لکھنؤ (ایجنسی)
کورونا وبا کی وجہ سے طویل عرصے تک بند رہنے کے بعد اترپردیش سمیت مختلف ریاستوں میں اسکولوں کوپھر سےکھولا جاچکا ہے۔ ممکنہ تیسری لہر اور بچوں کے لیے پیدا ہو رہیں تشویشات کے مدنظر اترپردیش سرکار نے اہم فیصلہ لیا ہے۔ سرکار نے تمام اساتذہ اور ملازمین کے ویکسینیشن کو لازمی کردیا ہے ۔
یوپی حکومت نے اس کے علاوہ تمام ٹیچروں کے پریواروں کا ویکسین لگانا بھی ضروری کردیا ہے ۔ اسٹاف کے پریواروالوں کو بھی ویکسین لگوانی ہوگی۔ معلوم ہو کہ ملک میں کورونا کی روک تھام کے لیے تیزی سے ویکسین مہم چل رہی ہے ۔ اترپردیش میں اب تک سات کروڑ سے زیادہ ویکسین کی ڈوز لگوائی جاچکی ہے ۔
ریاست کے تمام اضلاع کےبنیادی تعلیم افسران کو جاری کئے گئے حکم میں کہا گیا ہے کہ آپ کومعلوم ہے کہ کووڈ بحران کی وجہ سے بند رہے اسکولوں کو کھول دیا گیا ہے ، لیکن وبا کے اثرات ابھی ختم نہیں ہوئے ہیں ۔ ایسی صورت حال میں یہ ضروری ہے کہ اساتذہ، ملازمین اور ان کے پریوار کے ممبران کا سوفیصد ویکسینیشن کی جائے۔
دریں اثناء یوپی حکومت نے ریاست بھر میں ڈور ٹو ڈور مہم چلانے کا اعلان کیا ہے تاکہ بخار متاثرین کی حالت جان سکیں اور ان کی علامات کی جانچ کی جا سکے۔ یوپی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ضروری ادویہ کے ساتھ ساتھ طبی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔ اس کے لیے ریاستی حکومت 7 ستمبر سے ریاست بھر میں نگرانی مہم شروع کرنے جا رہی ہے۔اس مہم کے تحت ہیلتھ ورکرز گھر گھر پہنچ کر بخار سے متاثر مریضوں کی علامات جانچ کریں گے۔ ہیلتھ ورکرز بخار کی علامات کی بنیاد پر کورونا کا ٹیسٹ بھی کریں گے۔
کئی ریاستوں میں بڑھتے ہوئے معاملے کے پیش نظرریاستی حکومت نے نگرانی مہم کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کورونا کے خلاف جارحانہ حکمت عملی کے تحت ، حکومت ابتدائی مرحلے میں انفیکشن کا پتہ لگانے اور اسے کنٹرول کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ موسم میں تبدیلی کی وجہ سے بخار کے ساتھ کئی دیگر بیماریوں کے دستک دینے کا بھی امکان ہے جس کے پیش نظر نگرانی مہم کو بہت اہم سمجھا جا رہا ہے۔اس فہرست کی تیاری کے بعد حکومت ایسے لوگوں کو ویکسین لگانے کی ترغیب دے گی۔ حکومت صحت کارکنوں کو نگرانی مہم کے لیے تربیت دے گی۔
وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اس کے لیے عہدیداروں کو ہدایت دی ہے۔سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ نے محکمہ صحت سے کہا ہے کہ وہ فیروز آباد میں 24 گھنٹے مریضوں کی حالت پر نظر رکھیں۔ انہوں نے افسران سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ مقامی ضرورت کے مطابق ڈاکٹروں ، پیرا میڈیکل اسٹاف کے انتظامات کو فوری طور پر یقینی بنائیں۔ مریضوں کی سہولت کے پیش نظر سرکاری اسپتالوں اور میڈیکل کالجوں میں بستروں کی تعداد بڑھانے کے ساتھ ساتھ دیگر ضروریات کی فوری فراہمی کے لیے افسران کو ہدایات بھی دی گئی ہیں۔









