نئی دہلی : (دی کوئنٹ کی خاص رپورٹ)
چرچ میں توڑ پھوڑ، دعائیہ تقریب کرنےوالوں پر حملہ، اسکولوں پر حملہ، کھلی جگہ میں نمازادا کرنے کے خلاف احتجاج… اگر ماضی قریب میں بھارت میں اقلیتوں پر ہونے والے حملوں کی فہرست بنائی جائے تو یہ بہت طویل ہو جائے گی۔ بھارت کی مختلف ریاستوں میں گزشتہ دو ماہ کے دوران مختلف وجوہات کی بنا پر مسلم اور عیسائی برادریوں کے لوگوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
دہلی، کرناٹک، مدھیہ پردیش میں نشانے پر چرچ
دائیں بازو کی تنظیمیں اکثر مسلم کمیونٹی پر ’لو جہاد‘ کا نعرہ لگا کر مذہب تبدیل کرنے کا الزام لگاتی رہی ہیں۔ لیکن حال ہی میں دیکھا گیا ہے کہ دائیں بازو کے نشانے پر نہ صرف مسلم کمیونٹی ہے بلکہ چرچ اور کانونٹ اسکول بھی ہیں۔ حالیہ دنوں میں دائیں بازو کی تنظیموں کی طرف سے عیسائیت کو نشانہ بنانے کی کئی رپورٹس سامنے آئی ہیں۔
10 دسمبر کو کرناٹک کے کولار میں دائیں بازو کی تنظیم کے کچھ لوگوں نے عیسائی مذہب کی مذہبی کتابوں کو آگ لگا دی۔ این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب عیسائی برادری کے لوگ مہم کے تحت گھر گھر جا رہے تھے۔ اسے دائیں بازو کی تنظیم کے لوگوں نے روک کر پوچھ گچھ کی جس کے بعد انہوں نے کتابیں چھین کر آگ لگا دی۔
7 دسمبر کو، ودیشا، مدھیہ پردیش کے گنج بسودا کے سینٹ جوزف اسکول میں، دائیں بازو کی تنظیموں نے اسکول پر تبدیلی مذہب کا الزام لگاتے ہوئے اسکول میں توڑ پھوڑ کی اور پتھراؤ کیا۔ تشدد کا یہ واقعہ مبینہ طور پر اس وقت پیش آیا جب بچے اپنے امتحانات دے رہے تھے۔ اسکول منیجر کا کہنا تھا کہ تشدد کے بارے میں پولیس کو اطلاع دی گئی تھی، لیکن اسکول کو مناسب سیکورٹی نہیں دی گئی۔
28 نومبر کو بجرنگ دل کے ارکان کرناٹک کے ہاسن ضلع میں ایک عبادت گاہ میں داخل ہوئے اور جبراً تبدیلی مذہب کا الزام لگایا۔ منظر عام پر آنے والے مناظر میں کرناٹک میں بجرنگ دل کے ارکان کو دعائیہ تقریب کو روکتے ہوئے اور لوگوں کو دعائیہ تقریبسے باہر آنے پر مجبور کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
28 نومبر کو دہلی کے دوارکا میں کچھ لوگوں نے ایک چرچ میں توڑ پھوڑ کر دی۔ ایک گودام کو چرچ میں تبدیل کیا گیاتھا۔ ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر’ دی کوئنٹ‘ کو بتایا کہ مقامی لوگوں نے گودام کو چرچ میں تبدیل کرنے پر اعتراض کیا تھا اور تبدیلی کو لے کر سوالات اٹھائے تھے۔ چرچ میں توڑ پھوڑ کرنے والے لوگوںکا مبینہ طور پر دائیں بازو کی تنظیم بجرنگ دل سے تعلق تھا اور جے شری رام کے نعرے لگا رہے تھے۔
3 اکتوبر کودائیں بازو کی تنظیم سے تعلق رکھنے والے 200 سے زیادہ لوگوں کے ہجوم نے اتراکھنڈ کے روڑکی میں ایک چرچ میں توڑ پھوڑ کی۔ اس حملے میں کئی لوگ زخمی ہوگئے۔ چرچ کے پادری کی بیوی نے ایف آئی آر درج کراتے ہوئے کہا کہ مقامی وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی)، بجرنگ دل اور بی جے پی کے یوتھ ونگ کے ارکان دعائیہ تقریب میں گھس کر حاضرین کے ساتھ بدسلوکی اور مار پیٹ کی۔
منور فاروقی کے کئی شوز منسوخ
کامیڈین منور فاروقی بھی اس نفرتی بھیڑ کاشکار ہو چکے ہیں۔ حال ہی میں ان کا بنگلور میں ایک شو منسوخ ہو گیا اور انہیں گڑگاؤں کامیڈی فیسٹیول سے ہٹا دیا گیا۔ بنگلور پولیس نے شو کے منتظمین کو خط لکھ کر منتظمین سے شو کو منسوخ کرنے کو کہا۔ پولیس نے شو کو منسوخ کرنے کے لیے لاء اینڈ آرڈر کا حوالہ دیا۔ وہیں گوا میں500 سے زیادہ لوگوں کے شو ہونے پر خودشوزی کی دھمکی دنے کے بعدمنتظمین نےشوکینسل کرنے کا فیصلہ کیا۔
گزشتہ دو مہینے میں تقریباً 12 شو کینسل ہونے کےبعد 29 نومبرکوایک سوشل میڈیا پوسٹ میں فاروقی نے کامیڈی چھوڑنے کی طرف اشارہ کیا۔ فاروقی نے جذباتی پوسٹ میں لکھا:’’ نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا۔‘‘
وہیں حال ہی میں گڑگاؤں کامیڈی فیسٹول کےمنتظمین نے سیکورٹی کا حوالہ دیتے ہوئے پروگرام سے فاروقی کا نام ہٹا دیا۔ منتظمین کا کہنا تھا کہ انہیں فاروقی کے خلاف مسلسل کالز اور پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔
اپنے خودکے الفاظ میں فاروقی اس غلطی کی سزا بھگت رہے ہیں جو انہوں نے کی ہی نہیں۔ نئے سال کے موقع پر انہیں اندورمیں اسٹینڈ اپ شوکےدوران گرفتارکیا گیا تھا۔ الزام تھا کہ فاروقی نے ایک شو میںہندو دیوی -دیوتاؤں پر نازیبا تبصرہ کیا تھا۔ حالانکہ رپورٹس میں سامنے آیا تھا کہ اندور پولیس کو یہ دکھانے کےلیے کوئی ویڈیو ثبوت نہیںملا تھا کہ فاروقی نے شو کے دوران ہندودیو – دیوتاؤں کی توہین کی تھی۔
(بشکریہ: دی کوئنٹ ہندی)










