غزہ میں شدید بحران کے درمیان، جہاں بچوں کو بھوک سے مرتے ہوئے دیکھا جارہا ہے ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو اسرائیلی جنگی و غیر انسانی کارروائیوں کا پرزور دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں مانتے کہ یہ جنگ ایک ‘نسل کشی’ ہے،بلکہ اسی کے ساتھ اس بات پر دعویٰ کیا کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں حملے کے دوران ‘کچھ خوفناک چیزیں ہوئیں’۔ٹرمپ کا یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب ان سے صحافیوں نے پوچھا کہ کیا وہ اسرائیل کے ردعمل کو نسل کشی کے طور پر بیان کرتے ہیں۔اور اسے نسل کشی سے تعبیر کرتے ہیں
انہوں نے کہا "مجھے نہیں لگتا کہ یہ وہ (نسل کشی،) ہے،” انہوں نے مزید کہا، "وہ جنگ میں ہیں۔”امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ "غزہ والوں کو کھانا کھلایا جائے” اور امریکہ واحد ملک ہے جو واقعی ایسا کر رہا ہے۔ہم لوگوں کو کھانا کھلانا چاہتے ہیں – ا ہم لوگوں کو کھانا کھلانے کے لیے رقم جمع کر رہے ہیں… ہم چاہتے ہیں کہ اسرائیل انہیں کھانا کھلائے،‘‘ ٹرمپ نے ایلنٹاؤن، پنسلوانیا میں ایئر فورس ون میں سوار ہونے سے پہلے کہا۔ہم نہیں چاہتے کہ لوگ بھوکے مریں، اورواقعی کچھ بری چیزیں ہو رہی ہیں،‘‘
اقوام متحدہ نے غزہ ہیومینٹرین فاؤنڈیشن (GHF) پر الزام عائد کیا ہے کہ اس کی امدادی کوششوں سے شہریوں کو خطرہ لاحق ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ 1,000 سے زیادہ لوگ GHF پوائنٹس سے امداد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ہلاک ہو چکے ہیں جب سے اس گروپ نے مئی میں غزہ میں کام شروع کیا تھا، جن میں سے زیادہ تر مبینہ طور پر اسرائیلی فورسز کی طرف سے ان مقامات کے قریب گولی ماری گئی تھی۔









