نیویارک :
امریکہ نے افغان سینٹرل بینک سے جڑی تقریباً 9.5ارب ڈالر کے اثاثے کو فریج کردیا ہے اور ملک کو نقدی کے شپمنٹ کو روک دیا ہے ۔ امریکہ نے طالبان کی قیادت والی سرکار کو پیسوں تک پہنچانے سے روکنے کے لیے یہ قدم اٹھایا ہے۔ ’ بلومبرگ‘ نے یہ جانکاری دی ہے ۔
افسران نے کہاکہ امریکہ میں افغان سرکار کے پاس سینٹرل بینک کے کوئی بھی اثاثے طالبان کے لیے دستیاب نہیں ہوںگے۔ ٹریجری ڈپارٹمنٹ کے ذریعہ اس پر پابندی لگا دی گئی ہے ۔ ملک کے سینٹرل بینک دی افغان بینک کے قائم مقام سربراہ اجمل احمدی نے پیرکو ٹیویٹ کیا کہ انہیں جمعہ کو معلوم چلا کہ ڈالر کا شپمنٹ بند کردیاجائے گا کیونکہ امریکہ نے فنڈ تک پہنچ حاصل کرنے کے لیے طالبان کے کسی بھی کوشش کو روکنے کی کوشش کی ہے ۔
ڈی اے بی کے پاس 9.5ارب ڈالر کے اثاثے ہیں، جس کا ایک بڑا حصہ نیویارک فیڈرل ریزرو اور امریکہ میں قائم مالیاتی اداروں کے اکاؤنٹس میں ہے ۔ طالبان پر امریکی پابندی کا مطلب ہے کہ وہ کسی بھی رقم کااستعمال نہیں کرسکتے ۔ معاملے سے واقف دو لوگوں کے مطابق ڈی اے بی کے بیشتر اثاثے فی الحال افغانستان میں نہیںہے۔ افغان میڈیا نے کہا کہ افغانستان میں لاکھوں لوگوںکو واضح طور رپر متاثر کرنے والا فیصلہ طالبان کے ذریعہ افغانستان پر کنٹرول کرنے کے کچھ دنوں بعد آیا ہے۔











