نئی دہلی : (ایجنسی)
دہلی فسادات کی پولیس تفتیش پر سوال اٹھاتے رہے ایک جج کا تبادلہ کر دیاگیا ہے ۔ وہ تفتیش میں بدانتظامیوں کو لےکر پولیس کی تنقید کرتے رہے تھے اور پولیس تفتیش کو بےحس اور مضحکہ خیز تک قرار دے چکے تھے ۔ انہوں نے تو یہاں تک تبصرہ کر دیاتھا کہ پولیس کی ایسی تفتیش ملک کے باشندوں کے پیسےکی بربادی ہے اور ’ صحیح تفتیش کرنےمیں جانچ ایجنسی کی ناکامی یقینی طور سے جمہوریت کے محافظوں کو اذیت دے گی۔‘ انہوں نے دہلی پولیس کمشنر راکیش استھانہ سے ان پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنے کو بھی کہا تھا ۔
کڑ کڑ ڈوما کورٹ میں ایڈیشنل سیشن جج ونود یادو 2020 کے دہلی فساد کے کئی معاملوں کی سماعت کرتے رہے ہیں ۔ انہیں اب جج وریندر بھٹ کی جگہ پر نئی دہلی کے راؤز ایوینیو کورٹ میں خصوصی جج ( پی سی ایکٹ) ( سی بی آئی) کے طور پر منتقل کیا گیا ہے۔ جج وریندر بھٹ کڑکڑ ڈوما کورٹ میں ایڈیشنل سیشن جج کا عہدہ سنبھالیں گے ۔
شمال مشرقی دہلی کا یہ فساد فروری 2020 میں ہوا تھا ۔ شہریت (ترمیمی) ایکٹ کے حامیوں اور اس کے خلاف احتجاج کرنے والوں کے درمیان جھڑپ کے بعد تشدد میں 50 سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے اور سیکڑوں زخمی ہوئے تھے ۔ اسی فساد سے جڑے معاملوں میں جج ونود یادو سماعت کررہے تھے ۔
اپنے تبادلے سےایک دن پہلے ہی جج ونود یادو نے دہلی پولیس کی خوب تنقید کی تھی۔ پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا تھا کہ پولیس گواہ حلف پر جھوٹ بول رہی ہے اور متضاد بیان دے رہی ہے ۔ انہوں نے یہ تبصرہ تب کیاتھا جب سماعت کے دوران ایک پولس اہلکار نے تین مبینہ فساد کرنے والوں کی شناخت کی، لیکن دوسرے نے کہاکہ جانچ کے دوران ان کی شناخت نہیں کی جاسکی۔ جج نے اس حوالہ سے یہ کہتے ہوئے پولیس کمشنر ( شمال مشرقی) سے رپورٹ مانگی تھی کہ’ یہ بے حد افسوسناک صورت حال ہے ۔‘
گزشتہ مہینے سماعت کے دوران بھی پولیس کی انہوں نے زبردست کھینچائی کی تھی ۔ ’لائیو لاء ‘کی رپورٹ کے مطابق پولیس جانچ کی تنقید کرتےہوئے انہوں نے کہا تھا کہ جب تاریخ تقسیم کے بعد دہلی میں سب سے بدترین فرقہ وارانہ فساد ات کا مشاہدہ کرے گی تو جدید سائنسی طریقوں کے استعمال کے بعد بھی صحیح جانچ کرنے میں جانچ ایجنسیوں کی ناکامی یقینی طور سے جمہوریت کے محافظوں کو اذیت پہنچائے گی۔
تفتیشی ایجنسی کو پھٹکار لگاتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اس معاملے میں چشم دید گواہوں ، حقیقی ملزمین اور تکنیکی ثبوتوں کا پتہ لگانے کےلیے کوئی کوشش کئے بغیر ہی صرف چارج شیٹ کو داخل کر کے معاملہ سلجھادیا گیا لگتا ہے ۔
انہوں نے کہا تھا ،’یہ عدالت ایسے معاملہ کو عدالتی نظام کےراہداریوں میں بغیر سوچے سمجھے ادھر -ادھر بھٹکنے کی اجازت نہیں دے سکتا ہے ، اس عدالت کے قیمتی عدالتی وقت کو برباد کرتے نہیں چھوڑ سکتا ہے جبکہ یہ کیس آئینہ کی طرح صاف ہے ۔ ‘
ایڈیشنل سیشن جج ونود یادو نے اس معاملے کو ٹیکس دہندگان کی محنت سے کمائی گئی رقم کا بہت بڑا ضیاع قرار دیا ، جس میں پولیس نے صرف عدالت کی آنکھوںپرپردہ ڈالنے کی کوشش کی اور کچھ نہیں۔ ایک دیگر معاملے میں جج ونود یادو نے کہا تھا کہ جانچ کا معیار بہت خراب ہے ۔ انہوںنے غلط طریقے سے کلب کی گئی ایف آئی آر پر بھی اعتراض ظاہر کیا تھا۔
دہلی پولیس کی تفتیش پر اس طرح کے ریمارکس دینے والے جج نے دہلی پولیس کمشنر راکیش استھانہ سے بھی مداخلت کرنے کو کہہ چکے ہیں۔ پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق پچھلے کچھ مہینوں میں جج نے بار بار دہلی پولیس کمشنر راکیش استھانہ سے جانچ کی نگرانی کرنے اور قصور وار پولیس افسران کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے مداخلت کرنے کو کہا ۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ دہلی کے شمال مشرقی ضلع میں تقریباً750 مقدمات درج کئے گئے ،جن میں سے زیادہ تر معاملے اس عدالت کے زیر سماعت ہیں۔ ابھی تک تقریباً 35معاملوں میں ہی فرد جرم عائد کیا گیا ہے ۔ بتا دیں کہ گزشتہ سال دہلی ہائی کورٹ دہلی کے شمال مشرقی اور شاہدرہ اضلاع میں درج فرقہ وارانہ تشدد کے مقدمات کی سماعت کے لیے دو سیشن اور دو مجسٹریٹ عدالتیں مقرر کی تھیں۔










