اردو
हिन्दी
اپریل 23, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

افغانستان اور وسطی ایشیا میں امریکی حکمت عملی

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ متفرقات
A A
0
افغانستان اور وسطی ایشیا میں امریکی حکمت عملی
36
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

اشٹیفن زیمنز

افغانستان میں امریکی فوج نو ستمبر 2001 کے دہشت گردانہ حملوں کے دو ماہ بعد داخل ہوئی تھی۔ ابتدا میں ان فوجیوں کی تعداد محض ایک ہزار تین سو تھی۔ ان فوجیوں کا تعلق اسپیشل آپریشن کی رجمنٹ میرینز سے تھا۔ اس تعداد میں بتدریج اضافہ ہوتا چلا گیا اور 2010 میں امریکی فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ کے لگ بھگ ہو چکی تھی۔ ان فوجیوں کی تعیناتی کا بنیادی مقصد القاعدہ اور طالبان کی سرکوبی تھا۔

امریکی فوج کی آمد اور انخلا

افغانستان میں امریکی فوج کی تعیناتی کو نو برس گزرے تو خفیہ رپورٹس کی بنیاد پر القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کے پاکستان میں ٹھکانے پر بظاہر خفیہ فوجی کارروائی کی گئی اور اس میں بن لادن کو ہلاک کر دیا گیا۔ پھر گیارہ برسوں بعد امریکہ نے اپنے فوجیوں کی واپسی شروع کر دی اور اس وقت صرف چھ سو فوجی باقی رہ گئے ہیں۔

ان میں بھی زیادہ میرینز ہیں۔ میرینز کور کے فوجیوں کو کمانڈو بھی کہا جا سکتا ہے۔ ان کی ذمہ داری میں کابل میں امریکی سفارت خانے کی سیکورٹی اولین مقصد ہے۔ موجودہ امریکی صدر جو بائیڈن 31اگست سے قبل تمام امریکی فوجیوں کے انخلا کا اعلان کر چکے ہیں۔

نئی امریکی حکمت عملی

ابھی تک افغانستان کے بارے میں صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے کوئی واضح جامع پالیسی کے خد و خال ظاہر نہیں کیے ہیں، جن سے معلوم ہو سکے کہ واشنگٹن اس علاقے کے بارے میں کون سے مقاصد کی تکمیل اور مفادات کا تحفظ چاہتا ہے۔ مبصرین کے مطابق جو بھی امریکی پالیسی ترتیب دی جائے گی، وہ علاقائی جغرافیائی سیاسی اور جغرافیائی اقتصادی بنیاد پر ہوں گے اور ان میں اس کا تعین کیا جائے گا کہ کون کون سے قومی اور بین الاقوامی مفادات کو سکیورٹی فراہم کی جائے گی۔

امریکہ کے قومی سلامتی کے تجزیہ کار اور سینٹر برائے اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (CSIS) کے انتھنی کورڈسمین کا کہنا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کی خاموشی سے مایوسی بڑھ رہی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ سردست کوئی منصوبہ بنانا مشکل ہو سکتا ہے کیونکہ اس کا تعین کرنا مشکل ہے کہ آیا طالبان ملک کا کنٹرول سنبھال لیں گے۔ کورڈسمین کے مطابق اس صورت حال میں بائیڈن انتظامیہ کی کسی اسٹریٹجی کے بارے میں معلوم کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔

وسطی ایشیا کے لیے کوئی نئی حکمت عملی؟

اس وقت وائٹ ہاؤس کے حکام، وزارت خارجہ، پینٹاگون اور دوسری ایجنسیوں کے وہ اہلکار، جو امریکی خفیہ اداروں سے وابستہ ہیں، کے تجزیے اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ افغانستان میں سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد کی صورت حال کا انتظار کیا جائے۔ انتھونی کورڈسمین کے نزدیک یہ ایک پیچیدہ صورت حال ہے اور واشنگٹن کا نکتہ نظر ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے۔

تجزیہ کار کورڈسمین کے مطابق افغانستان میں پوری طرح انخلا سے یہ مراد نہیں لی جا سکتی کہ امریکا وسطی ایشیائی ریاستوں سے بھی صرفِ نظر کر لے گا اور ان ریاستوں کو چین یا روس کے زیر اثر ہوتا دیکھے گا۔

کورڈسمین کے مطابق موجودہ امریکی حکومت وسطی ایشیا کے بارے میں اوباما انتظامیہ کی اس پالیسی پر عمل کرے گی، جس پر ٹرمپ انتظامیہ بھی عمل پیرا رہی ہے۔ یہ پالیسی سابق صدر اوباما کے دور میں سن 2011 میں شروع کی گئی تھی۔

افغانستان امریکی فوج کے بغیر

مبصرین کے مطابق امریکی فوج کے انخلا کے بعد علاقائی طاقتوں روس اور چین کے ساتھ ساتھ ہمسایہ ممالک پاکستان و ایران بھی ایک نئی حقیقت کا سامنا کر رہے ہیں۔ افراتفری کا شکار افغانستان خطے میں عدم توازن کا باعث بن سکتا ہے اور اس میں علاقائی قوتیں مشکل توازن قائم کرنے کی کوشش میں ہیں۔ اب افغانستان میں امریکا اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے موجود نہیں رہے گا کیونکہ اس ملک سے امریکی سکیورٹی کو مزید خطرات لاحق ہونے کا امکان موجود نہیں ہے۔ اب صرف اچھے کی امید کی جا سکتی ہے۔

(بشکریہ : ڈی ڈبلیو)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

متفرقات

ہیلتھ ٹپس:بھنے ہوئے چنے کھانے کے بہت سے فائدے ، ۔نیچرل پروٹین سے لے کر فائبر کا خزانہ

11 جولائی
متفرقات

ہیلتھ ٹپس:بھنے ہوئے السی کے بیج صحت کا خزانہ،شوگر، ہائی کولیسٹرول سمیت کئی بیماریوں میں فا ئدے مند

06 جولائی
متفرقات

کارڈیک اریسٹ اور ہارٹ اٹیک میں کیا فرق ہے؟ کیا ہیں علامات و وجوہات ؟ایمرجنسی میں کیا کریں ۔

30 جون
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN