تحریر: ارویند سنگھ، نئی دہلی
سماج وادی پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو سوشل انجینئرنگ کے ذریعے یوپی کا قلعہ فتح کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس کے تحت پارٹی میں جہاں فرنٹل تنظیموں کو مضبوط کر رہی ہے وہیں ایس پی میں پہلی بار دلت تنظیم بنا کر نئے طبقے کو راغب کرنے کی حکمت عملی پر زور دیا جا رہا ہے۔ وجے یاترا کے آغاز کے ساتھ ہی ایس پی صدر نے ریاست بھر میں جاری پارٹی مہم کا جائزہ لینے کی کمان سنبھال لی ہے۔
ایس پی کے پالیسی ساز کو اس بات کا بھروسہ ہے کہ مہنگائی، پٹرول – ڈیزل کے آسمان چھوتی قیمتوں ، کسانوں کا مسئلہ، بے روزگاری وغیرہ کو لے کر یوپی میں بی جے پی کی سرکار کا گراف گرا ہے ۔ ایس پی لوگوں کے اس غصے کو اپنے حق میں کیش کرانے میں مصروف ہے ۔ ایسے میں پارٹی کارکنوں کی محنت اور سوشل انجینئرنگ کا فارمولہ ایس پی کو یوپی کااقتدار دلاسکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی نے پردیش کی 72 رکنی ایگزیکٹیو کمیٹی کا اعلان کیا اس میں تمام طبقات کا خاص طور پر دھیان رکھا گیا۔ یہاں تک کہ ذات پر مبنی فارمولیشن ایسا بنایا گیا کہ نہ تو یادو کو زیادہ جگہ ملی اور نہ ہی مسلمانں کو۔ اس میں سماج کے طبقات کو نمائندگی دی گئی ہے ۔
پارٹی لیڈروں کا کہنا ہے کہ یوپی میں انتخابات قریب ہونے کے باوجود بی ایس پی سپریمو مایاوتی کے پس منظر میں ہونے کا فائدہ ایس پی کی دلت تنظیم کو تقویت دے رہا ہے۔اس تنظیم کا انچارج مٹھائی لال بھارتی کو بنایا ہے، جو کہ طویل عرصہ تک بی ایس پی میں رہے ہیں۔ بی ایس پی کی کم ہو رہی مقبولیت کے درمیان دلتوں کو نئی تنظیم کی ضرورت محسوس ہورہی ہے ۔ ایسے میں یوپی کے سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی ہی ایک بڑے ٹھکانے کے طور پر نظر آرہی ہے ۔
ایس پی کے مطابق ریاست میں دلتوں اور مسلمانوں کو اب چھوٹی تنظیموں پر بھروسہ نہیں ہے۔ اس لیے اب ان کا جھکاؤ ایس پی کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔پھر چاہے اسدالدین اویسی کی پارٹی ہو یا بھیم آرمی کے چندر شیکھر آزاد کی پارٹی ۔ ان پارٹیوں کا پورے پردیش میں نمائندگی نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی مسلمانوں کے فلاح وبہبود کو لے کر پیس پارٹی بنی لیکن اس کا وجود نہ ہونے کےبرابر رہا۔ سوشل انجینئرنگ کے ذریعہ ایس پی اس طبقے کو اپنے حق میں لانے کی کوشش کررہی ہے ۔
اکھلیش یادو پارٹی کی قومی ایگزیکٹیو میں بھی زیادہ سے زیادہ دوسری ذاتوںکو نمائندگی ملے اس کے لیے بھی تبدیلی کر سکتے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق ریاستی ایگزیکٹیو کمیٹی تشکیل دینے کے بعد جلد ہی قومی ایگزیکٹیو میں تبدیلی ہوگی اور اس میں تمام طبقات کو نمائندگی دی جائے گی ۔
ایس پی کے ایم ایل سی اور قومی ترجمان سنیل سنگھ ساجن نے ’ہندوستان‘ کو بتایا کہ بی جے پی نے اتر پردیش کے دلتوں، پسماندہ، محروموں، مزدوروں، کسانوں، نوجوانوں کو جھوٹ بول کر ووٹ لیا، لیکن ان کو ان کا حق نہیں دیا گیا۔ ایس پی قومی صدر اکھلیش یادو اس طبقے کو ان کا حق دلانے کے لیے جدو جہد کررہے ہیں ۔ یوپی میں ایس پی حکومت میں جس کی جتنی حصہ داری ، سرکار میں اس کی اتنی بھاگیداری ہوگی اور ایس پی حکومت کے تحت یوپی دوبارہ ترقی کی راہ پر پہلے کی طرح آگے بڑھے گی۔










