دوٹوک:قاسم سید
ہندوستان کے 79 ویں یوم آزادی کے موقع پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش سے خبردار کیا۔ انہوں نے اس معاملے کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا اور ‘ہائی پاور ڈیموگرافی مشن’ شروع کرنے کا اعلان کیا۔ اسی کے ساتھ انہوں نے ‘دراندازوں ‘کے بارے میں بھی خبردار کیا ،ظاہر ہے یہ ڈیمو گرافی تبدیل ہونے یا کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اب درانداز کون ہیں اور ڈیمو گرافی میں تبدیلی کا ذمہ دار کون ہے، یہ وہ بھی سمجھ گیا جس پر نشانہ ہے اور وہ بھی جس کو اشارہ ہے
وزیر اعظم نے کہا، ‘میں ملک کو ایک تشویش اور چیلنج کے بارے میں آگاہ کرنا چاہتا ہوں۔ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ملک کی ڈیموگرافی تبدیل کی جا رہی ہے، ایک نئے بحران کے بیج بوئے جا رہے ہیں۔ یہ درانداز میرے ملک کے نوجوانوں کی روزی روٹی چھین رہے ہیں، ہماری بہنوں اور بیٹیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، اور معصوم قبائلیوں کو گمراہ کر کے ان کی زمینوں پر قبضہ کر رہے ہیں۔ ملک یہ برداشت نہیں کرے گا۔’وزیر اعظم نے آبادیاتی تبدیلیوں کو خاص طور پر سرحدی علاقوں میں قومی سلامتی اور سماجی تناؤ کی وجہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تبدیلی ملک کے اتحاد اور سالمیت کے لیے خطرہ ہے اور اسے روکنے کے لیے حکومت نے ‘ہائی پاور ڈیموگرافی مشن’ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مشن کا مقصد غیر قانونی دراندازی کو روکنا اور مقامی آبادی کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔
انہوں نے جھارکھنڈ جیسی ریاستوں کا ذکر کیا جہاں بنگلہ دیشی اور روہنگیا دراندازوں کے قبائلی خواتین سے شادی کرنے اور ان کی زمینوں پر قبضہ کرنے سے آبادی کا توازن مبینہ طور پر متاثر ہو رہا ہے۔
جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا یہ بتانے کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں کہ لال قلعہ کی فصیل سے وزیراعظم نے اپنے ان ‘قیمتی’ خیالات سے کس کو نشانہ بنایا اور کس کو اشارہ کیاـ اور اس کا مقصد کیا ہے،اسے سن کر گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں پی ایم کی وہ ہیٹ اسپیچ یاد آگئی ہوں گی جو انہوں اس ملک کی مخصوص ابادی کی ‘شان’ میں کی تھیں،ان میں منگل سوتر چرانے ،بھینس چرانے جیسی باتوں تک کا ذکر کیا گیا تھا جس کی بڑے پیمانے پر تنقید ہوئی تھی ـ یہ الگ بات ہے کہ اس بیانیہ کو جنتا نے مسترد کردیا تھا ـ لال قلعہ سے اب پھر نئی بساط پرانے بیانیہ کے ساتھ مغربی بنگال اور آسام کے الیکشن کے مدنظر بچھائی گئی ہے ،انہوں نے ملک کے بیرونی اور داخلی ‘دشمنوں’ کی نشاندہی کردی ،یہ
صرف مسلمانوں کے لیے ہی الارم نہیں ہے بلکہ مسلم لیڈرشپ کے لیے بھی انتباہ ہے اگر وہ اسے سمجھے ـایک نیا چیلنج ایک نئی آزمائش آسام میں اس کے مظاہر نظر آرہے ہیں جہاں بنگالی نژاد مسلمانوں کو فلسطین کی طرح بے دخلی مہم کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور پورا ملک خاموش ہے مسلم جماعتوں کی فہرست میں ویسے بھی شامل مشرقی ریاستوں کے مسلمانوں کے مسائل ترجیحات میں نہیں رہے ہیں ـ وزیر اعظم کے اس بیان کو بی جے پی اور سنگھ آر ایس ایس کی طویل مدتی حکمت عملی کے حصے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بی جے پی اور آر ایس ایس سرحدی ریاستوں جیسے جھارکھنڈ، آسام، مغربی بنگال اور اتراکھنڈ میں مسلمانوں کی آبادی میں اضافے پر طویل عرصے سے تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ سنگھ کے ترجمان ‘پنچ جنیہ’ نے اس سے قبل آسام کے نو اضلاع میں ہندوؤں کے اقلیت بننے اور مغربی بنگال کے مرشد آباد جیسے علاقوں میں آبادیاتی تبدیلیوں کے بارے میں بات کی تھی۔پی ایم مودی کے اس بیان کو ہندو کمیونٹی میں خوف اور عدم تحفظ کا احساس پیدا کرکے ہندو ووٹوں کو مضبوط کرنے کی حکمت عملی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے، یہ نئی بوتل میں پرانی شراب ہے مگر شراب بہت نشہ آور ہے ـ ہندوؤں میں ذہنوں میں خوف اور نفرت کی کھاد عرصہ دراز سے ڈالی جارہی ہے سو کروڑ سے زائد کی آبادی کو یس کروڑ سے ڈرایا جاتاہے اور وہ ڈر بھی جاتی ہے ،اس کی سیاسی و انتخابی منفعت ہے یہ وہ شئیر ہے جو لگاتار بڑھتا ہی رہتا ہےـ لیکن کبھی دھوکہ بھی ہوجاتا ہے جیسے 2024 کے جھارکھنڈ اسمبلی انتخابات میں، بی جے پی نے ‘بنگلہ دیش کی دراندازی’ کو ایک بڑا مسئلہ بنایا تھا، حالانکہ وہ جیت نہیں پائی تھی۔ وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی 20 ستمبر 2024 کو جھارکھنڈ میں کہا، ‘بی جے پی منتخب طور پر روہنگیا اور بنگلہ دیشی دراندازوں کو باہر بھیجے گی۔’ اب یہ مہم دہلی، مہاراشٹر اور گجرات جیسی ریاستوں میں بڑے زور و شور سے چلائی جا رہی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی آئندہ انتخابات میں اس مسئلے سے فائدہ اٹھانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
ڈیموگرافک تبدیلی پر مودی کا بیان اور ‘ہائی پاور ڈیموگرافی مشن’ کا اعلان ایک سنجیدہ سیاسی اقدام ہے۔ بی جے پی اسے قومی سلامتی اور مقامی مفادات کے تحفظ کا مسئلہ قرار دے رہی ہے جب کوئی مسئلہ قومی سلامتی سے وابستہ ہوجاتا ہے تو پھر ہر ایکشن ،ہر قدم اٹھانے کی کھلی چھوٹ ہوتی ہے چوں چراں کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی ،ملک کی سلامتی سے کھلواڑ کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جاسکتی گرچہ اس بیان کو اپوزیشن فرقہ وارانہ پولرائزیشن اور انتخابی حکمت عملی کا حصہ سمجھ رہی ہے اور کہہ بھی رہی ہے ـ یہ دیکھنا بھی دلچسپ ہوگا کہ ‘ہائی پاور ڈیمو گرافی مشن’ کو کیسے نافذ کیا جاتا ہے۔ مسلم طبقہ اس سے کس حد تک متاثر ہوتا ہے اور وہ خود اس چیلنج کی گہرائیوں کو کتنا سمجھتا ہے ـ








