اردو
हिन्दी
مئی 9, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

بنگال کے سیاسی مزاج کی گھٹی میں ہی تشدد ہے

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
بنگال کے سیاسی مزاج کی گھٹی میں ہی تشدد ہے
68
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:اپوروانند

مغربی بنگال کے بیر بھوم ضلع میں رام پور ہاٹ کے قریب بوگتوئی گاؤں میں 21 مارچ کی رات کو ہوئے اس قتل معاملے نے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔تقریباً 10 گھروں پر بم سے حملہ اور ان میں آگ زنی میں خواتین اور بچوں سمیت 8 افراد جھلس کر جاں بحق ہوگئے۔ بعد میں اس بات پر بحث کی جائے گی کہ کیا انہیں جلا دیا گیاتھا یا گھروں میں لگائی گئی آگ میں جل کر وہ مر گئے۔ اس فرق سے قتل کی نوعیت میں بھی فرق پڑے گا،اور ظلم کی سطح میں بھی۔

ہم نے سب سے پہلے ہلاک ہونے والوں کے نام دیکھے۔ ٹلی خاتون، شیلی بی بی، نورنہار بی بی، للی خاتون، روپالی بی بی، جہاں آرا بی بی، مینا بی بی، ساجد الرحمن۔ راحت کی سانس لی۔ پھر مجھے شرمندگی محسوس ہوئی۔لیکن اس اولین ردعمل کی وجہ ہے۔ ہر اس قتل کو جو ہندوؤں کا ہو، اور خاص طور پر مغربی بنگال میں، جس انداز میں اس کی تشہیر کی جاتی ہے، اس سے مسلمانوں اور سیکولر لوگوں کو کافی تسلی ملتی ہے۔ چونکہ ہلاک ہونے والے تمام مسلمان ہیں، اس لیے اب ہندوستان بھر کے مسلمانوں کو اس قتل معاملے کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکے گا۔

لیکن کیا یہ تسلی انسانی ہے؟ ریاست کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اس قتل کو بنگال کو بدنام کرنے کی سازش قرار دیا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے یقین دلایا کہ تشدد میں ملوث افراد کو بخشا نہیں جائے گا، چاہے ان کا سیاسی رنگ کچھ بھی ہو۔ اس آخری حصے میں بنگال کا المیہ چھپا ہوا ہے۔

ہلاک ہونے والے اور ہلاک کرنے والے دونوں ہی حکمراں ترنمول کانگریس سے یا اس کے حامیوں سے وابستہ بتائے جاتے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ سوموار کی شام کوترنمول کانگریس سے وابستہ باہوبلی بھادو شیخ کے قتل کے کچھ دیر بعد، موٹر سائیکل پر سوار کچھ سو غنڈے گاؤں میں داخل ہوئے اور انہوں نے بمباری کی، آگ زنی کی ، جس میں یہ 8 لوگ مارے گئے۔اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ یہ ترنمول پارٹی کے ارکان کے درمیان رنجش کا نتیجہ ہے۔ بھادو شیخ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بڑا غنڈہ تھا۔ ظاہر ہے اس نے اپنے دشمن بنائے ہوں گے۔ اس کے تشدد کا بدلہ اس کے قتل سے لیا گیا۔ پھر اس قتل کا جواب اس قتل سے دیا گیا۔کیا اسے سیاسی تشدد کہا جا سکتا ہے؟ جیسا کہ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ دو گروپوں کے درمیان لڑائی کا نتیجہ ہے؟

ایک ماہر سیاسیات نے ٹیلی گراف اخبار کو بتایا کہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ سیاسی نہیں ہے کیونکہ یہ ترنمول کے اندر سیاسی جدوجہد کا ہی ایک نتیجہ ہے۔ ترنمول کے اندر کئی دھڑے ہیں۔ ان کے درمیان تصادم کو غیر سیاسی نہیں کہا جا سکتا۔ممتا بنرجی نے کہا کہ بنگال میں ایسی چیزیں نہیں ہوتیں اور چونکہ ان کی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی ہر کوشش ناکام ہو چکی ہے، اس لیے ایسی سازش کی جا رہی ہے۔ اپوزیشن بھارتیہ جنتا پارٹی نے اسے ریاست میں انتشار کی نئی مثال قرار دیتے ہوئے صدر راج کا مطالبہ کیا ہے۔ بائیں بازو کی جماعتوں نے ریاست میں امن و امان کے تباہ ہونے کا الزام لگایا ہے۔

تشدد تشدد ہے۔ قتل قتل ہے۔ پھر بھی یہ کیسے کیا جاتا ہے، اس سے قتل اور قتل میں فرق معلوم ہوتا ہے۔ کھلے عام سو لوگوں کا موٹر سائیکل پر ایک گاؤں میں گھس کر حملہ کرنا، گھروں کو آگ لگانا اور لوگوں کو جلا کر مار دینا ، یہ گولی ماردینے سے زیادہ خوفناک ہے۔کچھ ہی فاصلے پر واقع تھانے سے پولیس کو آنے میں گھنٹہ بھر لگ جانا، یہ بھی قتل کو دوسرا رنگ دیتا ہے۔اسٹیٹ نے اس قتل کو ہونے دیا۔ آخر وہاں پولیس ہی تو اسٹیٹ ہے۔

بنگال میں پولیس اور پارٹی کی تفریق بہت پہلے مٹ گئی تھی۔ بائیں محاذ کے وقت ہی۔ تھانے پارٹی کی مرضی سے چلتے تھے۔ ایسے پولیس افسران کی مثالیں کم ہی ملتی ہیں، جنہوں نے پارٹی سے آزاد ہوکر اپنے فرائض سرانجام دیے۔گجرات 2002 میں بھی ایسا نہیں ہوا تھا۔ وہاں ایسے افسران موجود تھے جنہوں نے آئینی فرض کو پورا کیا۔ حالانکہ اس کی قیمت اسے چکانی پڑی۔ بنگال کی پولیس جو پہلے سی پی ایم کی تھی اب ترنمول کی ہے۔

اس کیس میں مقتول اور قاتل کا تعلق ایک ہی جماعت سے ہے۔ لیکن بنگال میں اکثر ایسا نہیں ہوتا۔ تین دہائیوں کی بائیں محاذ کی حکومت کے خاتمے اور ترنمول کی بے مثال جیت کے بعد سی پی ایم کے دفاتر پر حملے شروع ہو گئے۔ ان پر قبضہ، ان کی توڑ پھوڑ، ان کو جلایا جانا، یہ دیکھ کر ہم میں سے کچھ لوگوں نےسوچا کہ اس تشدد کے خلاف بیان جاری کریں۔ہم نے ان لوگوں سے رابطہ کیا جو اس سے پہلے سی پی ایم کے تشدد کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے۔ جواب مایوس کن تھا۔ ایک بڑی مصنفہ نے اس بیان کی تجویز کو سن کر فون بند کر دیا۔ یہ دیکھ کر میں سمجھ گیا کہ ہم واقعی تشدد کے خلاف نہیں ہیں، ہم اپنے تشدد کا انتخاب کرتے ہیں۔

یہ بھی یاد آیا کہ ترنمول کے تشدد کے غلبہ سے پہلے بہت سے لوگ سی پی ایم کے تشدد کی مخالفت کرنے میں ہچکچاتے تھے۔پورے ہندوستان میں تشدد کا راج ہے۔ سیاسی تشدد بھی۔ لیکن بنگال کے سیاسی مزاج میں ہی تشدد ہے۔ اس بار بھی اسمبلی انتخابات کے نتائج آنے کے بعد ترنمول پارٹی کی جانب سے مخالفین پر حملے کیے گئے۔اس سے پہلے مغربی بنگال میں بائیں بازو کے تشدد کا غلبہ تھا۔ بلدیاتی انتخابات میں دوسری جماعتوں کے امیدوار کھڑے نہ کردینا معمول تھا۔ اسی کلچر کو ترنمول نے بھی اپنایا۔ ترنمول کو بائیں بازو کے تشدد کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ لیکن اس کی جگہ اس نے ترنمول تشدد کو قائم کردیا۔

بنگال میں شاید ہی کوئی پارٹی سے آزاد ہو۔ہر شخص یا تو بائیں بازومیں ہوتا ہے، یا ترنمول یا اب بی جے پی میں۔ ترنمول نے سی پی ایم کے انداز میں اس کو توڑ دیا۔ اب اس کے تشدد کی حریف بن کر بھارتیہ جنتا پارٹی آئی ہے۔ تشدد جاری ہے۔سماج کا پارٹی-سماج میں تبدیل ہونا اس تشدد کی جڑ ہے۔ کئی نسلیں اس تشدد کو سیاست سمجھ کر پروان چڑھی ہیں۔ ممتا بنرجی کا خیال ہے کہ وہ اس پر قابو پالیں گی، لیکن جیسا کہ اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے، تشدد ڈی سینٹرلائز ہوجاتاہے اور خود مختاریت بھی۔ اگر پارٹی تشدد چاہتی ہے تو اسے مقامی خود مختاری بھی دینی ہوگی۔ تب ہی وہ اپنی فوج حاصل کر سکے گی۔

وقت بہت پہلےہی آ گیا تھا کہ مغربی بنگال کی تمام سیاسی پارٹیاں مل کر تشدد کی اس سیاست کو ترک کر دیں۔ اس نے معاشرے کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ یہ کہنا آسان ہے، ہونا مشکل ۔ لیکن بنگال کا معاشرہ اگر یہ نہ دیکھ سکے کہ وہ کس طرح کریہہ ہو رہا ہے تو اس کی نجات ممکن نہیں۔

(اپوروانند دہلی یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN