اردو
हिन्दी
مئی 5, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

کیا حماس ختم ہو جائے گی؟

2 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
0
208
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:وسعت اللہ خاں
جب نیتن یاہو کہتا ہے کہ حماس کو جڑ سے اکھاڑے بغیر غزہ کا مسئلہ حل نہیں ہو گا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت غزہ کے تیئس لاکھ فلسطینیوں میں جتنے بھی بوڑھے ہیں وہ سب کے سب سابق حماسی یا حماس کے ہمدرد ہیں۔ جتنے بھی ڈاکٹر، مریض، اساتذہ، ہنرمند اور کسان ہیں وہ حماس کے ڈھانچے کو برقرار رکھنے والی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ جتنی بھی عورتیں ہیں انہوں نے یا تو حماسیوں کو جنم دیا ہے یا پھر جنم دے رہی ہیں۔ اور جتنے بچوں کو بھی جنم دیا جا رہا ہے وہ اگلے چودہ پندرہ برس میں اسرائیل کے لیے ایک بار پر بقائی خطرہ بن کے کھڑے ہو جائیں گے۔ چنانچہ یہ سب واجب القتل ہیں کیونکہ یہ سب حماس ہیں۔ یا تو یہ سب غزہ کی پٹی سے کوچ کر جائیں یا اس دنیا سے کوچ کر جائیں۔
اسی نیتن یاہو ڈاکٹرائین پر عمل کے لیے اسرائیلی فوجی مشینری کو استعمال کیا جا رہا ہے اور اس ڈاکٹرائین کو نوے فی صد اسرائیلی شہریوں کی کھلی یا خاموش حمایت بھی حاصل ہے۔ لہٰذا کوئی بھی امن سمجھوتا جس میں اسرائیل کو ان تمام ’’حماسیوں‘‘ کے قتل سے روکنے کی شرط شامل ہو موجودہ اسرائیلی اسٹیبشلمنٹ کے لیے ناقابل ِ قبول ہے۔
اس لیے اب تک جنگ بندی کے لیے اقوامِ متحدہ نے جتنی بھی قراردادیں منظور کی ہیں، عالمی عدالت ِ انصاف نے جو بھی قانونی رائے دی ہے۔ بائیڈن فارمولے کے نام سے جو بھی تین مرحلوں پر مشتمل امن منصوبہ سامنے رکھا گیا ہے، اسرائیلی یرغمالیوں کے رشتے داروں نے جنگ بندی کے حق میں جتنے بھی دھرنے دیے ہیں۔ حتیٰ کہ اسرائیلی فوجی ہائی کمان نے بھی حماس کو جڑ سے اکھاڑنے کی خواہش کو ناقابل ِ عمل قرار دیا ہے۔ اس سب کے باوجود نیتن یاہو کا حماس کو جڑ سے اکھاڑنے کا تصور ٹس سے مس نہیں ہو سکا۔ اس فاشسٹ حکومت کے لیے غزہ میں آخری فلسطینی کے مٹنے تک کوئی امن منصوبہ قابل ِ قبول نہیں۔
اسی برس پہلے ہٹلر نے بھی کم و بیش یہی عزم ظاہر کیا تھا کہ سب اس کے غلام بن جائیں یا پھر مر جائیں تب ہی جو امن قائم ہوگا وہ نازیوں کو قابل ِ قبول ہو گا۔ مگر باقی دنیا نے ان شرائط کو تسلیم نہیں کیا اور ہٹلر کی لاش گرنے کے بعد ہی امن قائم ہو پایا۔ مگر وہ پرانا زمانہ تھا یہ نئی مہذب اور ترقی یافتہ صدی ہے۔ وہ نازی جرمنی تھا یہ آج کے ہٹلر کا اسرائیل ہے۔ مگر عالمی چودھریوں اور ان کے طفیلیوں کے قول و فعل میں فرق صاف ظاہر ہے۔
حماس کی اسرائیلی تشریح کے برعکس دیگر محققین کے لیے حماس ایک مسلح سیاسی تنظیم ہے جس کی تربیت یافتہ افرادی قوت سات اکتوبر سے پہلے اسی ہزار سے ایک لاکھ کے درمیان فرض کی جاتی رہی ہے۔ اس کا اسلحہ اسمگلڈ ہتھیاروں اور خانہ ساز ابتدائی نوعیت کی ہتھیاری صنعت سے حاصل ہوتا تھا۔ اس کی حکمت ِ عملی میں غزہ میں زیر ِ زمین سرنگوں کا جال کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ اسے قطر، ایران، یمنی ہوثیوں اور لبنانی حزبِ اللہ کی حمایت حاصل تھی۔ اب قطر نے خود کو ثالث کے درجے پر فائز کر لیا ہے۔
غزہ میں حزبِ اللہ نے دو ہزار چھے میں انتخابی کامیابی کے نتیجے میں حکومت بنائی۔ اس کے باوجود اسرائیل، امریکا اور بیش تر مغربی ممالک اسے دہشت گرد تنظیم سمجھ کے براہ راست معاملات طے کرنے سے گریزاں رہے۔ البتہ یہ علامتی طور پر فلسطینی اتھارٹی کا حصہ رہی اور اب فلسطینی اتھارٹی نے کئی برس بعد چینی ثالثی کے نتیجے میں حماس کو دوبارہ اپنا حصہ تسلیم کر لیا ہے۔
اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے گزشتہ دس ماہ میں حماس کے مسلح بازو القسام بریگیڈ کی پچھتر فی صد عسکری طاقت ختم کر دی ہے۔ آدھی سے زائد زیر ِ زمین سرنگوں کا صفایا کر دیا ہے اور لگ بھگ پندرہ ہزار متحرک مسلح گوریلوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ اتنے ہی چھاپا مار زخمی ہوئے ہیں اور چار ہزار اسرائیلی قید میں ہیں۔
البتہ اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ کی خبر ہے کہ جیسے ہی اسرائیلی دستے کسی علاقے سے واپس ہوتے ہیں۔ حماس اٹھارہ برس سے اوپر کے نوجوانوں کی ریکروٹمنٹ شروع کر دیتی ہے۔ یہ وہ نوجوان ہیں جن کا اب کچھ نہیں بچا۔ ان کی شکل میں اسرائیل نے دراصل ایک اور انتقامی نسل کی فصل کھڑی کر دی ہے۔ حماس کو جڑ سے اکھاڑ کے اسرائیل اپنی سرحدوں کو محفوظ کرنے کا جو خواب دیکھ رہا تھا وہ سرحدیں کم ازکم ایک اور فلسطینی نسل کے غصے کے سبب اور غیر محفوظ ہو گئی ہیں۔
آج دس ماہ بعد بھی جب غزہ ہر اعتبار سے ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے اسرائیل پر اب بھی غزہ کی جانب سے اکادکا راکٹ گرتے رہتے ہیں۔ یہ راکٹ نہیں اسرائیل کے منہ پر طمانچہ ہیں جو چالیس ہزار سے زائد انسانوں کو قتل کرنے اور ایک لاکھ کے لگ بھگ لوگوں کو زخمی کرنے اور بیس لاکھ لوگوں کو دربدر کرنے کے باوجود اسرائیل کے منہ پر پڑ رہے ہیں۔حماس نے اپنی بٹالینیں توڑ دی ہیں اور اب اس کے جنگجو ایک دو پانچ اور دس کی ٹولیوں میں متحرک ہیں۔ انہیں پناہ گزینوں کے ہجوم میں تلاش کرنا بھوسے میں گم سوئی ڈھونڈنے کے برابر ہے۔ چنانچہ اس کا حل یہ نکالا گیا ہے کہ جہاں حماس کی موجودگی کا شبہہ ہو وہ پورا علاقہ ہی برباد کر دیا جائے۔ یہ حکمت ِ عملی بھی کامیاب نہیں ہو پا رہی ہے۔
پچھلے دس ماہ میں اسرائیل نے ہزاروں حماسیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ تو کیا ہے مگر ایک بھی واقعہ ایسا سامنے نہیں آیا کہ حماس کے کسی مسلح یونٹ یا چھوٹی سے چھوٹی ٹولی نے اسرائیلی فوج کے سامنے ہتھیار ڈال کے خود کو ان کے حوالے کر دیا ہو۔ حماسی فائٹر اس مکھی کی طرح آپریٹ کر رہے ہیں جو آپ کے منہ کے اردگرد اڑ رہی ہے اور بیٹھ رہی ہے اور آپ اسے ہلاک کرنے کی کوشش میں اپنا ہی منہ پیٹ پیٹ کے لال کر لیں۔ ان دس ماہ میں ایک بات تو ثابت ہو گئی کہ اسرائیل اپنی بے پناہ طاقت کے باوجود ناقابل ِ تسخیر ہرگز ہرگز نہیں۔
حماس کو تباہ کرنے کے اسرائیلی دعوے اپنی جگہ مگر خود اسرائیل کے سرپرست بھی انہیں ماننے کو تیار نہیں۔ امریکی انٹیلی جنس ذرایع کہتے ہیں کہ اسرائیل اب تک حماس کی محض تیس سے پینتیس فی صد تک عسکری قوت اور صرف پینتیس فی صد زیر ِ زمین سرنگیں ختم کر پایا ہے۔ جتنے مرتے ہیں ان سے کہیں زیادہ بھرتی ہونے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ جو غلطی اسرائیل آج کر رہا ہے امریکا وہی غلطی پچاس برس پہلے ویتنام میں اور پچیس برس پہلے افغانستان میں کر چکا ہے۔ مگر اسرائیل کا خیال ہے کہ جہاں کوئی اور کامیاب نہیں ہو سکا وہ ضرور کامیاب ہو جائے گا۔ اسرائیل کے لیے بری خبر یہ ہے کہ تاریخ کا قبرستان ایسی ریاستوں سے بھرا پڑا ہے جو اپنی ناقابل ِ تسخیریت کے نشے میں اندھی اور بہری ہو کر مٹ گئیں۔ اور اب سیاحوں میں نشانِ عبرت کے طور پر مقبول ہیں۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN