اردو
हिन्दी
مئی 4, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

مشرق وسطیٰ کے تنازعے میں کون ثالثی کر سکتا ہے؟

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
0
مشرق وسطیٰ کے تنازعے میں کون ثالثی کر سکتا ہے؟
61
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین خونریز لڑائی دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے جبکہ اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری انٹونیو گوٹیرش نے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کر رکھا ہے۔ لیکن کسی بھی طرح کی فوری جنگ بندی عارضی ثابت ہو گی کیوں کہ اس مسئلے کے حل کے لیے وسیع تر امن مذاکرات کی ضرورت ہے۔ سوال یہ ہے کہ کونسا عالمی ادارہ یا پھر حکومت اس مسئلے کے حل میں بنیادی کردار ادا کر سکتی ہے؟

اقوام متحدہ کتنی طاقتور؟

اقوام متحدہ کے سربراہ کے مطابق وہ اور ان کا ادارہ فوری جنگ بندی کے لیے فریقین کے ساتھ مسلسل رابطوں میں ہیں اور انہوں نے حکومت اسرائیل اور حماس تنظیم سے ’ثالثی کی کوششوں کو تیز اور کامیاب بنانے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔‘ لیکن اقوام متحدہ کو سلامتی کونسل میں امریکی رکاوٹوں کی وجہ سے اسرائیل فلسطین تنازعے کے سفارتی حل میں اپنا مطلوبہ کردار ادا کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

اتوار کے روز ہونے والے اجلاس میں سلامتی کونسل نے تشدد کی تو مذمت کی لیکن کوئی بھی عوامی پریس ریلیز جاری نہ ہو سکی۔ اس وقت سلامتی کونسل کی سربراہی چین کے ہاتھ میں ہے، جس نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکہ کسی بھی قرار داد میں بڑی رکاوٹ ہے۔ امریکی وزارت خارجہ نے فی الحال اس حوالے سے کوئی بھی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ امریکہ ماضی میں تقریباً ہر اس قرارداد کو ویٹو کرتا آیا ہے، جو اسرائیل کے خلاف تھی۔

امریکہ کا ممکنہ کردار

اسرائیل اور امریکہ مشرق وسطیٰ میں قریبی اتحادی ہیں، جبکہ اسرائیل کے فوجی سازو سامان میں امریکہ کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین کوئی تنازع پیدا ہوا ہے، امریکہ اسرائیل کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب رہا ہے۔

اسرائیل اور امریکہ کے مابین دوستانہ تعلقات کا عروج سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں دیکھنے میں آیا، جب تمام دنیا کے بڑے ممالک کی مخالفت کے باوجود ٹرمپ نے امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کر دیا۔ یہ ایک ایسا فیصلہ تھا، جسے اسرائیل میں بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی۔ ٹرمپ نے ایک امن منصوبہ پیش کیا، جو بری طرح ناکام ہوا۔ یہ منصوبہ زیادہ تر اسرائیل کے فائدے میں تھا اور اس میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں کو اسرائیل کا لازمی حصہ تسلیم کیا گیا تھا۔

حالیہ تنازعے میں بائیڈن انتظامیہ فی الحال ‘خاموش تماشائی‘ کا کردار ادا کر رہی ہے۔ اوباما یا پھر ٹرمپ انتظامیہ کے برعکس لگتا یوں ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کے لیے یہ مسئلہ سرفہرست یا ان کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔ امریکہ کا اس وقت اسرائیل میں کوئی سفیر ہی موجود نہیں ہے۔

امریکن یونیورسٹی میں شعبہ اسرائیلی اسٹیڈیز سے وابستہ ڈین اربیل نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’امریکہ اب اس صورتحال میں پھنس گیا ہے، ورنہ وہ روزانہ کی بنیاد پر اس (اسرائیل فلسطین) سے نمٹنے کا منصوبہ نہیں رکھتے تھے۔‘‘ اربیل کا بائیڈن انتظامیہ سے متعلق مزید کہنا تھا، ‘‘وہ اس مرتبہ تنازعے کے حل کی بجائے تنازعے کو سنبھالنے پر دھیان دینا چاہتے ہیں، فلسطینیوں کے ساتھ تعلقات کو بحال کرنا چاہتے ہیں اور بات چیت کے دروازے کھولنا چاہتے ہیں۔‘‘

پیر کے روز بائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو سے کہا کہ وہ جنگ بندی کی حمایت کرتے ہیں لیکن انہوں نے اسرائیل کی بمباری مہم کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کرنے سے گریز کیا۔ دریں اثناء امریکی محکمہ خارجہ کے خصوصی مندوب برائے اسرائیل فلسطین ہادی عمرو نے اسرائیلی اور فلسطینی وفود سے ملاقاتیں کی ہیں۔ ان کے باس اور امریکی وزیر خارجہ اینتھونی بلنکن نے پیر کے روز کہا تھا کہ اگر اسرائیل اور حماس اپنی کارروائیاں بند کرنے میں سنجیدہ ہیں تو امریکا مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

عرب لیگ نے امریکہ سے مشرق وسطیٰ امن عمل میں مزید موثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کسی نئے امن منصوبے کے ساتھ کب تک سامنے آتی ہے۔ لیکن ایک ہفتہ پہلے تک یہ تنازعہ بائیڈن انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل نہیں تھا۔

مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے اسکالر گریس ورمینبول نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’ فارن پالیسی کے لحاظ سے بائیڈن انتظامیہ کی توجہ ایران اور افغانستان پر مرکوز ہے۔ انہوں نے اسرائیلی اور فلسطینی دلدل میں براہ راست ملوث نہ ہونے کا انتخاب کیا ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ’’تاہم تازہ بڑھتی ہوئی کشیدگی بائیڈن اور ان کی خارجہ پالیسی کی ٹیم کو اپنی بین الاقوامی ترجیحات پر فوری غور کرنے پر مجبور کر سکتی ہے۔‘‘

یورپی یونین کیا کر سکتی ہے؟

یورپی یونین کے خارجہ امور کے نگران اور اعلیٰ ترین عہدیدار یوزیپ بوریل نے اسرائیل اور فلسطینی علاقوں میں تشدد کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ آج منگل کو اس حوالے سے ایک ہنگامی اجلاس کر رہے ہیں۔

بوریل کا کہنا تھا کہ وہ مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ، امریکا، یورپی یونین اور روس کے ساتھ رابطوں میں ہیں تاکہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے بچایا جا سکے۔ مشرق وسطیٰ امن عمل میں یورپی یونین کا کبھی بھی قائدانہ کردار نہیں رہا بلکہ یورپی یونین نے ہمیشہ انسانی امداد کی فراہمی پر توجہ مرکوز کیے رکھی ہے۔ یورپی یونین فلسطینی اتھارٹی کو امداد فراہم کرنے والی سب سے بڑی ڈونر ہے۔ اس کی طرف سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر غزہ پٹی اور مغربی کنارے میں سن دو ہزار کے بعد سے 700 ملین یورو کی امداد فراہم کی جا چکی ہے۔

جرمنی کی خارجہ پالیسی کی کمیٹی کے چئیرمین نوربرٹ روئٹگن کا جمعے کے روز کہنا تھا کہ اس تنازعے کے حل میں امریکہ فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ امریکہ نے فوری طور پر اس معاملے پر محکمہ خارجہ کے نمائندے کو روانہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کا اس تنازعے کے حل میں عملی طور پر کوئی کردار نہیں ہے اور وہ بنیادی طور پر انسانی امداد فراہم کرنے کے ذریعے ہی حصہ ڈال سکتی ہے۔

مصر کا کردار

اسرائیل کے ساتھ مغربی سرحد رکھنے والے مصر کی خفیہ ایجنسیوں کے حماس کے ساتھ اچھے روابط ہیں۔ ویک اینڈ پر دو گھنٹے کی فائر بندی کے لیے ہونے والی ثالثی کی کوششوں میں مصر نے اقوام متحدہ اور قطر کے ساتھ مل کر کلیدی کردار ادا کیا۔ اس مختصر فائربندی کا مقصد غزہ کے واحد بجلی گھر کے لیے فیول فراہم کرنا تھا۔ لیکن یہ کوشش ناکام ہو گئی کیوں کہ اسی دوران اسرائیل نے حماس کے چیف یحییٰ السنوار کے گھر کو نشانہ بنایا۔

جمعرات کو تل ابیب جانے سے پہلے مصری وفد نے بدھ کو غزہ میں اسلامی فلسطینی گروپوں سے ملاقات کی۔ مصری حکومت کے مطابق اسرائیلی رہنما ابھی تک فائربندی معاہدے سے انکار کر رہے ہیں۔ اتوار کے روز نیتن یاہو نے بھی اس کی تصدیق کی کہ وہ فوری جنگ بندی کی تلاش میں نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا، ہم حماس کی دہشت گردانہ صلاحیتوں کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘ نتین یاہو نے امریکی سی بی ایس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے مزید بتایا، اس میں کچھ وقت لگے گا۔ مجھے امید ہے کہ زیادہ وقت نہیں لگے گا لیکن یہ فوری نہیں ہے۔‘‘

آن بیٹسن
(بشکریہ: ڈی ڈبلیو)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN