وارانسی:(ایجنسی)
کیا بی جے پی ایک بار پھر گائے کو انتخابی مسئلہ بنائے گی اور اترپردیش اسمبلی انتخابات 2022 میں اس مسئلہ پر ہندوؤں کے جذبات کو ووٹوں میں تبدیل کرنے کی کوشش کرے گی؟ ایودھیا کے بعد کاشی متھرا کا مسئلہ بی جے پی والے اٹھا رہے ہیں، اس میں گائے کو شامل کرنے سے ہندوتوا کے ایجنڈے کی تکمیل ہوگی۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو وارانسی میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ہمارے یہاں گائے کی بات کرنا ،گوبردھن کی بات کرنا، کچھ لوگوں نے ایسے حالات پیدا کردئے ہیں جیسے ہم گناہ کررہے ہیں۔ گائے کچھ لوگوںکے لئے گناہ ہو سکتی ہے ،ہمارے لئے گائے ماتا ہے۔ پوجنےکے لائق ہے ۔
مودی نے گائے کو لے کر یہ بات ایسے وقت میں کہی ہے جب اتر پردیش حکومت جلد ہی گائے کے لیے ایمبولینس سروس شروع کرنے جا رہی ہے۔ یہ سروس ان گایوں کے لیے ہوگی جو بیمار ہیں۔ریاستی ڈیری ڈیولپمنٹ منسٹر لکشمی نارائن چودھری نے گزشتہ ماہ اس کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کام کے لیے 515 ایمبولینس تیار کی گئی ہیں۔ وزیر نے متھرا میں صحافیوں کو بتایا کہ بیمار گایوں کے بارے میں معلومات دینے کے لیے ایمرجنسی نمبر 112 جاری کیا گیا ہے۔ وزیر نے کہا، ’ایک ویٹرنری ڈاکٹر اور دو معاون بھی ایمبولینس میں ہوں گے اور ایمبولینس بیمار گائے کے بارے میں اطلاع ملنے کے 15 سے 20 منٹ کے اندر موقع پر پہنچ جائے گی۔
اس کے لیے لکھنؤ میں ایک کال سینٹر بھی بنایا جا رہا ہے۔ چودھری نے کہا کہ اترپردیش کی تاریخ میں پہلی بار حکومت کی طرف سے گئوشالوں کے لیے رقم دی گئی اور یہ یوگی حکومت نے کیا ہے۔ بتادیں کہ 2019 میںاتر پردیش حکومت نے آوارہ گایوں کی دیکھ بھال کے لیے آشریہ استھل بنانے ،ان کے چارے – پانی کے لیے شراب کی بکری پر 0.5فیصداضافی ’ سیس ‘ لگایا تھا۔ اس کے علاوہ گایوں کے لیے آشریہ استھل بنانےاور ان کی دیکھ بھال کےلیے کارپوریشن کو پیسے دئے گئے تھے۔ ریاستی حکومت نے دیہاتوں اور بلدیاتی اداروں میں گئو شالہ بنانے کے لیے بھی فنڈ جاری کیا تھا۔










