اردو
हिन्दी
مئی 9, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

مدھیہ پردیش میں مسلمانوں کے گھر کیوں مسمار کیے جارہے ہیں

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
مدھیہ پردیش میں مسلمانوں کے گھر کیوں مسمار کیے جارہے ہیں
136
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:زویا متین

مدھیہ پردیش کے 72 سالہ شیخ محمد رفیق یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ جن افراد نے ان کا گھر مسمار کیا وہ علی الصبح ہی وہاں پہنچ گئے تھے۔

مشروب فروخت کرنے والے محمد رفیق اور ان کے بیٹوں کے لیے وہ ایک طویل رات تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ماہ رمضان میں ہمارا کاروبار عموماً شام کے اوقات میں زیادہ چلتا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ جب پیر کی صبح پولیس ان کے گھر پہنچی تو وہ سب سو رہے تھے ’لیکن جب انھوں نے ایک زور دار دھماکے کی آواز سنی تو انھیں یہ احساس ہوا کہ کوئی ان کے دروازہ توڑ رہا ہے۔‘

محمد رفیق بتاتے ہیں کہ کھرگون شہر کی ایک چھوٹی مسلم آبادی میں واقع ان کے گھر کو سینکڑوں اہلکاروں نے بلڈروز کے ساتھ گھیر رکھا تھا، اور وہ ان تمام افراد کو پیچھے ہٹا رہے تھے تو انھیں روکنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ جب انھوں نے اپنا کام ختم کیا تب تک وہاں صرف ملبے کا ڈھیر بچا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ’ہم سب اتنے خوفزدہ تھے کہ ہم ایک لفظ بھی نہ کہہ پائے اور خاموشی کے کھڑے سب دیکھتے رہے اور انھوں نے سب کچھ ختم کر دیا۔‘

مدھیہ پردیش میں دس اپریل کو ہندو تہوار رام نوامی پر پھوٹنے والے فسادات کے بعد وہاں متعدد مسلمانوں کے مکانات اور دکانوں مسمار کیا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر اس حوالے سے متعدد پریشان کن تصاویر شیئر کی جا رہی ہیں جس میں بڑے بڑے پیلے رنگ کے بلڈوزر گھروں کو مسمار کر رہے ہیں اور ان گھروں کے مکین بے بسی سے نم آنکھوں سے یہ سب کچھ کھڑے دیکھ رہے ہیں۔

Mister Justice @OfficeOfDrNM has said: ‘Will turn houses from where stones come to rubble” #BulldozerMishra #MadhyaPradesh. Has d constitutional separation of powers between #Judiciary n #Executive vanished? Take note honourable judges #SupremeCourt

— Vinod Sharma (@VinodSharmaView) April 12, 2022

ان واقعات اور تصاویر نے ہندوستان میں ایک غم و غصے کی بحث کو جنم دیا ہے اور ناقدین اسے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکمران جماعت بی جے پی، جو مدھیہ پردیش میں بھی برسراقتدار ہے، کی طرف سے 200 ملین مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔

تاہم ریاستی حکومت نے اس تمام تر معاملے کا الزام مسلمان برادری پر عائد کیا ہے۔ ریاست کے وزیر داخلہ نروتم مشرا نے مقامی نیوز چینل این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ ’اگر مسلمان ایسے حملے کریں گے تو انھیں بدلے میں انصاف کی توقع نہیں کرنی چاہیے۔‘

ریاست کی جانب سے جس طرح سے ‘کھلے عام یہ اقدامات کیے گئے ہیں اس نے سنگین تشویش بھی پیدا کی ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ چند کے خیال میں یہ مسلمانوں کواجتماعی سزا دینے کی کوشش ہے۔

مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں مقیم سنیئر وکیل ارشد وارسی کا کہنا تھا کہ ‘آپ ایک خاص برادری کو غیر متناسب طریقے سے بنا کسی ضابطے و قانون کے سزا دے رہے ہیں، یہ نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ یہ ایک خطرناک مثال قائم کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘ان تمام تر کارروائیوں سے ایک پیغام دیا جا رہا ہے کہ اگر آپ کسی بھی طرح سے ہمیں سوال یا چیلنج کرنے کی جرأت کریں گے تو ہم آپ سے نمٹ لیں گے، آپ کے گھروں، کاروبار اور آپ کو ختم کر دیں گے۔

ریاست میں پرتشدد واقعات کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب دس اپریل کو ہندو تہوار کے دوران نوجوانوں کے بڑے جلوسوں نے مسلم علاقوں سے گزرتے ہوئے اشتعال انگیز موسیقی لگائی تھی جس میں اقلیت برادری کے خلاف تشدد کرنے پر اکسایا گیا تھا۔

اس موقع پر مختلف علاقوں سے مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان ایک دوسرے پر پتھر پھینکنے کے واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔

بہت سے مسلمانوں نے پولیس پر بھی الزام عائد کیا ہے کہ انھوں نے ہندؤ برادری کے پرتشدد ہجوم کی حمایت کی یا انھیں توڑ پھوڑ کرنے کی اجازت دی۔ اتوار کے روز سے سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی متعدد ویڈیوز جن میں مشتعل ہندو افراد تلواریں لہرتے توڑ پھوڑ اور مساجد کی بے حرمتی کر رہے ہیں نے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔

اٹھائیس سالہ شہباز خان نے الزام عائد کیا ہے کہ مشتعل ہندوؤں نے سندھوا شہر میں ایک مسجد کے مینار توڑ دیے اور مسلمانوں پر پتھراؤ کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ لیکن ’اصل قیامت‘تو اگلے دن ٹوٹی جب حکام ‘نہ جانے کہاں سے آئے اور انھوں نے ان کا گھر مسمار کر دیا۔

اس مسجد جہاں وہ اب پناہ لیے ہوئے ہیں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘میری بیوی اور بہن نے روتے ہوئے پولیس کی منت سماجت کی کہ ہمیں اپنے استعمال کی چیزیں گھر سے نکال لینے دیں لیکن انھوں نے ہماری ایک نہ سنی۔ وہ کہتے ہیں کہ ‘اب ہمارے پاس کچھ بھی نہیں بچا، اور کسی کو کوئی پرواہ نہیں ہے۔ ہر مرتبہ جب ہم پولیس تھانے جاتے ہیں تو وہ ہمیں وہاں سے دھتکار کے بھگا دیتے ہیں۔

ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ گھروں کو مسمار کرنے کی یہ کارروائیاں ان افراد کے لیے سزا ہیں جنھوں نے مبینہ طور پر پتھراؤ اور جلاؤ گھیراؤ میں حصہ لیا۔

صوبائی وزیر داخلہ مشرا نے حال ہی میں کہا تھا کہ ‘ جن گھروں سے پتھر پھینکے گئے تھے اب ان گھروں کو خود پتھروں کا ڈھیر بنا دیا جائے گا۔ ریاستی حکومت نے ان اقدامات کو تجاوزات قرار دے کر قانونی جواز پیش کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ تجاوزات اور ان افراد کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں جنھوں نے سرکاری زمین پر قبضہ کر رکھا ہے۔

کھرگون کی ضلعی کلکٹر انوگراہا پی کا کہنا ہے کہ ’یہ کارروائی دونوں کے خلاف ہو رہی ہے۔‘ انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’ہر ایک مجرم کی تلاش وقت طلب مرحلہ ہے لہذا ہم نے ان تمامم علاقوں کا جائزہ لیا جہاں فسادات ہوئے تھے اور ان تمام تجاوزات کو گرا دیا تاکہ ہنگامہ آرائی کرنے والوں کو ایک سبق سکھایا جا سکے۔‘

لیکن محمد رفیق کہتے ہیں کہ ان کے محلے میں کوئی ہنگامہ آرائی یا پرتشدد واقعات نہیں ہوئے تھے۔ ‘میرے پاس اپنے گھر کے تمام قانونی کاغذات بھی موجود ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہےکہ یہ غیر قانونی نہیں ہے۔ مگر پولیس اچانک آئی اور انھوں نے میری بات سننے سے انکار کیا اور مجھ سے میرا گھر چھین لیا۔

ماہرین بھی اس منطق پر سوال اٹھاتے ہیں کہ کسی کو مبینہ جرم کے لیے سزا دینے کے لیے دوسرے جرم کے قانون کا سہارا لینا کہاں کا انصاف ہے۔

سیاسی تجزیہ کار راہل ورما کا کہنا ہے کہ ‘قانون کو ایک سہارے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، یہ گھر مذہبی جلوسوں سے پہلے بھی غیر قانونی تھے۔ آپ خود سے کوئی بھی ردعمل نہیں دے سکتے کیونکہ وہ قانونی چارہ جوئی کے خلاف تصور کیا جائے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ریاست انتقامی رویہ اپنائے ہوئے ہے۔‘

وکیل ارشد وارسی کا کہنا ہے کہ اگرچہ ریاست کے پاس تجاوزات کو گرانے کا اختیار ہے، لیکن اس کا ایک طریقہ کار ہے، آپ مالک کو ایک قانونی نوٹس دیتے ہیں، اس پر انھیں جواب کا موقع فراہم کرتے ہیں اور عدالت میں درخواست دیتے ہیں۔ تجاوزات کو گرانے سے پہلے یہ تمام کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔

تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس حوالے سے قانونی نوٹس بھجوائے تھے لیکن بی بی سی سے بات کرنے والے تین خاندانوں نے پولیس کے اس دعوے کو مسترد کیا ہے۔ سنیئر وکیل ارشد وارسی کہتے ہیں کہ ریاستی قانون کے تحت دیگر شقیں بھی ہیں جن کے تحت آپ ملزم کو جرمانہ ادا کرنے کا کہہ سکتے ہیں اور حکام گھروں کو مسمار کرنے سے قبل اس کا استعمال کر سکتے تھے۔

’گھروں یا جائیداد کو مسمار کرنا آخری حل سمجھا جاتا ہے۔‘

لیکن ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان نے اس طرح سے انصاف فراہم کرنے کی کوشش کی ہو۔ اس سے قبل بھی ماضی میں انھوں نے ریپ کے ملزموں، گینگسٹر اور دیگر مجرمان کے گھروں کو مسمار کیا تھا۔

تجزیہ کار راہل ورما کہتے ہیں کہ ‘ہم یہاں بھی ویسی ہی سیاست دیکھ رہے ہیں جیسا اتر پردیش میں ہوا، جسے نام نہاد یو پی ماڈل کہا جاتا ہے۔ اور اب اس کی چھاپ دیگر ریاستوں میں بھی دیکھی جا رہی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ’اس کا مقصد بی جے پی کے مرکزی، ہندوتوا حمایتی ووٹرز کو خوش کرنا ہے۔‘

زعفرانی رنگ کا لباس پہننے والے ہندو قومیت پسند یوگی آدتیہ ناتھ جو اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ ہیں نے خود کی ایک سخت گیر کے طور پر شناخت پیدا کی ہے جو اپنے ریاست میں جرم ختم کرنے کا مشن لیے ہیں۔ ان کی حکومت مبینہ جرائم پیشہ افراد کے گھروں کو مسمار کرتی رہتی ہے اس لیے انھیں ’بلڈوزر بابا‘کے نام سے جانا جاتا ہے۔

اس کے پیش نظر مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ کو بھی ان کے حمایتی ‘’بلڈوزر چاچا‘ یا ’بلڈوزر ماما‘ کے نام سے پکار رہے ہیں۔

دونوں ریاستوں نے ایسی پالیسیاں متعارف کروائی ہیں جنھیں مسلم مخالف قرار دیا جا رہا ہے ان میں بین المذاہب محبت یا شادی کے خلاف قانون سازی اور وہ متنازع قانون شامل ہے جس میں وہ احتجاج کرنے والوں سے سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والوں سے ہرجانہ لے سکتی ہے۔

ریاست اترپردیش میں اس قانون کو شہریت کے متنازعے قانون کے مخالفین کے خلاف استعمال کیا گیا ہے۔

جب گذشتہ برس اس قانون کو مدھیہ پردیش میں منظور کیا گیا تھا اس وقت وزیر اعلیٰ مشرا نے کہا تھا کہ اسے ایسے کسی بھی شخص کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے جو احتجاج، ہڑتال یا ہنگاموں کے دوران کسی سرکاری املاک کو نقصان پہنچائے اور اگر ضرورت پڑی تو ملزم کی جائیداد کو قرق کر کے ہرجانے کی رقم حاصل کی جا سکتی ہے۔

لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ مبینہ جرائم کی سزا کے لیے آپ کسی کے گھر کو مسمار نہیں کر سکتے، اس کی کسی بھی قانون کے تحت کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ ارشد وارسی کہتے ہیں کہ ‘آپ ایسا نہیں کر سکتے۔‘ ان کا مزید کہنا ہے کہ ‘کسی بھی قانون سے انکار کرتے ہوئے حکام خود قانون کو ہاتھ میں لے رہے ہیں اور عدالتوں کو بے وقت کر رہے ہیں۔ اور ریاست میں مسلمان برادری کو ریاستی حکومت کے رحم و کرم پر چھوڑ رہے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ ایسا ہی ہے کہ حکومت ایسے کرنے کے موقعے کے انتظار میں تھی۔‘

(بشکریہ: بی بی سی اردو)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN