اردو
हिन्दी
مئی 3, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

نئے اسلامی سال کا آغاز مختلف ممالک میں مختلف کیوں؟

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ گراونڈ رپورٹ
A A
0
نئے اسلامی سال کا آغاز مختلف ممالک میں مختلف کیوں؟
104
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

دنیا بھر میں نئے سال کے آغاز کی بات کی جائے تو جو تاریخ ذہن میں فوراً آتی ہے وہ یکم جنوری ہے جو گریگورین یا شمسی کیلنڈر کے مطابق نئے سال کا پہلا دن ہے لیکن اسلامی کیلنڈر میں نئے سال کا آغاز یکم محرم سے ہوتا ہے اور دنیا کے مختلف ممالک میں اس سال کا آغاز ایک دن کے فرق سے ہی ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر رواں برس بھی متعدد عرب ممالک میں نئے ہجری سال کا آغاز گریگورین کیلنڈر کے مطابق پیر نو اگست سے ہوا جبکہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت کئی ممالک میں یہ سال منگل دس اگست سے شروع ہوا ہے۔

اسلامی کیلنڈر کا آغاز پیغمبر اسلام کی مکّہ سے مدینہ ہجرت کے برس سے کیا گیا ہے اور یہ ہجری کیلنڈر کا 1443 واں سال ہے لیکن ہجری کیلنڈر کے بارے میں اور بھی حقائق ہیں جن کا ہم یہاں جائزہ لے رہے ہیں۔

قمری کیلنڈر

ہجری کیلنڈر زمین کے گرد چاند کے چکر پر مبنی ہے اور قمری مہینہ چاند کے ایک چکر کی تکمیل کے ساتھ مکمل ہو جاتا ہے۔ یہ گریگورین یا شمسی کیلنڈر کے برعکس ہے جو کہ سورج کے گرد زمین کی گردش پر مبنی ہے۔

آپ میں سے زیادہ تر لوگ اس سے واقف ہیں کہ ہجری مہینے کا اختتام اور آغاز نئے چاند کے دیکھنے کی بنیاد پر طے کیا جاتا ہے جو شمسی طریقے کے برعکس ہجری مہینوں کے دنوں کو غیرمعینہ بنا دیتا ہے۔ اس کے مطابق ہجری مہینے کے دنوں کی تعداد 29 اور 30 دنوں کے درمیان ہوتی ہے۔

اس بنا پر ہجری سال شمسی کیلنڈر کے مقابلے میں ہر سال 11 دن آگے بڑھ جاتا ہے جس کی وجہ سے اسلامی تہوار اور مواقع ہر سال مختلف موسموں اور اوقات میں آتے ہیں۔

قمری گردش کی تکمیل بھی جغرافیائی محل وقوع کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے جس کا مطلب ہے کہ ہجری مہینے کا آغاز ایک جگہ الگ ہو سکتا ہے اور دوسری جگہ مختلف۔

عالمی ہجری کیلنڈر

یہ ایک طریقہ ہے جسے ماہرین فلکیات کے ایک گروپ نے سنہ 2001 میں متعارف کرایا تاکہ مختلف ممالک میں نئے چاند کے رویت میں موجود تضاد کو کم کیا جا سکے۔

اس طریقے کو دوسری اسلامی فلکیاتی کانفرنس میں اختیار کیا گیا جو اکتوبر سنہ 2001 میں اردن کے دارالحکومت عمان میں منعقد ہوئی تھی۔

عرب یونین کی فلکیات اور خلائی سائنسز کمیٹی برائے ہلال، کیلنڈر اور اوقات نے کیلنڈر کا نیا خیال پیش کیا۔ یہ دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کرنے پر مبنی ہے۔

مشرقی نصف کرہ: 180 ڈگری مشرقی طول البلد اور 20 ڈگری مغربی طول البلد کے درمیان کا علاقہ۔

مغربی نصف کرہ: یہ طول بلد 20 ڈگری مغرب کے درمیان امریکہ کے مغرب میں ہے۔

کیلنڈر کا خیال ہجری مہینے کی 29 تاریخ کو ہر علاقے میں زمین کے کسی ایک حصے پر ہلال کا مشاہدہ کرنے پر مبنی ہے۔ اگر ہلال نظر آنے کی تصدیق ہو جاتی ہے (چاہے انسانی آنکھ سے ہو یا فلکیاتی آلات کی مدد سے) پورے علاقے میں اگلے دن نئے مہینے کے آغاز کا اعلان کیا جائے گا۔

اس کیلنڈر کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دنیا کے تمام حصوں میں ایک ہی دن ہجری مہینے شروع ہوتے ہیں، بلکہ یہ ممالک میں مہینوں کے آغاز میں فرق کو محدود کرتا ہے تاکہ یہ عالمی سطح پر ایک دن سے زیادہ نہ ہو۔

اسلام سے دو صدیاں پہلے

قمری تقویم پر اتفاق کرنے کے لیے سنہ 412 عیسوی میں مکہ میں عرب سرداروں کی ایک میٹنگ ہوئی، کیونکہ قمری مہینوں کے تعین میں عرب قبائل کے درمیان تضاد نے حج کے موسم اور تجارت کی نقل و حرکت کے حوالے سے انتشار پیدا کیا ہوا تھا۔

اس اجلاس میں ہر مہینے سے منسلک سرگرمیوں پر بھی اتفاق کیا گیا جن میں سے کچھ جنگ کے لیے کچھ تجارت کے لیے اور کچھ زیارت کے لیے مخصوص کیے گئے تھے۔

اس اجلاس میں مقدس مہینوں پر بھی اتفاق کیا گیا تھا جس کے دوران لڑائی حرام تھی اور یہ اسلام کی آمد کے بعد بھی جاری رہا۔ یہ مقدس مہینے ذوالقعدہ، ذی الحجہ، محرم اور رجب ہیں۔

17 سال بعد

اگرچہ ہجری کیلنڈر مکہ سے مدینہ ہجرت کے ساتھ شروع ہوتا ہے لیکن اس کا اہتمام 17 سال بعد شروع ہوا۔

اور یہ مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ عمر ابن الخطاب تھے جنھوں نے اسلامی ریاست میں ہجری کیلنڈر کو اپنایا جو پہلے عرب کیلنڈر کے نام سے جانا جاتا تھا اور پیغمبر اسلام کی ہجرت سے منسوب کرتے ہوئے اس سے لفظ ‘ہجری’ اخذ کیا۔

جن مہینوں کے نام آج ہم جانتے ہیں ان کا انتخاب کیا گیا جبکہ اس سے قبل قبائل نے مہینوں کے لیے مختلف نام استعمال کیے تھے۔ اور اس میں زیادہ تر وہ نام ہیں جن پر عربوں نے 412 عیسوی میں مکہ کے اجلاس میں اتفاق کیا تھا۔

نسی ایام

یہ پانچ دن ہیں جو عرب قمری سال میں شامل یا خارج کیے جاتے تھے۔

ان دنوں کی شمولیت یا اخراج کی وجہ مختلف تھی، جیسا کہ کچھ کا خیال ہے کہ وہ زمین کے گرد چاند کے چکر کے حساب میں اضافے یا کمی کے تابع تھے۔ دوسروں کا کہنا ہے کہ یہ مقدس مہینوں کے دنوں کی تعداد کو روکنے کا ایک طریقہ تھا۔

اسلام نے ان نسی ایام کو بعد میں اس حد تک ممنوع قرار دے دیا کہ وہ اسلامی تضادات اور مواقع کے اوقات کا حساب لگانے میں انتہائی تضاد کی وجہ ہو سکتے تھے۔

مہینوں کے نام

عرب قبائل صدیوں سے قمری تقویم کی پیروی کر رہے تھے اور ان کی زندگی کے ایک بڑے حصے پر اس کی عملداری تھی اور مہینوں کے نام یا تو ان موسموں سے وابستہ تھے جو ان کے موافق ہوتے ہیں یا ان میں سے ہر ایک میں عربوں کی سرگرمیوں یا ان میں لڑائی کی تقدیس سے متعلق تھے۔

مثال کے طور پر ربیع الاول اور ربیع الآخر کے مہینے موسم بہار کے موسم سے تعلق رکھتے تھے۔ جبکہ جمادی الاول اور جمادی الآخر سردیوں کے موسم سے ہم آہنگ تھے۔ رمضان کا مہینہ رمود سے ماخوذ ہے جو کہ اس وقت شدید گرمی کا زمانہ تھا اور اس نام سے اسی کا احساس ہوتا تھا۔

جہاں تک مقدس مہینوں کی بات ہے تو ذوالقعدہ عربوں کی جنگ سے غیر فعال ہونے کی علامت ہے۔ ذوالحجہ حج کا مہینہ تھا۔ جہاں تک محرم کی بات ہے تو یہ لڑائی کی ممانعت سے ماخوذ ہے۔ رجب ‘رجب النسل تیر’ سے ماخوذ ہے یعنی ان کو لڑائی کی ممانعت کے وقت ہٹانا ہے۔

جہاں تک صفر کی بات ہے، یہ عربوں کے ساتھ جنگ میں جانے سے متعلق ہے یہاں تک کہ گھر پیلے ہو جائیں یعنی وہ اپنے لوگوں سے خالی ہوجائیں۔ اور شعبان رجب میں بیٹھنے کے بعد عربوں کی جنگ اور تجارت کے درمیان تقسیم کے آغاز کی علامت ہے۔

اسلامی سال: یہ مختلف اوقات میں کیوں شروع ہوتا ہے؟

آج دنیا اسلامی نیا سال محرم کے مہینے سے شروع کرتی ہے اور یہ اسلام کے دوسرے خلیفہ کا اسلامی کیلنڈر کے آغاز کے طور پر اپنایا ہوا مہینہ ہے۔

عام عقیدے کے برعکس ہجری سال کے آغاز کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ 14 ویں سال میں پیغمبر اسلام کی مکہ سے مدینہ ہجرت کی صحیح تاریخ کے طور پر منایا جائے۔ یہ اسلامی حوالوں کے مطابق محرم نہیں بلکہ ربیع الاول کا مہینہ تھا۔

پیغمبر اسلام کی وفات کے بعد اور صحابہ سے مشورہ کرنے کے بعد عمر ابن الخطاب نے ایک اسلامی کیلنڈر اختیار کیا جسے ہجری کیلنڈر کہا گیا۔

اس طرح محرم کا نام اس مہینے کو دیا گیا جس میں عربوں نے جنگ سے منع کیا تھا اور صفر کا نام اس مہینے کو دیا گیا جس میں لوگوں کے گھر حملوں کے لیے ہجرت کی وجہ سے خالی ہوتے تھے۔

واضح رہے کہ مہینوں کے نام سال کے موسموں کے مطابق ہوتے تھے لیکن اس کے لیے ان کے حساب کے طریقہ کار میں تبدیلیاں کی جاتی تھیں۔ اب ان تبدیلیوں کے بغیر ہر سال یہ مہینے مختلف موسم میں ظاہر ہوتے ہیں۔

ہجری کیلنڈر نے چاند کی حرکت کو معیار کے طور پر قائم کیا اور رویت ہلال مسلمانوں کے رسم و رواج کا ایک لازمی حصہ بن گیا، جسے وہ مہینوں کی تاریخوں اور سالانہ تعطیلات کے تعین کے لیے اپناتے ہیں۔

یہ تاریخیں دنیا بھر کے ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں مختلف ہوتی ہیں ، کیونکہ ملائیشیا یا برازیل میں مسلمان ایک ہی وقت میں نئے ماہ کا چاند نہیں دیکھ سکتے کیونکہ چاند کی حرکت کی نوعیت زمین کے گرد اس کی گردش اور وقت کے باعث اس کے نکلنے اور ڈوبنے میں وقت لیتے ہیں۔

شمسی سال کی طرح قمری سال بھی دنیا کے مختلف حصوں میں مختلف اوقات میں شروع ہوتا ہے اور یہ ہر ملک کے جغرافیائی محل وقوع اور چاند کے دیکھنے کے زاویے پر منحصر ہے۔

ہجری سال کے معاملے میں یہ پریشانی ہے کہ نئے چاند کو اس کی پیدائش کے فورا بعد دیکھنے میں دشواری ہوتی ہے کیونکہ وہ سورج کی روشنی سے چمکتا ہے۔

متحدہ عرب امارات میں قائم بین الاقوامی فلکیات کا مرکز نماز کے اوقات کا تعین کرنے اور ‘نئے چاندوں کے مشاہدہ کے اسلامی منصوبے کی نگرانی سے متعلق ہے جو 21 سال قبل شروع کیا گیا تھا۔ اس پروجیکٹ میں 800 سے زیادہ سائنسدان اور ماہرین شامل ہیں، جو ہلال کا مشاہدہ کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور یہ مرکز ہلال کا شوقیہ نظارہ کرنے والے لوگوں کو بھی اجازت دیتا ہے کہ وہ ہلال کا مشاہدہ کرنے کی اپنی تصاویر بھیجیں جسے وہ چیک کرنے کے بعد اپنی ویب سائٹ پر شائع کرتے ہیں۔

مرکز کے ڈائریکٹر محمد شوکت عودہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘ہلال کو دیکھنے کے معیار نے ہزاروں سالوں سے اس میدان میں دلچسپی رکھنے والوں کو اپنی جانب متوجہ کیا ہوا ہے۔

عودہ نے وضاحت کی کہ نظر آنے کے معیارات بعد میں تیار ہوئے ‘ہمارے آباؤ اجداد، عرب اور مسلمان فلکیات دانوں جیسے الخوارزمی اور الطانی کے ساتھ ساتھ آج جدید معیار بھی ہیں جن میں سے سب سے مشہور شیفر معیار، الیاس معیار، ایک ملائیشین مسلمان فلکیات دان، برطانوی برنارڈ یالوپ معیار اور جنوبی افریقہ کے فلکیاتی رصدگاہ کا معیار وغیرہ شامل ہیں۔

اس کے نتیجے میں عودہ نے مشاہدے کے لیے ایک معیار شروع کیا جو سنہ 2005 میں ایک امریکی سائنسی جریدے میں شائع ہوا تھا، آج اسے بہت سے لوگوں نے منظور کیا ہے اور بین الاقوامی فلکیات مرکز نئے چاند کی نگرانی اور نماز کے اوقات کا تعین کرنے کے لیے اس پر انحصار کرتا ہے، اردن اور متحدہ عرب امارات کے سرکاری حکام اسی کی پیروی کرتے ہیں۔

(بشکریہ: بی بی سی )

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

ہم متبادل ورلڈ آرڈر کے حق میں، ٹیرف متاثرین کے لیے سرکار ہر ضروری قدم اٹھائے: امیر جماعت
گراونڈ رپورٹ

ہم متبادل ورلڈ آرڈر کے حق میں، ٹیرف متاثرین کے لیے سرکار ہر ضروری قدم اٹھائے: امیر جماعت

06 ستمبر
سنبھل فساد کی تحقیقاتی رپورٹ میں ایسا کیا ہے کہ یوگی حکومت پر اٹھے سوال دبا دیئے گیے؟
گراونڈ رپورٹ

سنبھل فساد کی تحقیقاتی رپورٹ میں ایسا کیا ہے کہ یوگی حکومت پر اٹھے سوال دبا دیئے گیے؟

01 ستمبر
آسام:بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت وتشدد میں بےحد اضافہ:India Hate Lab نے نیا ڈیٹا جاری کیا
گراونڈ رپورٹ

آسام:بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت وتشدد میں بےحد اضافہ:India Hate Lab نے نیا ڈیٹا جاری کیا

03 اگست
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN