غرب اردن؍غزہ:
فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف شہروں میں آج منگل کے روزاسرائیلی فوج اور فلسطینی مظاہرین کے درمیان ہونے والے تصادم میں کئی فلسطینی میں زخمی ہوگئے ہیں۔ العربیہ اور الحدث چینل کے نامہ نگاروں کے مطابق غرب اردن میں فلسطینی شہریوں اور اسرائیلی فورسز کے درمیان غیرمعمولی جھڑپیں ہوئی ہیں۔ غرب اردن کےجنوبی شہر بیت لحم میں اسرائیلی فوج کی بھاری نے فلسطینی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا۔ اسرائیلی فوج نےفلسطینی مظاہرین پر براہ راست گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں کئی فلسطینی شدید زخمی ہوگئے ہیں۔ بیت ایل یہودی کالونی کے قریب سیکڑوں فلسطینیوں اور اسرائیلی فوج کے تصادم کی اطلاعات ہیں۔ نامہ نگاروں کے مطابق اسرائیلی فوج نے آج منگل کے روز غرب اردن میں ہونے والے مظاہروں کے موقع پر ہائی الرٹ کردیا تھا۔

ادھر سنہ 1948 کے مقبوضہ علاقوں اور غرب اردن میں آج منگل کے روز غزہ کی پٹی اور القدس میں اسرائیلی فوج کی بربریت کے خلاف بہ طور احتجاج عام ہڑتال کی گئی۔ غرب اردن میں یہ ہڑتال اور مظاہرے ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب دوسری طرف غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری میں اب تک 238 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔فلسطینی تنظیموں کی اپیل پرآج غرب اردن میں بینک، تعلیمی ادارے، کاروباری مراکز اور نجی سرگرمیاں بند رہیں۔ فلسطینی حکومت نے سرکاری ملازمین کو ہڑتال میں شامل ہونے اور کام سے چھٹی کرنے کی اجازت دی تھی۔ فلسطینی حکومت کے ترجمان ابراہیم ملحم نے بتایا کہ ہم نے سرکاری ملازمین کو فلسطینیوںکے خلاف اسرائیلی فوج کی وحشیانہ کارروائیوں کے خلاف احتجاج میں شامل ہونے کی ہدایت کی ہے۔ نامہ نگار کے مطابق فلسطینی شہروں میں اسرائیلی فوج کی وحشیانہ کارروائیاں روکے جانے تک مظاہرے جاری رہیں گے۔ گزشتہ روز فلسطینی صدر محمود عباس کی جماعت تحریک فتح نے آج منگل کے روز فلسطین بھر میں ’یوم الغضب‘ منانے کا اعلان کیا تھا۔
اسرائیلی طیاروں نے منگل کی صبح ایک بار پھر غزہ کی پٹی کے وسطی علاقے پر بم باری کی ہے۔ اسرائیلی جنگی طیاروں اور جنگی کشتیوں نے پیر کی شام سے اب تک غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں پر 60 سے زیادہ حملے کیے۔ ان حملوں میں حماس تنظیم کے زیر انتظام حکومتی مراکز، تنظیم کی قیادت کے خالی گھروں ، فلسطینی گروپوں کے ٹھکانوں ، زرعی اراضی اور سڑکوں کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی فوج کے جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل مارک میلی نے تشدد کے پھیلاؤ کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔ ادھر امریکی صدر جو بائیڈن نے پیر کی شام اسرائیلی وزیر اعظم سے ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے فائر بندی کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیاتھا۔ تاہم بنجامن نیتن یاہو اس سے پہلے کئی بار یہ بات دہرا چکے ہیں کہ مقاصد حاصل ہونے تک غزہ میں مسلح افراد کے ٹھکانوں اور قیادت کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف نے پیر کی شب جاری بیان میں کہا تھا کہ غزہ کی پٹی میں مشن پورا کرنے کے لیے کم از کم 48 گھنٹوں کی مزید ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حماس تنظیم بھرپور طاقت کے استعمال اور طریقہ کار سے حیران ہو گئی ہے۔

دوسری جانب مصر اور اقوام متحدہ نے وساطت کار کے طور پر سفارتی کوششوں کو بڑھا دیا ہے۔ اس معاملے کو زیر بحث لانے کے لیے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ایک اجلاس جمعرات کے روز ہو گا۔واضح رہے کہ اسرائیلی فوج نے پیر کی شب تاخیر سے ایک اعلان میں بتایا کہ حماس اور دیگر فلسطینی تنظیموں نے گزشتہ پیر سے لے کر اب تک اسرائیل کی سمت 3350 راکٹ فائر کیے ہیں۔ ان میں سے 200 راکٹ صرف پیر کے روز داغے گئے۔
گذشتہ ہفتے پیر کے روز غزہ کی پٹی میں حماس تنظیم کی جانب سے اسرائیل کی سمت راکٹ داغے گئے۔ حماس نے یہ اقدام مقبوضہ بیت المقدس میں شیخ جراح کے علاقے کے معاملے کے تناظر میں کیا۔ اس کے بعد اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں عسکری آپریشن شروع کر دیا۔ ادھر اسرائیل کے کئی دیہات میں داخلی فلسطینیوں (جو 1948ء کے عرب کے نام سے جانے جاتے ہیں) اور یہودیوں کے بیچ شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔ داخلی فلسطینی اسرائیل کی کُل آبادی کا 21 فیصد ہیں۔










