اسرائیل اور غزہ کے مابین 11 دنوںتک چلی جنگ پر آخری کار بریک لگ گیا ہے ،لیکن اس امن کو طویل وقت تک قائم رکھنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
مصر کی ایک ٹیم اسرائیل میں ہفتہ کو موجود تھی، وہیں امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکس اگلے ہفتے علاقے کا دورہ کرسکتے ہیں۔
اسرائیل اور غزہ کو کنٹرول کرنے والا فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس اپنی – اپنی جیت کا دعویٰ کررہے ہیں۔ غزہ میں جنگ کی وجہ سے 250سے زیاادہ لوگوں کی موت ہوئی ہے ۔
جمعہ کو سیز فائر پر عمل درآمد کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے کہاتھاکہ حماس کی فوجی طاقت کو فضائی بمباری سے تباہ کردینا ایک ’معمولی کامیابی ‘ تھی۔ انہوں نے کہا تھا ’اگر حماس یہ سمجھتا ہے کہ ہم راکٹوں کی معمولی بوندا باندی کوبرداشت کرلیں گے تو وہ غلط ہے۔‘
عام چیزوں سے بنے راکٹ

اس جنگ میں دونوں فریق اپنی اپنی جیت کا دعویٰ کررہے ہیں لیکن اس میں سب سے زیادہ جان مال کا نقصان غزہ کا ہوا ہے جو سب کو معلوم ہے ۔
اس تصادم میں اسرائیل کا آئرن ڈوم میزائل سسٹم اس کے لئے ایک بہت بڑا دفاعی ہتھیار بن کر ابھرا ہے ، جس نے ہزاروں راکٹ حملوں کو ناکام بنا دیا ہے۔
لیکن حماس نے اسرائیل پر 4000 سے زیادہ راکٹ کیسے داغ دیئے؟ اس کے پاس اتنے ہتھیار کیسے پہنچے ، جبکہ اس کی سرحدوں پر اسرائیل اور مصر کی سخت ناکہ بندی ہے۔
خبر رساںایجنسی ’رائٹرز‘ نے تجزیہ کاروں اور عہدیداروں کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ غزہ میں فلسطینی کے گروہوں نے عام لوگوں کے استعمال ہونے والی چیزوں اور ایرانی سائنسدانوں سے گھریلو راکٹ بنائے ۔
ان کو بنانے کے لیے پائپ، چینی اور کنکریٹ کی ضرورت پڑتی ہے لیکن اب اسرائیل اور عالمی برادری کے سامنے یہ چیلنج ہے کہ وہ غزہ میں دوبارہ تعمیر نو شروع کرنے کےلیے ان چیزوں کے وہاں جانے پر روک نہیں لگا سکتی ہے۔
رائٹرز کے مطابق 2014 میں اسرائیل اور غزہ کے مابین ہونے والے تشدد کے بعد حماس اور اس کے ساتھی انتہا پسند گروپ فلسطینی اسلامی جہاد نے اپنے راکٹوں کے معیار اور تعداد میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
ایران پر الزامات

ایک سینئر یوروپی عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نیوز ایجنسی کو بتایا ، ’اس بار ہم حماس کی صلاحیت سے بہت حیرت زدہ ہیں۔ ان کے پاس طویل فاصلے تک راکٹ ہیں جو پہلے نہیں تھے۔ یہ سب ایران کی وجہ سے ہے۔‘
اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس ، اسلامی جہاد اور دیگر انتہا پسند گروپوں نے تصادم کے دوران اسرائیل کی طرف 4,360 راکٹ فائر کیے تھے ، غزہ کی پٹی میں 680 حملے کیے گئے ۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس میں زیادہ تر راکٹ کم دوری کے ، ناقص تعمیر اور گھریلو ساختہ تھے۔
ایران اور حماس کے تعلقات

ایران اور فلسطین کے عسکریت پسند گروپ حماس اور فلسطینی اسلامی جہاد کے مابین تعلقات خفیہ نہیں ہیں۔گذشتہ ہفتے ایران کے سرکاری چینل پر ایران کے ایلیٹ قدس فورس کے جنرل اسماعیل قانی نے حماس کے رہنما اسماعیل ہانیہ کی اخلاقی حمایت کی تھی۔
راکٹ ہی واحد ہتھیار

فلسطینی عسکریتپسند گروپ برسوں سے اسرائیل پر حملہ کرنے کے لئے راکٹ کا استعمال کر رہے ہیں۔ 2005 میں غزہ سے اسرائیل کے جانے سے پہلے تک غزہ میں اسرائیل بستیوں پر فلسطینی قصبےسے کم دوری کے مارٹر اور راکٹ داغے جاتے تھے ۔
غزہ کے چاروں طرف اور اسرائیلی ناکہ بندی اور 2003 میں ویسٹ بینک کے قبضہ کے بعد حماس کے پاس صرف راکٹ ہی اکلوتا ہتھیار بچا ہے ۔
مصر میں پہلے جمہوری طور سے منتخب ہوئے صدر محمد مرسی کے 2013 میں اقتدار سے بے دخل ہونے سے پہلے تک حماس اور اسلامی جہاد کو مصر کے حزیرہ سینا سے فیکٹری کی بنی ہوئی میزائلوں ملتی تھیں۔لیکن مصر کے موجودہ صدر عبد الفتاح السیسی کے اقتدار میں آنے کے بعد غزہ کی سرنگیں تباہ کردی گئیں اور اس تک اسلحہ پہنچنا بند ہوگیا۔










