روزنامہ خبریں کی خاص رپورٹ
نئی دہلی(آر کے بیورو)جیسا کہ اندیشہ ظاہر کیا جارہا تھا ،آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی دہلی کے رام لیلا گراؤنڈ پر 16 نومبر کو وقف ترمیمی ایکٹ کے خلاف ہونے والی مجوزہ ریلی ملتوی کردی گئی ہے ـاس کی داخلی اور خارجی دونوں وجوہات ہیں ـ
بورڈ کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ دراصل دہلی نگر نگم نے دی گئی اجازت کو منسوخ کردیا ،اس کا کہنا ہے کہ ان تاریخوں میں دہلی سرکار کا ایک پروگرام ہورہا ہے جس میں وزیر اعظم کی شرکت ہونی ہے ،اس لیے اور بھی کئی پروگراموں کی اجازت منسوخ کردی ہے ـ,اس خبر سے بورڈ کو یقینی طور پر دھچکا لگا ہے ،بورڈ زور شور سے تیاریاں کررہا تھا ،اخبار میں اشتہار دے جارہے تھے ,سوشل میڈیا پر لوگوں کو شرکت کی ترغیب دی جارہی تھی ،یہ بھی دعویٰ ہے کہ یوپی میں بعض مقامات پر بسوں کی بکنگ ہوگئی تھی ،امید پورٹل بیداری ورکشاپوں میں سولہ نومبر کی ریلی میں شرکت کی اپیل کی جارہی تھی ، اب اس پر فل اسٹاپ لگ جائے گا ویسے گزشتہ کئی دنوں سے یہ خبر گردش کررہی تھی کہ بورڈ کی ریلی ملتوی ہوسکتی ہے ، ذرائع کے مطابق کل رات بورڈ کے ذمہ داروں کی آن لائن میٹنگ ہوئی جس میں بدلتی صورتحال اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غوروخوض ہوا ،یقینی طور اس خبر کے باہر آنے سے تھوڑی مایوسی تو پھیلے گی ،اس قبل بھی بورڈ اپنے متعینہ پروگرام کی تاریخیں ملتوی کرتا رہا ہے،مگر اس مجبوری کو کیا کہا جائے ،یہ بورڈ کے ہاتھ میں نہیں تھا ـ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ریلی اب رمضان کے بعد ہوگی کیونکہ آنے والے دنوں میں سردی اور کہرے میں اضافہ ہوگا ،ایسی صورت میں سفر دشوار ہوگا ،چنانچہ رمضان بعد کا وقت مناسب ہوگا ابھی یہ حتمی فیصلہ تو نہیں ہے مگر لگتا ہے کہ بورڈ کر ارباب اور اس میں شامل جماعتیں اس کو منظور کرلیں گی ـ ریلی کے وقت ہر پہلے بھی کچھ تنظیموں کی طرف سے تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا ،
دوسری طرف بورڈ میں کئی تنظیمیں اس ریلی میں شرکت کے لیے اس جوش وخروش کا مظاہرہ نہیں کررہی تھیں جو مطلوب تھا ،نہ ان کی قیادت کی طرف سے اپنے کارکنوں کو واضح ہدایت جاری کی گئی تھی کہ انہیں کیا کرنا ہے تو گومگو اور تذبذب کا ماحول تھا ـ بورڈ تو ایک چھاتہ ہے اس کے نہ وسائل ہیں اور نہ ہی افرادی قوت ،اس کا تو دفتر بھی دہلی میں ہونے کے باوجود متحرک نہیں ،اس کا سارا انحصار شریک جماعتوں پر ہے ـظاہر ہے ہر جماعت کے اپنے مسائل اور مصالح ہوتے ہیں ـاور ان کے تحت ہی وہ فیصلے لیتی ہیں ،ہھر بورڈ متحرک ہونے کے باوجود بدقسمتی سے مضبوط،مستحکم اور متحدہ قیادت کا مظاہرہ نہیں کر پارہا ہے ،اس میں شامل جماعتوں کے اضطراب اور تحفظات کو بھی سمجھنے اور حل کرنے کی ضرورت ہے ـ
امید ہے کہ بورڈ کی طرف سے ایک دو روز میں ریلی کے التوا کا اعلان آجائے گا ،یہ بھی خبر ہے کہ بورڈ اجازت منسوخ کرنے کے سرکار کے اقدام پر احتجاج کا ارادہ رکھتا ہے ـ اس کی شکل کیا ہوگی یہ جلد ہی پتہ چل جائے گا











