اردو
हिन्दी
جولائی 14, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

نفرت کے خلاف روایت شکن ربط باہم سے کام لیں

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
0
نفرت کے خلاف روایت شکن ربط باہم سے کام لیں
42
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

عبدالسلام عاصم

جس فنا انجام زمانے کی قسم کھاکر خدا نے انسانوں کوخسارے میں پڑنے کے خلاف انتباہ کیا، وہ زمانہ ارتقاء پذیر ہے، جامد نہیں۔ہم جن حاملِ کتاب علمی رہنماوں کا حوالہ دیتے نہیں تھکتے وہ بھی اِسی خدائی منصوبے کو آگے بڑھاتے ہوئے کہتے رہے کہ”ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں یا ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں۔۔۔“ پڑھی لکھی نئی نسل کی خاطر اتنی تمہید کافی ہےیہ سمجھنے کے لئے کہ ہم رفتارِ زمانہ سے ہم آہنگ کیوں نہیں ہیں اور ایسی کیا وجہ ہے کہ زمانے سے ہم کو اور ہم سے زمانے کو شکایت تک ہی سارا افسانہ محدود ہوکر رہ گیا ہے۔

ایک بڑے کینوس کے اِس منظر نامے کو بر صغیر بلکہ ہندستان تک محدود کر کے بات کی جائے تب بھی اس کے اطلاق کا دائرہ دور تک وسیع نظر آئے گا۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دنیا میں رفتارِ زمانہ سے غیر ہم آہنگ قوموں کو امکانات سے زیادہ اندیشوں نے گھیر رکھا ہے۔انہی اقوام میں بدقسمتی سے ہم بھی شامل ہیں۔باوجودیکہ حالیہ دہائیوں میں کہیں تیزی سے تو کہیں معتدل انداز میں کم سے کم اتنی تبدیلی آئی ہے کہ لوگ بہ انداز دیگر سوچنے لگے ہیں اور کسی ریڈی میڈ حل کی دعا مانگنے کے بجائے عملاً نجات کی راہ ڈھونڈنے کی خال خال توفیق ملتی نظر بھی آ رہی ہے۔

وطن عزیز میں ہندو مسلم ایکتا اور فرقہ وارانہ منافرت کے حوالے سے ہونے والی ذہنی اور جسمانی مشقوں کے ہم سبھی کسی نہ کسی طور سے شاہد ہیں۔روایتی اختلاف سے نفع کشید کرنے کی آلودہ سیاست کی وجہ سے اتحاد کی کوششوں کو1947 میں خارجی نقصان پہنچنے کے بعدداخلی جھٹکے لگنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔بہ الفاظ دیگر ہم ایک ایسے جمود کے شکار ہیں جس کا احساس موقع پرستوں کو فرار پسندی تک ہی متحرک کرپاتا ہے۔ ایسا نہیں کہ اِس پر پہلے کبھی غور نہیں کیا گیا۔ اس صورتحال پر روایتی طریقے سے غور کرنے اور نتیجہ اخذ کرنے کا سلسلہ ہمیشہ چلتا رہا ہے، لیکن ماضی قریب تک ایسی کوئی بھی کوشش افکار کے تصادم سے آگے نہیں بڑھ پائی۔ کم و بیش دونوں حلقوں میں کہیں سوچنے والے الجھ کر رہ گئے تو کہیں حکمت کی جگہ ردعمل کا اثر اتنا شدید رہا کہ بنتے بنتے بھی بات بگڑنے میں دیر نہیں لگی۔

مبینہ سیکولر عہد میں جہاں سیکولر اقدار کی پاسداری میں دونوں طرف سے ایمانداری نہیں برتی گئی، وہیں عملاًاُس عہد کے خاتمے نے بھی ایسی کوئی راہ ہموار نہیں کی جو امکانات کے رُخ پر اتنی کشادہ ہو کہ اُس پرکسی تعصب کے بغیر بلا جھجھک آگے بڑھا جا سکے۔ ایسے میں یہ سوال اگر سرے سے غلط نہیں تو کچھ زیادہ ہی ”دوٹوک“ہو گا کہ کہاں اور کیسے غلطی ہوئی؟ غلطی کسی موڑ یا ایسے چوراہے پر نہیں ہوئی کہ اُن کی آسان نشاندہی کر کے ایک دم سے نیا نسخہ تجویز کر دیا جائے۔ غلطی پرورش اور تعلیم کی ایسی پناہ گاہوں میں ہوئی ہے جس میں گزرنے والی عمر سوچنے اور سمجھنے کی متحمل نہیں ہوتی۔سُننے اور ماننے والی عمر کے کسی بچے کومطلق یہ توفیق نہیں ہوتی کہ وہ سوال اور اعتراض قائم کرنے کی طاقت اور ہمت کا مظاہرہ کرسکے۔یہ اُسی عمر کی تعلیم کا نتیجہ ہے کہ ہندستان میں ہندو اکثریت اور پاکستان اور بنگلہ دیش میں مسلم اکثریت کی فرقہ پرستی ملک دشمنی نہیں کہلاتی۔ اِس صورتحال کے ذمہ دارہرگز عام ہندستانی ہندو یا ہمسایہ ملکوں کے مسلمان نہیں۔اس کی ذمہ داری دونوں ملکوں کی اُن سابقہ حکومتوں پر عائد ہوتی جنہوں نے اپنے سیکولر پرچم تلے فرقہ وارانہ صف بندی کی سیاست کی بنیاد ڈالی۔ایسا نہیں کہ انہیں انجام کا پتہ نہیں تھا لیکن وہ شایدیہ اندازہ نہیں کر پائے تھے کہ داخلی انتشار پورا سیاسی نصاب ہی بدل کر رکھ دے گا۔

زیادہ تر نفرت انگیز جرائم کو رنگ اور نسل، ذات اور مذہب سے تحریک ملتی ہے۔ لیکن آج نفرت کے کئی چہرے ہیں۔ تعصب کے واقعات نفرت کی اُس کوکھ سے جنم لیتے ہیں جس کے ساتھ عملاً کوئی زیادتی نہیں ہوتی لیکن اُس سے ناجائز طور پر کشید کردہ تعصب از خود اپنے اندر زبردست فرقہ وارانہ جنون رکھتا ہے جواصل جرائم میں زبردست اضافہ کر سکتا ہے۔ بہت سے نفرت انگیز جرائم کبھی خبر نہیں بنتے کیونکہ متاثرین کی پولیس یا میڈیا تک رسائی نہیں ہو پاتی۔ اس کے علاوہ بہت سے قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی نفرت انگیز جرائم کو پہچاننے کے متحمل یا ان کی تحقیقات کے لئے خاطر خواہ طور پر حساس اورتربیت یافتہ نہیں، کیونکہ وہ بھی متاثرہ سماج کا ہی حصہ ہیں۔

باوجودیکہ اچھی خبر یہ ہے کہ ان دنوں پورے ملک میں کچھ لوگ اُس نفرت کے خلاف بات کرنے لگے ہیں جس کی بالواسطہ آبیاری نام نہاد سیکولرعہد میں ہوئی تھی۔ آج یہ عفریت راست طور پر سڑ اٹھا کر کھڑا ہے۔ ہندو مسلم دونوں فرقوں کے باشعور حلقے حکومت وقت سے ملک میں برداشت اور ربط باہم کو فروغ دینے کی تائید اور سرپرستی کے طالب ہیں۔حکومت اور اُس کی نظریاتی سرپرستی کرنے والے ادارے بھی اس کوشش کی راست اور بالواسطہ تائید کر رہے ہیں۔ تاریخ ایسی دستاویزات سے بھری ہے کہ جب بھی کسی عہد کو نفرت سے پامال کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اچھے لوگ اُس کے خلاف مضبوط آواز کے ساتھ اٹھے ہیں اور اکثران کی تعداد ہفتوں اور مہینوں میں کئی گنا بڑھی ہے۔

ملک کو حالات کے موجودہ موڑ پر جس انقلاب کی ضرورت ہے وہ انقلاب کسی ردعمل سے نہیں بلکہ تزویراتی عمل سے ہی آسکتا ہے۔قوموں کی زندگی میں کل بھی ایسا انقلاب حکمت کے ذریعہ برپا ہوا تھا اور آئندہ بھی سنجیدہ کوششیں ہی کسی خوشرنگ تبدیلی کی راہ ہموار کریں گی۔بہ الفاظ دیگر نفرت کا مقابلہ روایتی احتیاطی فاصلہ رکھنے کے بجائے محبت اور خیر کے جذبے سے آگے بڑھ کرکرنا ہوگا۔ اگر کوئی آمنا و صدقنا رٹنے یا بھگت قسم کی بھیڑ کو اپنی محدود سوچ کا قائل بنا کر بزعم خود اپنی تما م تر فضیلتوں کے ساتھ گھر بیٹھ کر یامحفل سجا کر صرف ردعمل دکھا رہا اور جوابی بیان بازی تک اپنی ذہانت کی دوڑ محدود رکھے ہوئے ہیں تو اس سے کوئی فائدہ نہیں۔

نفرت کی تعلیم ہمیشہ بالواسطہ دی جاتی ہے۔ جو قائدین یامدرسین ایسا کرتے ہیں وہ خود بھی اس قدر کنڈیشنڈ ہو چکے ہوتے ہیں کہ اُنہیں لگتا ہے کہ وہ تو پیروکاروں یاطالب علموں کو حق آشنا کر رہے ہیں۔ ایسے عناصر دونوں طرف پائے جاتے ہیں اور ان سے نمٹنا عام انتہاپسندوں اور ماب لنچروں سے نمٹنے سے زیادہ مشکل ہے۔ یہی وہ آزمائش ہے جو اس وقت دونوں طرف کے بیدار مغز لوگوں کو در پیش ہے۔

فرقہ وارانہ نفرت معاشرے کو رنگ اور نسل، ذات اور مذہب کی ایک سے زیادہ بنیادوں پر خون کے آنسو رُلاتی ہے۔ نفرت انگیز جرائم کسی بھی دوسرے جرم سے زیادہ فرقہ وارانہ تنازعات، سماجی عدم تحفظ یہاں تک کہ فسادات کو جنم دے سکتے ہیں۔ ہندستان میں آسام کے نیلی تشدد سے گجرات فساد تک فرقہ وارانہ جنون کو بھڑکانے میں صرف اور صرف اُس نفرت کا دخل رہا ہے جسے پنپنے اور پنپانے کیلئے اطلاعات کی کمی اور افواہوں کی بہتات والے ماحول میں جاننے اور سمجھنے کی جگہ ماننے اور منوانے والے جاہلوں کی بے ہنگم فوج کی ضرورت ہوتی ہے۔

وقت آگیا ہے کہ لوگوں کورابطے کی ہر سطح پر یہ بتایا جائے کہ اکثریت اور اقلیت کی فرقہ پرستیاں دونوں اجتماعی طور پر جہاں ملک کی سالمیت کیلئے تباہ کن ہیں وہیں اقلیت کو فطری طور پر اپنے ہر شدید ردعمل کی بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے۔ ایسے میں حالات اُس وقت اور بھی خطرناک موڑ سے گزرنے لگتے ہیں جب وطن دوستی کے نعروں تک کا استحصال شروع ہوجاتا ہے۔ یہ صورتحال انتہائی طور پر جمہوریت مخالف ہے کیونکہ اس میں سب سے پہلے وطن دوستی کی اصل پہچان گم ہو جاتی ہے۔سچے محب وطن نفرت سے لڑتے ہیں نظریاتی اختلاف رکھنے والے ہم وطنوں سے نہیں۔

(یہ مضمون نگار کے اپنے خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
passport-not-proof-of- indian citizenship

پاسپورٹ شہریت کا حتمی ثبوت نہیں! جانیے پھر شہریت کا اصل اور قانونی ثبوت کیا ہے؟

جون 25, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
معروف عالمِ دین مولانا سلمان حسینی ندوی انتقال کر گئے

معروف عالمِ دین مولانا سلمان حسینی ندوی دنیا سے رخصت ہو گئے

جون 29, 2026
وینزویلا زلزلہ تباہی

وینزویلا میں قیامت خیز زلزلہ: 32 افراد ہلاک، 700 سے زائد زخمی، کئی عمارتیں زمین بوس

جون 25, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

یوگی بولے : روڈ پر نماز ، لا ؤڈ اسپیکر بند،سلاٹر ہاؤس پر تالے

‘جو آج آستھا کی بات کرتے ہیں، انہوں نے ہنومان گڑھی میں نماز پڑھوائی تھی’، ایودھیا میں یوگی آدتیہ ناتھ کا بڑا حملہ

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جولائی 10, 2026
یوگی بولے : روڈ پر نماز ، لا ؤڈ اسپیکر بند،سلاٹر ہاؤس پر تالے

‘جو آج آستھا کی بات کرتے ہیں، انہوں نے ہنومان گڑھی میں نماز پڑھوائی تھی’، ایودھیا میں یوگی آدتیہ ناتھ کا بڑا حملہ

جولائی 10, 2026

حالیہ خبریں

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN