اردو
हिन्दी
مئی 2, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

سری لنکا کا راج پکشے خاندان کون ہے اور کیسے دہائیوں سے اقتدار میں ہے؟

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ گراونڈ رپورٹ
A A
0
سری لنکا کا راج پکشے خاندان کون ہے اور کیسے دہائیوں سے اقتدار میں ہے؟
116
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

کولمبو:

کیا آپ کے ملک میں راج پکشے ہی واحد ذات ہے؟

یہ سری لنکا میں ایک مشہور لطیفہ ہے کہ ایک (فرضی) چینی اہلکار ملک کے دورے پر آئے تو تمام اہم شخصیات کی ذات راج پکشے سن کر حیران رہ گئے۔

مگر یہ قابلِ فہم ہے کہ یہ لطیفہ کیسے وجود میں آیا۔ ایسا اس لیے ہے کیونکہ گذشتہ دو دہائیوں سے اس ملک کے اقتدار پر راج پکشے خاندان کی مضبوط گرفت ہے۔

مگر اب یہ غلبہ خطرے میں ہے۔ سری لنکا سنہ 1948 میں برطانیہ سے اپنی آزادی کے بعد سے اب تک کے بدترین اقتصادی بحران سے گزر رہا ہے اور کئی ماہرین نے موجودہ مسائل کا ذمہ دار غلط اقتصادی فیصلوں کو قرار دیا ہے۔

حکومت کو بڑا دھچکا لگ چکا ہے۔ پیر نو مئی کو وزیرِ اعظم (اور سابق صدر) مہندا راج پکشے نے اپریل سے ملک بھر میں جاری مظاہروں کے پیشِ نظر استعفیٰ دے دیا۔ مہندا موجودہ صدر گوتابایا راج پکشے کے بڑے بھائی ہیں۔

سست رفتار آغاز

یہ بہت بڑا واقعہ ہے۔ بی بی سی نیوز ویب سائٹ کی ایشیا ایڈیٹر عائشہ پیریرا نے کہا کہ ’مہندا راج پکشے کا استعفیٰ ایک ایسے شخص کی قسمت میں شرمناک تبدیلی ہے جو کئی برسوں سے ملک کا طاقتور ترین شخص تھا۔‘

مہندا راج پکشے ایک ایسے خاندان کے سب سے مشہور رکن ہیں جو کبھی بھی قومی سطح کی سیاست میں بڑی قوت نہیں رہا تھا۔

ان کا تعلق جنوبی شہر ہمبنتوتہ کے زمیندار گھرانے سے ہے اور مہندا پہلی مرتبہ جب 1970 میں رکن پارلیمان منتخب ہوئے تو وہ اس مقام تک پہنچنے والے ملک کے کم عمر ترین شخص تھے۔ پھر اسّی کی دہائی میں مہندا اور اُن کے بڑے بھائی چمل دونوں ہی پارلیمان کے لیے منتخب ہوئے۔

مہندا کو سنہ 87 سے 89 تک جاری رہنے والی ایک بائیں بازو کی بغاوت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کرنے پر شہرت ملی۔ اُنھوں نے اس معاملے میں اقوامِ متحدہ سے مداخلت کی بھی اپیل کی تھی۔

سنہ 1994 میں اُنھیں ملک کے نئے صدر چندریکا کماراٹنگا نے وزیرِ محنت مقرر کیا۔ دس برس بعد وہ وزیرِ اعظم بن گیے اور سنہ 2005 میں اُنھوں نے باریک مارجن سے صدارت کا عہدہ بھی حاصل کر لیا۔

اس کے بعد وہ سنہ 2005 سے 2015 تک دو ادوار کے لیے صدر رہے۔ سنہ 2009 میں اُن ہی کے دورِ حکومت میں تقریباً 30 برس تک جاری رہنے والی تامل بغاوت کا خاتمہ ہوا۔

ان پر اس دوران کرپشن اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات بھی لگے، بالخصوص نسلی اور مذہبی اقلیتوں کے حوالے سے۔ اس ملک کی 75 فیصد آبادی سنہالی بودھ ہے۔ وہ ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔

خاندانی کاروبار

مگر تنازعات کے باوجود راج پکشے خاندان سری لنکن سیاست پر اجارہ داری قائم کرنے میں کامیاب رہا۔ گوتابایا کے پاس وزارتِ دفاع میں ایک سینیئر عہدہ تھا اور کئی لوگ خانہ جنگی سے نمٹنے پر ان کی تعریف کرتے ہیں۔

چمل زراعت، ماہی گیری اور آبپاشی سمیت کئی وزارتیں سنبھال چکے ہیں اور اُن کے ایک اور بھائی بیزل کے پاس کچھ عرصے تک مالیات اور اقتصادی ترقی کے محکمے رہے ہیں۔

ان چار بھائیوں کے علاوہ بھی اس خاندان کے کئی ارکان عوامی عہدوں پر رہے ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں مہندا کے بیٹے نمل اور یوشیتھا ہیں۔ نمل حال ہی میں سری لنکا کے وزیرِ کھیل رہ چکے ہیں اور یوشیتھا اپنے والد کے استعفے تک وزیرِ اعظم کے چیف آف سٹاف تھے۔

لیکن اس خاندان کو سنہ 2015 میں صدارتی انتخاب میں مہندا کی غیر متوقع شکست سے دھچکا پہنچا تھا۔ وہ چار سال بعد ایک مرتبہ پھر اقدار میں آئے اور اس مرتبہ اقتدار کی باگ ڈور گوتابایا کے ہاتھ میں تھی۔ سری لنکن آئین کے تحت سابق صدر دوبارہ انتخاب میں حصہ نہیں لے سکتے تھے۔

قوم پرست ایجنڈا کے ساتھ نئے صدر نے امن و امان کی صورتحال کے ساتھ خاندان کے پرانے تعلق کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا۔ اپریل 2019 میں شدت پسند تنظیم نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے حملوں میں 250 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

کرپشن کے الزامات

مگر اس کے باوجود خاندان کے خلاف کرپشن کے الزامات دبے نہیں بلکہ کووڈ کی عالمی وبا کے بعد پیدا ہونے والے اقتصادی بحران کے دوران ایک مرتبہ پھر سامنے آئے۔

عائشہ پیریرا کہتی ہیں کہ ’کئی لوگوں کا ماننا ہے کہ مہندا راجاپکشے نے ملک کی دولت لوٹنے کے لیے اپنے خاندان کا راستہ ہموار کیا۔‘

سری لنکا میں مظاہروں کے دوران خاندان سے ملک کا ’لوٹا پیسہ‘ واپس کرنے کے لیے بورڈز اور نعروں کی صورت میں مطالبات سامنے آتے رہے۔

گرتی ساکھ کے باعث راج پکشے خاندان میں تقسیم پیدا ہونے لگی۔ اپریل کے اواخر میں یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ مہندا اور گوتابایا کے درمیان خلیج گہری ہو گئی ہے اور دونوں بھائیوں کے درمیان حامیوں پر کنٹرول کرنے کی رسہ کشی جاری ہے۔

’گوتا گھر جاؤ‘

اقتصادی بحران کے باعث کئی لوگ جو کبھی گوتابایا کے حامی تھے اب ملک کی سڑکوں پر ’گوتا گھر جاؤ‘ کے نعرے لگاتے نظر آتے ہیں۔

حکومت مخالف مظاہرین نے حکومت کے حامی مظاہرین کی جانب سے اپنے ایک پرامن احتجاجی کیمپ پر حملے کے بعد وزیرِ اعظم کی سرکاری رہائش گاہ پر دھاوا بولنے کی کوشش کی۔

فوراً ہی ملک بھر میں پرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے اور مشتعل مظاہرین نے راجاپکشے خاندان کی کئی املاک کو جلا دیا جن میں ہمبنتوتہ میں اُن کا آبائی گھر بھی شامل ہے۔

مظاہرین نے اُن کے والدین کے مزارات اور یادگار کو بھی تباہ کر دیا۔ صدر گوتابایا پر الزام ہے کہ اُنھوں نے یادگار کی تعمیر کے لیے سرکاری خزانے کا بے جا استعمال کیا۔

اس کے باوجود صدر کا کہنا ہے کہ وہ اقتدار چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے حالانکہ اُن کے تقریباً تمام وزرا استعفیٰ دے چکے ہی اور کئی ارکانِ پارلیمان حکومت کی حمایت سے دستبردار ہو چکے ہیں۔

جمعہ چھ مئی کو گوتابایا نے ایک ماہ میں ملک میں دوسری مرتبہ ہڑتال ہونے کے بعد ہنگامی صورتحال کا نفاذ کر دیا تھا۔

راج پکشے اب بھی اقتدار سے بے دخل نہیں ہوئے ہیں مگر سری لنکن سیاست پر اُن کی بظاہر آہنی گرفت اب کمزور پڑ رہی ہے۔

(بشکریہ: بی بی سی اردو)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

ہم متبادل ورلڈ آرڈر کے حق میں، ٹیرف متاثرین کے لیے سرکار ہر ضروری قدم اٹھائے: امیر جماعت
گراونڈ رپورٹ

ہم متبادل ورلڈ آرڈر کے حق میں، ٹیرف متاثرین کے لیے سرکار ہر ضروری قدم اٹھائے: امیر جماعت

06 ستمبر
سنبھل فساد کی تحقیقاتی رپورٹ میں ایسا کیا ہے کہ یوگی حکومت پر اٹھے سوال دبا دیئے گیے؟
گراونڈ رپورٹ

سنبھل فساد کی تحقیقاتی رپورٹ میں ایسا کیا ہے کہ یوگی حکومت پر اٹھے سوال دبا دیئے گیے؟

01 ستمبر
آسام:بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت وتشدد میں بےحد اضافہ:India Hate Lab نے نیا ڈیٹا جاری کیا
گراونڈ رپورٹ

آسام:بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت وتشدد میں بےحد اضافہ:India Hate Lab نے نیا ڈیٹا جاری کیا

03 اگست
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN