لکھنؤ :
اترپردیش میں آئندہ سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کو لے کر کانگریس نے ہر محاذ پر تیاریاں شروع کردی ہے ۔ الگ -الگ ذات اورمذاہب کے لوگوں کو لبھانے کے لیے کانگریس نے الگ الگ پلالنگ کی ہے۔ ذرائع کے مطابق مسلمانوں میں پکڑ مضبوط بنانے کے لیے کانگریس نے مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کا سہارا لینے کا من بنا یا ہے، اس کے لیے پردیش کے 2 لاکھ مدارس کی لسٹ بھی تیار کی گئی ہے ۔
مدارس کا کیوں سہارا لینا پڑا ؟
اترپردیش اقلیتی کانگریس کے صدر شاہنواز عالم کا کہنا ہے کہ پارٹی میں مسلمانوں کے نظرانداز کئے جانے کے سبب 1990 کے بعد سے اقلیتی ووٹ کھسک کر ایس پی اور بی ایس پی کی جانب جانے لگا، لیکن ان پارٹیوں میں بھی مسلمانوں کو توجہ نہیں ملی ۔ یوپی میں بھی کانگریس کے پاس کوئی مضبوط قیادت نہیں تھی۔ اس کے سبب مسلم ووٹر بی جے پی کی مخالفت میں ایس پی اور بی ایس پی کے ساتھ جانے کو مجبور رہے، جس کا فائدہ دونوں پارٹیاں اٹھاتی رہیں، لیکن اب یوپی کانگریس کو پرینکا گاندھی کی شکل میں ایک اچھی لیڈر شپ ملی ہے۔ اس لئے نئے سرے سے مسلمانوں کو کانگریس سے جوڑنے کی کوشش شروع ہورہی ہے۔
5 پوائنٹس میں بلیو پرنٹ تیار
1- مسلم ووٹرز کو پارٹی سے جوڑنے کی مہم مدرسوں سے شروع کیا جائے گا۔
2- گاؤں سے لے کر شہر تک کے محلوں میں چل رہے دو لاکھ مدرسوں کی لسٹ بنائی گئی ہے ۔
-3 پارٹی کارکنان ان مدارس میں جاکر علماء کے ساتھ بیٹھ کریں گے اور مدرسوں کے طلبہ وطالبات کو کانگریس کی پالیسیوں اور انتخابی ایجنڈے سے آگاہ کریں گے۔
4- مدرسوں کے طلبہ وطالبات کی مدد سے ان کے گھر تک پہنچیں گے ۔
-5 کورونا کی مدت میں جن مسلمانوں کو پریشانیاںہوئی ہیں، ان کی مدد کریں گے۔
ایس پی کے خلاف مہم کا آغاز
شاہنواز عالم کا کہنا ہے کہ اقلیتوں کو جوڑنے کے لئے ‘’اسپیک اپ مائنارٹی‘ کیمپئن شروع کیا گیا ہے ۔ فیس بک لائیو کے ذریعہ چلائے جارہے اس کیمپئن میں بتایا جا رہا ہے کہ کسی طرح ایس پی کا بی جے پی سے اندرونی ساز باز رہتا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ہر اتوار ہونے والے اس کیمپئن میں ہم ملائم سنگھ یادو کا پارلیمنٹ میں دیا ہوا بیان بھی سناتے ہیں۔ ملائم سنگھ نے پارلیمنٹ میں کہا تھاکہ نریندر مودی کو دوبارہ وزیراعظم بننا چاہئے، اس سے یہ بات واضح ہے کہ ایس پی اور بی جے پی کے درمین گزشتہ دروازے سے یقینی طور پر کچھ سمجھوتہ طے پایا ہے۔
ووٹ شیئر کا فارمولہ بھی تیار
2017 کے اسمبلی انتخابات میں47 فیصد اور عام انتخابات میں 20 فیصد یادو ووٹ ایس پی کے ساتھ گیا تھا، اب باقی ووٹرس کو کانگریس سے جوڑاجائے گا۔
28 سے 30٪ فیصد ووٹ حاصل کرنے کی کوشش ہوگی۔ کانگریس کے سروے سے معلوم ہواکہ زیادہ تر 30 فیصد ووٹ حاصل کرنے کے پر سرکار بن جائے گی۔
20٪فیصد مسلم ووٹروں کو متحد ہو کر کانگریس کے ساتھ آنے کے لیے کہاجائےگا۔
بی جے پی سے برہمن ،غیر یادو او بی سی اور دلتوں کو جوڑا جائے گا۔
مسلم او بی سی پر سب سے زیادہ توجہ
شاہنواز کے مطابق ریاست میںتقریباً 8-10فیصد یادو ہیں، جبکہ مسلم او بی سی کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ اس میں خاص طور پر انصاریوں کی تعداد زیادہ ہے۔ گورکھپور میں تقریباً چار لاکھ،مئو میں قریب ساڑھے تین لاکھ، بنارس میں چار لاکھ، مبارکباپور اعظم گڑھ میں تقریباً دو لاکھ ،امبیڈکر نگر میں تقریباً چار لاکھ انصاری ہیں۔
کل مسلم او بی سی کی تقریباً 60 فیصد آبادی انصاریوں کی ہی ہے۔ انہیں بتایا جا رہا ہے کہ آزادی کی لڑائی سے لے کر اب تک ملک میں ان کی کتنااہم رول رہاہے ۔
شاہنواز کہتے ہیں کہ اگر آپ صرف انصاریوں کے ساتھ موازنہ کریں تو کسی بھی ضلع میں چار لاکھ یادو ووٹر نہیں ملیں گے۔ پھر بھی وہاں ایس پی نہیں مسلم ووٹروں کی بدولت جیت حاصل کرتی رہی ہے۔ انصاریوں کے بعد او بی سی مسلمانوں کی ایک اور بڑی آباد ی والے قریشیوں کو بھی مضبوطی سے جوڑنے کی مہم چل رہی ہے۔ اسی سلسلے میں مومن کانفرنس تحریک سے جڑے عبدالقیوم انصاری جو کہ بنکروں کے بڑے لیڈر رہے، ان کی سالگرہ کے موقع پر اس بار کانگریس نے کئی پروگراموں کا اہتمام کیا تھا۔










