کابل : (ایجنسی)
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ طالبان تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں۔ نئی حکومت کی خارجہ پالیسی کے بارے میں بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ طالبان تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں اور دوست ممالک پر زور دیا کہ وہ طالبان سے رابطہ کرنے میں پہل کریں۔ چین کے ساتھ تعلقات کے بارے میں پوچھے جانے پر ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ طالبان چین کے ساتھ اقتصادی اور دوستانہ تعلقات کے خواہاں ہیں۔
افغان طالبان کے ترجمان نے مزید کہا کہ طالبان اہلکار کسی غیر ملکی سفارت خانے کی عمارتوں میں داخل نہیں ہوں گے اور سفارت خانے کے علاقے کے لیے سیکورٹی خدمات فراہم کریں گے۔مجاہد نے زور دے کر کہا کہ القاعدہ سمیت کسی بھی دہشت گرد تنظیم کو پڑوسی ممالک کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کے لیے افغانستان کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے افغانستان میں اماموں پر زور دیا ہے کہ وہ افغانوں کو طالبان کے اقتدار میں ان کی سکیورٹی کی یقین دہانی کرائیں۔ دارالحکومت کابل میں علماء کے ایک اجتماع میں ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ وہ اپنے حلقوں کو پرسکون رکھنے کے ذمہ دار ہیں۔انھوں نے امریکہ اور دیگر نیٹو ممالک پر الزام لگایا کہ وہ افغان شہریوں کو پناہ کی پیشکش کرتے ہوئے اپنی حکمرانی کو کمزور کر رہے ہیں۔ مجاہد نے کہا کہ سرکاری ملازمین جلد ہی کام پر واپس آ سکیں گے اور افغان پہلے ہی اعلان کردہ عام معافی کے تحت محفوظ رہیں گے۔ واضح رہے طالبان نے ان لوگوں کے لیے عام معافی کا وعدہ کیا ہے جنہوں نے اتحادی فوجیوں اور افغان حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا ، لیکن بہت سے افغانی اب بھی انتقامی حملوں سے خوفزدہ ہیں











