روی کانت چندن
انڈیا ٹوڈے گروپ اور کاروی انسائٹس کے ذریعہ ’ موڈ آف دی نیشن‘ سروے میں ایک طرف وزیر اعظم نریندر مودی کی مقبولیت میں 42 فیصد کی زبردست گراوٹ درج کی گئی ہے وہیں دوسری طرف یوگی آدتیہ ناتھ اور امت شاہ کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے ۔
وزیر اعظم کے طور پریوگی کو پسند کرنے والوں کی تعداد ایک سال کے اندر 3 فیصد سے بڑھ کر 11 فیصد یعنی تقریباً چار گنا ہو گئی ہے ،جبکہ امت شاہ کو وزیر اعظم کی شکل میں دیکھنے والوں کی تعداد 4 فیصد سے بڑھ کر 7 فیصد ہوگئی ہے ۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ نریندر مودی کی گرتی مقبولیت اور امت شاہ- یوگی آدتیہ ناتھ کی بڑھتی مقبولیت کی کیا وجہ ہے؟
حکومت میں رہتے ہوئے اس سیاسی ’الٹ پھیر‘ کا کیا مطلب ہے؟ ظاہر ہے کہ معاشی بدحالی، کورونا کی بد انتظامی ، بے انتہا بڑھتی مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے نریندر مودی کی گرتی مقبولیت پر کسی کو حیران نہیں ہوگا لیکن وزیر داخلہ امت شاہ اور یوگی آدتیہ ناتھ کی بڑھتی مقبولیت یقینی طور پر حیران کن ہے ۔
بہرحال نریندرمودی یقینی طور پر اپنی گرتی مقبولیت سے فکر مند ہوں گے ، لیکن ان کے لیے یوگی کی بڑھتی مقبولیت زیادہ فکر مند ہوگی۔ دراصل مودی کے بعد بی جے پی میں دوسری پوزیشن امت شاہ کی ہے۔ نہ صرف امت شاہ بلکہ مودی خود بھی انہیں اپنا جانشین بنتے دیکھنا پسند کریں گے۔
مودی کے قابل اعتماد سپاہ سالار ہیں امت شاہ
آزاد بھارت میں نہرو- پٹیل اور اٹل – اڈوانی کے بعد مودی- شاہ کی جوڑی بھارت کی سیاست میں مشہور ہی نہیں بلکہ زیادہ طاقتور بھی مانی جاتی ہے ۔
امت شاہ اور نریندر مودی سیاسی زندگی میں تقریباً تین دہائی سے ایک ساتھ ہیں۔ گجرات کے وزیر اعلیٰ سے لے کر بھارت کے وزیر اعظم بننے تک مودی کے ساتھ امت شاہ ایک قابل اعتماد سپاہ سالار اور مدد گار کی طرح خاموش کھڑے رہے ہیں۔
مانا جاتا ہے کہ مودی کی اسکیموں کو امت شاہ زمین پر اتارتے ہیں ۔ پارٹی تنظیم پر گہری پکڑ رکھنے والے امت شاہ نریندر مودی کے سب سے مضبوط سپاہ سالار ہیں۔ مانا جاتا ہے کہ امت شاہ نے کئی بار نریندر مودی کی سیاسی رکاوٹوں کو دور ہٹانے کا کام کیا ہے ۔ بدلے میں نریندر مودی نے امت شاہ کے لیے راستہ ہی نہیں بنایا بلکہ گجرات اور دہلی کی سیاست میں انہیں مضبوط بھی کیا ہے ۔
2014 کے لوک سبھا انتخابات میں وزیر اعظم عہدہ کا امیدوار بننے کےبعد نریندر مودی نے اپنی انتخابی پالیسی بناتےہوئے امت شاہ کو یوپی کا انچارج بنایا ۔ خود مودی نے بنارس سے انتخاب لڑا۔ نتیجے میں بی جے پی نے یوپی کی 80 سیٹوں میں سے 71 پر جیت حاصل کی ، اس انتخاب میں بی جے پی نے 282 سیٹیں جیت کر تین دہائی بعد مکمل اکثریت والی سرکار بنائی۔
امت شاہ نے نریندر مودی کے کارواں کو آگے بڑھانے میں متحرک طور سے کام کیا۔ بی جے پی کو مستحکم اور مضبوط انتخابی آلہ کار میں تبدیل کرنے میں امت شاہ کا بڑا رول رہاہے ۔ انہوں نے پارٹی کی توسیع کیا۔ گاؤں،قصبے اور محلوں میں پارٹی انچارج سے لے کر پنا پرمکھ تک بنائے گئے ۔










