اتنی جلدی اور مکمل طور پرتہس نہس ہوگئیں کہ امریکی سرمایہ کاری کا حتمی فائدہ اٹھانے والے طالبان نکلے انہوںنے نہ صرف سیاسی طاقت حاصل کی بلکہ امریکی سپلائی فائر پاور،اسلحہ، گولہ بارود، ہیلی کاپٹر اور بہت کچھ بھی لے لیا۔
طالبان نے جدید فوجی سازوسامان پر قبضہ کر لی ۔جنگی طیاروں سمیت بڑے فوائد حاصل ہوئے ۔امریکی دفاعی عہدیدار نے تصدیق کی کہ طالبان کو امریکا کا فراہم کردہ سازوسامان بہت بڑا ہے۔ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی۔
امریکی فوج کے ساتھ انٹیلی جنس ایجنسیوں کیلئے بھی شرمندگی ہے کہ افغان فورسزنے لڑائی کے بجائے اپنی گاڑیاں اور ہتھیار ڈالنے کا انتخاب کیا۔پائیدار افغان فوج اور پولیس فورس بنانے میں امریکہ کی ناکامی، اور ان کے خاتمے کی وجوہات کا تجزیہ عسکری تجزیہ کار برسوں تک کریں گے۔
تاہم، بنیادی جہتیں واضح ہیں اور اس کے برعکس نہیں جو عراق میں ہوا۔ افواج کھوکھلی نکلی، اعلیٰ ہتھیاروں سے لیس لیکن بڑی حد تک جنگی محرک کا اہم جزو غائب ہے۔










