اردو
हिन्दी
مئی 4, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

اسرائیل-فلسطین کا قضیہ کیا ہے؟

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
0
اسرائیل-فلسطین کا قضیہ کیا ہے؟
278
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

اشتیاق احمد ربانی

فلسطین اور اسرائیل جنگ کی بنیاد ، مسجد اقصیٰ کو سمجھنے والے حضرات کیلئے اطلاعاً عرض ہے کہ جس جگہ مسجد اقصیٰ ہے وہ پورا علاقہ یروشلم کا علاقہ کہلاتاہے ۔ اقوام متحدہ نے فلسطین کو تین حصوں میں تقسیم کیاتھا (1) اسرائیل (2) فلسطین (3) یروشلم یہ یروشلم (اسی علاقہ میں مسجد اقصی واقع ہے ) یہ یروشلم کا علاقہ تینوں مذاہب، یہودی، عیسائی اور مسلمانوں کے یہاں مقدس سمجھے جانے کی وجہ سے اس علاقہ کو اقوام متحدہ نے اپنے زیر نگرانی میں لے لیا اور اس کو ورلڈ ہیریٹیج قرار دے دیا یعنی اس علاقہ کو تمام مذاہب کے لوگوں کا ورثہ قرار دے دیا، چنانچہ جو لوگ فلسطین اور اسرائیل جنگ کی خبر سن کر فلسطینی معصوم بچوں کے درد کو سمجھنے کے بجائے ، صرف مسجد اقصیٰ کی حفاظت کے نعروں اور اس کی مسماری اور قبضہ کے لاجواب علم تک محدود ہوجاتے ہیں انہیں یہ معلوم ہو کہ آج بھی مسجد اقصیٰ کے باہری حصہ کی نگرانی اسرائیلی فوج کرتی ہے اور مسجد اقصی میں وہ لوگ بھی جہاں وہ لوگ اپنی عبادت کی جگہ اپنے لئے تصور کرتے ہیں وہاں عبادت کرتے ہیں، یہودی لوگ مسجد اقصیٰ کے اندر اس لئے نہیں جاتے ہیں کہ ان کا ماننا ہے کہ یہ مقدس جگہ ہے اور ہمارے لئے اپنی اس مقدس جگہ پر پاؤں رکھنا بے ادبی ہے، اس لئے وہ لوگ مسجد کے اندر داخل نہیں ہوتے ہیں ۔ مسجد اقصیٰ کے اندرونی حصہ کا انتظام مسلمانوں کے ہاتھوں میں ہوتا ہے اور وہ اپنی عبادت پنج وقتہ نماز وغیرہ عبادات انجام دیتے ہیں اور مسجد کے باہری حصہ کی دیکھ ریکھ اسرائیلی فوج کرتی ہے ۔
مظلوم فلسطینی عوام کے درد ، تڑپ ، کڑھن اور جنگ کی اصل وجہ مسجد اقصیٰ ہے ہی نہیں بلکہ اسرائیل کے ساتھ ان کی جنگ کی بنیاد ان کی شناخت کی بقاء اور اپنی زمین کی حفاظت کی ہے ، جوکہ غاصب اسرائیل اپنی طاقت اور قوت کے بل بوتے پر زبردستی انٹرنیشنل لاء، عالمی قوانین کی دھجیاں اڑاکر روز بروز نئے نئے قوانین بناکر فلسطینیوں کو زبردستی ان کے مکانوں پر بلڈوزر چلواکر ان کی زمینوں پر قبضہ کرتاچلاآرہاہے ۔
اور اب ایسا لگ رہاہے کہ کچھ ہی دنوں میں فلسطینی حکمرانوں کے اندرونی اسرائیلی حمایت سے پورے فلسطین پر اسرائیل کا قبضہ ہواچاہتاہے ۔۔۔۔۔ !
اور اس خدشہ میں قوت فلسطینی حکمرانوں کے ذریعہ ، اپنے دفاع کیلئے اپنی فوج اور آرمی کے قیام نہ کرنے کی وجہ سے ہے ۔۔۔ !!
حماس ، جس کو کچھ لوگ نہ جاننے کی وجہ سے دہشت گروپ کہنے لگے ہیں وہ دراصل فلسطین کا ایک دور دراز علاقہ ( جیسے ماضی میں پاکستان کا دوردراز علاقہ مشرقی بنگال ) ویسے ہی فلسطین کا اب بچاہوا چھوٹا سا دور دراز علاقہ غزہ میں وہیں کے عوام کی ایک جماعت اپنے ملک کی حفاظت اور دفاع اور آزادی کے نام پر تشکیل دی گئی ایک جماعت کا نام حماس ہے، جو لوگ عالمی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے حماس کو دہشت گرد گروپ کہہ رہے ہیں , وہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ان کی اس تھیوری کے حساب سے سارے ممالک کی فوج اور آرمی بھی دہشت گروپ کہلائے گی ۔۔۔۔ !
’اپنےملک کی دفاع کے نام پر قائم کی جانے والی فوج اور آرمی کا قیام درست قراردیاجاسکتاہے تو پھر غزہ کے شہریوں کے ذریعہ اپنی دفاع کیلئے تشکیل دینے والی مجاہدین کی جماعت حماس کا قیام کیوں نہیں۔۔۔۔۔ ‘
کیا اس لئے نہیں کہ اس نے اپنے دفاعی فوج کا نام’ آرمی ‘ رکھنے کے بجائے ’مجاہدین‘ رکھ دیا ۔۔۔ !
اسرائیل کو فوج، آرمی اور اسلحہ رکھنے اور بنانے کی پوری اجازت دی جاسکتی ہے لیکن فلسطین کو نہ فوج ، نہ آرمی اور نہ ایٹم بم اور اسلحہ رکھنے اور خریدنے کی اجازت دی جاسکتی ہے ۔۔۔۔۔ ! یہ انصاف سے پرے بات ہے !
فلسطین پہلے عثمانیہ سلطنت کے زیر اثر تھا، 1917/18 میں پہلی جنگ عظیم کے خاتمہ کے بعد یہ پورا فلسطین کا علاقہ برطانیہ نے اپنی دیکھ ریکھ میں لے لیا اوریہ علاقہ وہاں کے عوام کو سپرد کرنے کے بجائے یہودیوں کو بسانے اور قبضہ جمانے کی خطرناک اسی انگریز ملک برطانیہ نے شروع کی تھی، چنانچہ 1948 میں اس کو اقوام متحدہ کو سپرد کرکے یعنی معاملہ کو اقوام متحدہ لے جاکر اس کو تین حصوں میں تقسیم کروادیا ، جس کی تفصیل اوپر بیان کی جاچکی ہے۔
ہر ایک ملک کی ایک متعین سرحد اور باؤنڈری ہوتی ہے لیکن اسرائیل ایک ایسا ملک ہے جس کا اب تک کوئی فکس باؤنڈری نہیں ہے، وہ کہتاہے ہماری کوئی فکس باؤنڈری نہیں ہے اور دھیرے دھیرے پورے فلسطین پر قبضہ کرتاچلاجارہاہے ، یہاں تک کہ اسرائیل اس وقت پورے فلسطین لینڈ یعنی زمین کا 78 فیصد حصہ قبضہ کرچکاہے جبکہ 1948 کے اقوام متحدہ کے فیصلہ کے حساب سے55 فیصد زمین کا رقبہ اسرائیل کو اور 45 فیصد حصہ زمین کا رقبہ فلسطین کو دیا گیا تھا یہ الگ بات ہے کہ عرب ممالک نے اس فیصلہ کو تسلیم نہیں کیا تھا ، لیکن اسرائیل نے تو اس فیصلہ کو تسلیم کیا تھا ، اسے تو کم سے کم اپنے اسی اقوام متحدہ کے فیصلہ پر برقرار رہناچاہئے تھا ۔۔ !
اسرائیل اپنے خطرناک عظیم منصوبے گریٹر اسرائیل کے قیام کی طرف بڑھتا ہوادکھائی دےرہاہے جس کے مطابق سعودی عربیہ، کویت، دبئی، بحرین ، عراق، ترکی جارڈن ، شام اور مصر کے کچھ یا پورے علاقے پر قبضہ کر پورے مسلم ممالک کو عظیم تباہی کیلئے تیار رہنے کا اشارہ دیا جارہاہے ۔۔۔۔۔۔

ایم اے ،ڈپارٹمنٹ آف پولیٹکل سائنس ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ
ishtiyaqrabbani95@gmail.com

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN