اردو
हिन्दी
جون 26, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

دہلی فساد میں ماخوذ خاتون دس ماہ کے بعد ضمانت پر آزاد

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ خبریں
A A
0
دہلی فسادات: تین ملزمین بری ، کورٹ نے پولیس کو کیا شرمسار ،کہا: ’تاریخ میں سیاہ باب کے طور پر درج ہوگی تفتیش‘
39
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

نئی دہلی: (پریس ریلیز)

شمال مشرقی دہلی فساد میں الزامِ ناحق کی شکار دو چھوٹے بچوں کی ماں تبسم کو بالآخر دس ماہ بعد ضمانت مل گئی۔ جج سبرامنیم پرساد نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ کورٹ کا یہ آئینی فریضہ ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ سرکار کی زیادتی کی وجہ سے کسی فرد کی شخصی آزادی متاثر نہ ہو۔ انھوں نے کہا کہ ضمانت اصل ہے اور قید کرنا استثنائی امر ہے، عدالتوں کو اپنے دائرہ اثر کو استعمال کرتے ہوئے شخصی آزادی کو بحال کرنا چاہیے، سپریم کورٹ نے بارہا اس پر زور دیا ہے کہ عدالتوں کو دو پہلوؤں پر بیداری کا مظاہرہ کرنا چاہیے،اول یہ کہ وہ فوجداری قانون کے مناسب نفاذ کو یقینی بنائیں اور ساتھ ہی اس بات کو بھی یقینی بنائیں کہ قانون کسی کو ہراساں کرنے کا ٹول نہ بن جائے۔

فاضل جج نے تبسم کے مقدمہ کے سلسلے میں مذکورہ تاثر پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملزمہ دس ماہ سے جیل میں بند ہے، اس کے سلسلے میں ثبوتوں کے مطالعے سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ وہ احتجاجی مقام کے آس پاس کے کسی بھی ویڈیو فوٹیج میں نظر نہیں آرہی ہے اور استغاثہ کا یہ دعویٰ کہ برقعہ پہننے والی چند خواتین کو پولیس اہلکاروں پر حملہ کرتے ہوئے پکڑا گیا ہے جیساکہ ویشال چودھری کے ویڈیوفوٹیج میں ایسا آیا ہے،بے وزن بات ہے۔کیونکہ ملزمہ کی شناخت ویڈیو میں نہیں ہوسکی۔ اس لیے عدالت کی رائے ہے کہ ملزمہ کی مسلسل قید کا کوئی جواز نہیں ہے۔

محترم جج نے یہ بھی کہا کہ کورٹ کی رائے یہ ہے کہ محض احتجاج کے منتظمین میں سے ایک ہونے یا احتجاج میں شریک دیگر افراد کے ساتھ رابطے میں ہونا اس امر کو ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہے کہ کوئی شخص فساد کی پیشگی سازش میں شریک تھا۔ واضح رہے کہ احتجاج اور اظہار رائے کا حق جمہوری ڈھانچہ میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے، اور اس لیے احتجاج کرنے کے عمل کو کسی کو جیل میں بند کرنے کا ہتھیار نہیں بنایاجاسکتا۔نیز اس معاملے میں چوتھی چارج شیٹ پہلے ہی دائر کی جاچکی ہے، نیز مقدمے کی سماعت میں کافی وقت لگے گا۔ اس لیے ملزمہ جس کے دو چھوٹے بچے ہیں، کو غیر معینہ مدت کے لیے جیل کی سلاخوں کے پیچھے رکھنا دانشمندی نہیں ہوگی۔

درخواست گزار اپنے معاشرہ میں بااثر خاتون ہیں، اس وجہ سے، اس کے مفرور اور فرار ہونے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ مزید برآں، درخواست گزار کے دو شریک ملزمان کوپہلے ہی ضمانت مل چکی ہے، اس لیے ان کو بھی ضمانت دی جاتی ہے۔فیصلے سے قبل جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے مقررکردہ وکیل ایڈوکیٹ محمد عبدالغفار، ایڈوکیٹ نوراللہ اوردکشا دیویدی نے کہا کہ محترمہ تبسم ایک ذمہ دارشہری ہیں، انھوں نے کسی بھی تشدد میں حصہ نہیں لیا،وہ چاند باغ کی رہنے والی ہیں اور وزیر آباد میں جہاں رتن لال پر حملہ ہوا، وہ وہاں سے صرف تین سو میٹر کی دوری پر رہتی ہیں، دہلی پولس نے اس پر جو بھی الزامات لگائے ہیں، وہ سب بے بنیاد ہیں اور پولس کی طرف سے پیش کردہ کوئی بھی ثبوت اسے ذرہ برابر بھی ثابت نہیں کرتے، فساد کے چھ ماہ بعد دہلی پولس نے اس کے گھر کے باہر نوٹس لگادیا کہ وہ پولس میں حاضر ہوں، حالاں کہ وہ کووڈ کی وجہ سے اپنے آبائی وطن میں تھی، بعد میں پولس نے گرفتار کیا اور نومبر 2020 میں پیش کردہ اضافی چارج شیٹ میں اس کا نام بڑھادیا۔

عدالت کے فیصلے اور آراء پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا محمود مدنی نے کہا کہ عدالت نے جو کچھ بھی کہا ہے کہ وہ سچ کا آئینہ دار ہے، عدالتوں نے جس طرح سے ر د عمل کاا ظہار کیا ہے کہ اس سے دہلی فساد میں پولس اور تحقیقاتی ایجنیسیوں کا کردار بے نقاب ہوا ہے۔ جمعیۃ علماء ہند نے تو شروع میں ہی دہلی ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی تھی کہ دہلی فساد کی منصفانہ انکوائری کرائی جائے اور ثبوتوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے، انھوں نے کہا کہ افسوس اس بات پر ہے کہ فساد کے ڈیرھ سال گزر جانے کے باوجود بھی اصل مجرم کا پتہ نہیں چلا اور خانہ پری کے لیے قصور افراد کو پکڑ پکڑ کر جیل میں ڈال دیا گیا، انھوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ فساد کے آٹھ ماہ بعد تبسم کے گھر کے باہر نوٹس دالا گیا، جس سے ایک شہری کی سماجی زندگی متاثرہوئی اور اسے محض تخیل کی بنیاد پر دس ماہ تک جیل میں رہنا پڑا۔جمعیۃ علماء ہند ایسے پریشان لوگوں کے مقدمات لڑرہی ہے، اللہ کا شکر ہے کہ ہمارے وکلاء کے پینل کی کوشش سے تین سو مقدمات میں ضمانت ملی ہے، جمعیۃ ایڈوکیٹ نیاز احمد فاروقی کی نگرانی میں ساڑھے تین سو سے زائد مقدمات کی پیروی کررہی ہے۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

شہادتِ امام حسینؓ کا پیغام
خبریں

شھادت امام حسینؓ کا پیغام – محمد قطب الدین ابو شجاع

26 جون
ڈنمارک اذان پابندی
خبریں

ڈنمارک میں عوامی اذان پر پابندی کی تجویز، سیاسی بیان پر نئی بحث

26 جون
ہائی کورٹ آئی ٹی ایکٹ فیصلہ
خبریں

ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ، سوالیہ پرچے کی تصویر واٹس ایپ پر بھیجنا رازداری کی خلاف ورزی نہیں

26 جون
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
passport-not-proof-of- indian citizenship

پاسپورٹ شہریت کا حتمی ثبوت نہیں! جانیے پھر شہریت کا اصل اور قانونی ثبوت کیا ہے؟

جون 25, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
وینزویلا زلزلہ تباہی

وینزویلا میں قیامت خیز زلزلہ: 32 افراد ہلاک، 700 سے زائد زخمی، کئی عمارتیں زمین بوس

جون 25, 2026
ٹرمپ پزشکیان معاہدہ

صدر ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے 14 نکاتی تاریخی امن معاہدے پر دستخط کر دیے

جون 18, 2026
شہادتِ امام حسینؓ کا پیغام

شھادت امام حسینؓ کا پیغام – محمد قطب الدین ابو شجاع

ڈنمارک اذان پابندی

ڈنمارک میں عوامی اذان پر پابندی کی تجویز، سیاسی بیان پر نئی بحث

ہائی کورٹ آئی ٹی ایکٹ فیصلہ

ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ، سوالیہ پرچے کی تصویر واٹس ایپ پر بھیجنا رازداری کی خلاف ورزی نہیں

ابھیجیت دیپکے کا انوکھا احتجاج

"ہیپی برتھ ڈے، براہِ کرم استعفیٰ دے دیں”؛ ابھیجیت دیپکے کا دھرمیندر پردھان کو انوکھا تحفہ

شہادتِ امام حسینؓ کا پیغام

شھادت امام حسینؓ کا پیغام – محمد قطب الدین ابو شجاع

جون 26, 2026
ڈنمارک اذان پابندی

ڈنمارک میں عوامی اذان پر پابندی کی تجویز، سیاسی بیان پر نئی بحث

جون 26, 2026
ہائی کورٹ آئی ٹی ایکٹ فیصلہ

ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ، سوالیہ پرچے کی تصویر واٹس ایپ پر بھیجنا رازداری کی خلاف ورزی نہیں

جون 26, 2026
ابھیجیت دیپکے کا انوکھا احتجاج

"ہیپی برتھ ڈے، براہِ کرم استعفیٰ دے دیں”؛ ابھیجیت دیپکے کا دھرمیندر پردھان کو انوکھا تحفہ

جون 26, 2026

حالیہ خبریں

شہادتِ امام حسینؓ کا پیغام

شھادت امام حسینؓ کا پیغام – محمد قطب الدین ابو شجاع

جون 26, 2026
ڈنمارک اذان پابندی

ڈنمارک میں عوامی اذان پر پابندی کی تجویز، سیاسی بیان پر نئی بحث

جون 26, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN