اردو
हिन्दी
مئی 3, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

’دی کشمیر فائلز‘کا پورا سچ کیا ہے؟

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ گراونڈ رپورٹ
A A
0
’دی کشمیر فائلز‘کا پورا سچ کیا ہے؟
132
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

نئی دہلی :

کشمیری پنڈتوں کے بے گھر ہونے پر مبنی فلم ’دی کشمیر فائلز‘ سینما گھروں میں ریلیز ہو چکی ہے اور توقع سے زیادہ کمائی کر رہی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ 90 کی دہائی میں جموں و کشمیر میں بڑے پیمانے پر کشمیری پنڈتوں کا قتل عام ہوا اور ان میں سے ایک بڑی تعداد کو انہیں اپنے گھراور زمین سے بے دخل ہونا پڑا تھا۔ اس کے پیچھے بہت سی سیاسی، سماجی وجوہات تھیں، لیکن اس مسئلے کی جڑ پر توجہ دینے کے بجائے اسے سیدھا فرقہ وارانہ مسئلہ بنا دیا گیا۔ اس فلم میں بھی مسئلے کے ہر پہلو کو پرکھنے کے بجائے اسے یک طرفہ نقطہ نظر سے بنایا گیا ہے۔ شاید فلم کے پروڈیوسر ڈائریکٹر کا بھی یہی ارادہ ہو۔ ویسے بھی فلم کے ہدایت کار وویک اگنی ہوتری کا سیاسی نظریہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ لفظ اربن نکسل بھی ان ہی کی دین ہے۔

ویسے کشمیر ہندوستانی سیاست کا ہمیشہ سے ایک حساس موضوع رہا ہے۔ اور اس موضوع کو سمجھنے کے لیے ایک وسیع تناظر کی ضرورت ہے۔ اسے سیاہ یا سفید یعنی یا تو اس پار یا اس پار کے طرز عمل سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس فلم کو گجرات سمیت کئی ریاستوں میں ٹیکس فری بھی کر دیا گیا ہے۔ مشہور لوگ بھی اس فلم کی تشہیر کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اگر آپ ہندوستانی ہیں تو یہ فلم ضرور دیکھیں۔ تاہم عوام اپنی قومیت اور حب الوطنی ثابت کرنے کے لیے کسی فلم میں دلچسپی نہیں لیتے۔

چاکلیٹ، بدھا ان ٹریفک جام اور ’دی تاشقند فائلز‘ جیسی فلموں کے ہدایت کار اور اربن نکسل نامی کتاب کے مصنف وویک اگنی ہوتری کی نئی فلم ’دی کشمیر فائلز‘ نے ریلیز کے تین دنوں کے اندر ہی زبردست کمائی شروع کر دی ہے۔

یہ فلم 1990 کی دہائی کے خوفناک دور پر مرکوز ہے، جب دہشت گردوں نے کشمیری پنڈتوں کو قتل کیا اور کشمیر چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ ہزاروں کشمیری پنڈت اپنے ہی ملک میں پناہ گزینوں کی طرح زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے۔ ’دی کشمیر فائلز‘ کا مرکزی کردار کرشنا پنڈت نام کا ایک لڑکا ہے، جو دہلی کےای این یو نام کے مشہور کالج میں پڑھتا ہے ۔

کرشنا طلباء سیاست میں بھی سرگرم ہیں۔ کرشنا کے دادا پشکر ناتھ کو 1990 میں کشمیر چھوڑنا پڑا۔ وہ خود دہشت گردوں کے مظالم کا شکار ہے۔ اس کا خواب ہے کہ وہ ایک بار اپنے گھر واپس جا سکے۔

حالات ایسے بن جاتے ہیں کہ کرشنا خود کشمیر جاکر دیکھتا ہے کہ وہاں کیا چل رہا ہے۔ اس دوران اس کے ماضی کے راز اس پر کھلتے ہیں جو کشمیر اور اس کی اپنی زندگی کے بارے میں اس کا نظریہ بدل دیتے ہیں۔ فلم میں دہشت گردی کے مناظر کو بڑی تفصیل سے فلمایا گیا ہے جس کی وجہ سے اس کا اثر ناظرین پر بہت گہرا ہے۔ فلم میں انوپم کھیر، درشن کمار، پلوی جوشی اور متھن چکرورتی نے مرکزی کردار ادا کیے ہیں۔ سبھی تجربہ کار اداکار ہیں، اس لیے ان کی کارکردگی میں کوئی کمی نہیں ہے۔ لیکن بہتر ہوتا کہ فلم میں تمام پہلوؤں کو یکساں طور پر لیا جاتا۔

کشمیری پنڈتوں کی نقل مکانی ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کے ماتھے پر ایک اور داغ تھا جسے جلد از جلد مٹایا جانا تھا۔ لیکن ایک بار پھر سیاسی فائدے کے لیے لوگوں کی زندگی اجیرن کر دی گئی۔ 90 سے 2022 تک ملک میں کئی حکومتیں آئیں اور گئیں۔ ملک پر کانگریس اور بی جے پی کی حکومت تھی۔ لیکن یہ مسئلہ پوری طرح حل نہیں ہوا اور اب اسے مکمل طور پر فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وویک اگنی ہوتری نے کشمیری پنڈتوں پر ہونے والے مظالم اور درد کی کہانی کو اسکرین پر دکھانے کے لیے کافی تحقیق کی۔ متاثرین کے بارے میں معلومات جمع کریں۔ لیکن یہ محنت کہیں یک طرفہ تھی، کیونکہ اس میں حقائق کو پرکھا نہیں گیا۔ حال ہی میں بھارتی فضائیہ کے شہید ’روی کھنہ‘ کی اہلیہ نرملا نے ’دی کشمیر فائلز‘ کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔

اسکواڈرن لیڈر روی کھنہ کی اہلیہ نے عدالت سے فلم میں ان کے شوہر کی تصویر کشی کرنے والے مناظر کو ہٹانے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ فلم میں دکھائے گئے حقائق ان کے شوہر کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کے برعکس ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اسکواڈرن لیڈر روی کھنہ 25 جنوری 1990 کو سری نگر میں شہید ہونے والے فضائیہ کے چار اہلکاروں میں سے ایک تھے۔ اس درخواست پر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج دیپک سیٹھی نے حکم دیا ہے کہ ’روی کھنہ کی اہلیہ کے بیان کردہ حقائق کے پیش نظر، فلم کو شہید اسکواڈرن لیڈر روی کھنہ سے متعلق کاموں کی عکاسی کرنے والے مناظر دکھانے سے روک لگا دی گئیہے‘۔ عدالت کے اس حکم سے ظاہر ہوتا ہے کہ وویک اگنی ہوتری نے پوری سچائی بیان نہیں کی ہے۔

تاہم، فلم میں دکھائی گئی کہانی مکمل طور پر سچ نہیں ہے، کیونکہ تاریخ کو آدھے پکے حقائق کے ساتھ نہیں پڑھا جا سکتا۔ یاد رہے کہ جس وقت کشمیر میں نسل کشی اور نقل مکانی کے واقعات ہوئے، اس وقت مرکز میں وشوناتھ پرتاپ سنگھ کی حکومت تھی، جو بی جے پی کی حمایت سے بنی تھی۔ وی پی سنگھ حکومت دسمبر 1989 میں اقتدار میں آئی تھی۔ اس کے ٹھیک ایک ماہ بعد پنڈتوں کا اخراج شروع ہو گیا۔ 1990 سے 2007 کے درمیان 17 سالوں میں 399 پنڈت دہشت گردانہ حملوں میں مارے گئے۔ اس دوران دہشت گردوں نے 15000 مسلمانوں کو قتل کیا۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ 90 سے پہلے ملک میں زیادہ تر کانگریس کا راج رہا، لیکن اس دوران کبھی ایسی صورتحال نہیں آئی کہ کشمیری پنڈتوں کو بھاگنا پڑا ہو، بلکہ بی جے پی کی کوششوں سے اقتدار میں آنے کی کوشش کی گئی۔ رام مندر کے لیے رتھ یاترا، اسی دوران جموں و کشمیر میں بھی اس افسوسناک باب کا اضافہ ہو گیا۔ آخری بات یہ ہے کہ اس فلم کو ایک آفت کے طور پر دیکھا جائے اور جو لوگ اس آفت میں موقع تلاش کرتے ہیں ، لوگوں کوچاہئے کہہ انہیں کرار اجواب دیں۔

(بشکریہ : ستیہ ہندی )

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

ہم متبادل ورلڈ آرڈر کے حق میں، ٹیرف متاثرین کے لیے سرکار ہر ضروری قدم اٹھائے: امیر جماعت
گراونڈ رپورٹ

ہم متبادل ورلڈ آرڈر کے حق میں، ٹیرف متاثرین کے لیے سرکار ہر ضروری قدم اٹھائے: امیر جماعت

06 ستمبر
سنبھل فساد کی تحقیقاتی رپورٹ میں ایسا کیا ہے کہ یوگی حکومت پر اٹھے سوال دبا دیئے گیے؟
گراونڈ رپورٹ

سنبھل فساد کی تحقیقاتی رپورٹ میں ایسا کیا ہے کہ یوگی حکومت پر اٹھے سوال دبا دیئے گیے؟

01 ستمبر
آسام:بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت وتشدد میں بےحد اضافہ:India Hate Lab نے نیا ڈیٹا جاری کیا
گراونڈ رپورٹ

آسام:بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت وتشدد میں بےحد اضافہ:India Hate Lab نے نیا ڈیٹا جاری کیا

03 اگست
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN