اردو
हिन्दी
مئی 10, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

خواتین،نصف آبادی، پورا وجود، بہتر رول کا تعین

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
خواتین،نصف آبادی، پورا وجود، بہتر رول کا تعین
58
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:مولانا عبد الحمید نعمانی

خاتون ، جنت سے آدم کے ساتھ رہی ہے، اس لیے اسے انسانی آبادی سے کوئی الگ نہیں کر سکتا ہے،اس کا سماج کی تشکیل و تعمیر میں بنیادی رول ہوتا ہے، زندگی کو محض جاننے یا محض جینے سے تکمیل وجود و سماج کا مرحلہ پورانہیں ہوتا ہے،زندگی کو محض جاننا ، اسے صرف جینا دونوں میں ادھورا پن ہے۔خواتین کی رفاقت و معاونت اور انہیں جان لینے کے ساتھ ہی بہتر زندگی اور گھر، سماج بامعنی ہو سکتے ہیں ، یہ معاملہ ،یکطرفہ نہیں بلکہ دو طرفہ ہے ،یقینا وجود زن سے کائنات میں رنگ ہے،بہ ظاہراقبال کا تبصرہ ادھورا ہے۔

لیکن بہتر سماج کی صحیح تکمیل کے عمل کو ملا لینے کے لیے ، خواتین کی زندگی اور با رونق وجود کے لیے مرد کا وجود قدرت کے تخلیقی عمل میں لازماً موجود ہے ، سماج میں رجالی وجود تو سب کے سامنے اور ظاہر و باہر ہے، اس کے لیے کلام اقبال اور خالق کائنات کی ہدایت نامے میں الگ سے اسے سامنے لانے کی ضرورت بھی نہیں ، مرد اساس سماج میں خواتین کے وجود کو جس مختلف زوایے سے زمانہ قدیم سے آج تک دیکھا جاتا رہا ہے ، اس کے مد نظر ان کے رول کا تعین اور وقت کے تقاضوں کے تحت تجدید و تذکیر ایک ضرورت ہونے میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہ جاتی ہے ۔ اس حوالے سے کسی بھی مذہب و معاشرے کی اعلیٰ ادنی کسوٹی ، خواتین کے متعلق اس کا اختیار کردہ رویہ و عمل ہے اس سلسلے میں انسانی تاریخ میں سب سے زیادہ واضح کسوٹی اور رہ نمائی رسول کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش کی ہے کہ خواتین کی عزت شرافت کی دلیل اور ان کی تذلیل کمینگی کا ثبوت ہے۔ ما اکرم النساءالاّ کریم وما اھانھنّ الّالئیم۔مرد بغیر عورت کے پورا نہیں ہو سکتا ہے وہ مرد کا حصہ و جنس ہے ۔ (النساءشقائق الرجال)خواتین کا کردار کہیں کہیں مرد سے ، تخلیقی ساخت کی وجہ سے الگ ہو سکتا ہے ۔لیکن اسے کم تر قرار نہیں دیا جا سکتا ہے ۔ اسے کم تر قرار دینے اور اپنے دائرے میں بھی تحریک وعمل پر پابندی اور غیر ضروری حد بندی سے غیر معتدل اور جارحانہ رد عمل سامنے آتا ہے۔ ایسی حالت میں مرد، عورت کے موافق و معاون کردار سے ایک بہتر معاشرے کی تشکیل اور قدرتی مقاصد کی تکمیل کی راہ مسدود ہو کر رہ جاتی ہے ۔ سماج، منزل مقصود تک، صراط مستقیم سے پہنچے گا، نہ کہ ٹیڑھی لکیر (عصمت چغتائی ) اور انگارے (رشید جہاں) پر چل کر۔

لیکن اس سے سوال ختم نہیں ہو جاتا ہے ، سوالات چاہے جتنے بھی اذیت ناک اور مشکل ہو ں، حیات ،وجود اور سماج کے متعلق تصور اور انسانی نصب العین کی حامل امت کے افراد کے لیے حل اور جواب فراہم کرنا ان کے تصور حیات و کائنات کے پیش نظر فرائض میں سے ہے ، عورت، زندگی کا زنداں (زاہدہ حنا)ہے یا روحانی و سماجی سفر حیات کا معاون و ہم سفر اور آزاد معاشرے کا آزاد اور زندہ وجود ہے، دوسری حالت میں عورت کی جو تصویر سامنے آئے گی اور تصور ابھرے گا، اس میں ”بری عوررت کی کتھا“(کشور ناہید) کی سمائی ہے اور نہ ضرورت ،اور عورت صرف خواب اور خاک کے درمیان کی ہستی نہیں رہ جائے گی بلکہ سماج اور آنکھوں کے سامنے سراپا متحرک و مفید وجود کے طور پر آئے گی اس سوال سے صحیح جواب تک رسائی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے کہ کس جبر کے حال میں پھول انگارے بن گئے اور بری عورت کی کتھا، وجود میں آکر، عورت ،زندگی کا زنداں (زاہد حنا) بن گئی ہے ۔ اس صورت حال کے ذمہ دار کون ہے؟

یوم خواتین منانے کا سلسلہ بھی تو ایک رد عمل سے شروع ہو کر یادگار دن بنا ہے ،’آدمی کی نگاہ میں عورت‘(راجندر یادو) کہنے لکھنے سے یہ سوال لازماً پیدا ہوگا کہ کیا عورت آدمی نہیں ہے؟ مرد، عورت دونوں انسان اور آدمی کے زمرے میں آتے ہیں ، یہ مسئلہ زیر بحث یقینا رہا ہے کہ آدمی کو انسان بننے کے لیے کچھ ضروری مراحل طے کرنے ہوتے ہیں آدمی کو میسر نہیں انساں ہونا (غالب)،ذات اور وجود کی سطح پر مرد عورت کی بے معنی تفریق قابل توجہ نہیں رہ جاتی ہے،یہ پوزیشن صرف بر صغیر ہندو پاک کی نہیں ہے، تاہم اپنے گھر اور پڑوسی کے تعلقات ،اولین ترجیح رکھتے ہیں ، عورتوں کے خلاف قبائلی سلوک کے خلاف، عملی قدم اٹھانے اور بین الاقوامی برادریوں اور قوتوں کو مجبور کرنے کے لیے متوجہ کرنے کی ضرورت شدت سے محسوس ہوتی ہے کہ وہ ان کے خلاف سرگرم عمل ہوں جو غیر ت کے نام پر قتل کے لیے عورت کو واسطہ بناتے ہیں ، تو بھارت میں ، کالی، درگا، لکشمی، پاروتی کو معبود کی شکل میں پوجنے والے سماج کے لوگ ،حجاب ، کے بہانے حوا ،مریم اور ہاجرہ کو تعلیم سے آراستہ ہونے کی راہ میں رکاوٹ بن کر جے شری رام کا نعرہ لگاتے ہوئے سامنے کیسے آسکتے ہیں۔

عورت کے متعلق فرقہ وارانہ ذہنیت و تفریق سے سب کا ساتھ،سب کا وکاس، بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ کی بات، قطعی بے معنی اور محض جملہ بازی بن کر رہ جاتی ہے ، "حجاب”کو حصول تعلیم کے لیے حجاب (رکاوٹ) بنانا، ملک اور سماج کی نصف آبادی، لڑکیوں (اور خواتین) کے ساتھ بڑی زیادتی، ناانصافی اور فاسد ذہن کا عملی اظہار ہے ، پردے کی سیاست اور سیاست کا پردہ دونوں سے وہ چہرے ، یقینی طور سے بے پردہ ہوجاتے ہیں ، جو خواتین کی آزادی اور ترقی کے نام پر اپنی ترقی وتمغہ کے لیے مختلف قسم کے ہتھکنڈے استعمال کرنے میں ذرا بھی شرم نہیں کرتے ہیں ، ایسی حالت میں ان کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے جو لڑکیوں کی توقیر و ترقی کے ساتھ ، ان کو تعلیم سے بھی آراستہ و پیراستہ کرنا چاہتے ہیں ، آخری صحیفہ الہیٰ میں سورة النساء(نہ کہ سورة الرجال) ہونے کا پیغام بہت واضح ہے کہ خواتین ہر وقت، قابل توجہ و توقیر ہیں، نہ کہ صرف کسی ایک دن ، عورت کے حوالے سے تمام مذاہب و نظریات ،کسوٹی، پر ہیں کہ اس کے متعلق ان کا کیا رویہ ہے؟ اسی سے ان کی انسانی سماج میں افادیت و اہمیت و ضرورت طے ہوگی ، عورت کو دیوی بنا دینا، اتنا زیادہ قابل توجہ معاملہ نہیں ہے، جتنا بڑا قابل توجہ معاملہ دیو داسی اورستی ہونے سے بچانے کا مسئلہ ہے ، آزادی کے نام پر عورت کااپنی جنسی ہوس کی تسکین کے لیے استعمال ، کمینگی کی حد ہے، لیکن تحفظ کے نام پرقیدی محض اور مجبور و بے وجود ساکر دنیا بھی کوئی باتوقیر رویہ نہیں ہے ، بقاء تکریم اور تکمیل ذات کا بہتر اظہار ،قدیم و جدید دونوں تصور نسواں رکھنے والے کے سامنے ایک بڑا سوال ہے، بقاء تکریم کے ساتھ ہی تکمیل ذات کا اظہار عورت کی ذات وفطرت سے ہم آہنگ اور اس کے وجود کی صحیح تکمیل ہے ۔

اپنے دائرے میں عورت کو بہتر اظہار ذات سے روکنا راست رویہ نہیں ہے ۔ لیکن تو قیر و تکریم ذات کو نظر انداز کر کے اظہار ذات کافائدہ کیا ہے ؟آنچل کو پرچم بنالینے کامشورہ کوئی عقلمندی اور اعلیٰ تصور ذات پر مبنی نہیں ہے ، انسانی سماج کا با توقیر حصہ ہونے کے سبب، عورت کوخدا کی بستی سے باہر نہیں رکھا جا سکتا ہے، اس کا رول قدرت و فطرت کی طرف سے طے ہو چکا ہے ، اس لیے اس کے رول کو کم تر سمجھنا فطرت سے متصادم اور قدرت سے جنگ کے ہم معنی ہے، خلقکم من نفس واحدہ (ایک نفس سے پیدا کیا)کے اعلان کے بعد انسان ہونے میں برابری طے ہے ، لہذا تحقیر پر مبنی تفریق کا کوئی جواز نہیں رہ جاتا ہے۔

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN