اردو
हिन्दी
مئی 6, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

عالم یوم اردو اور اردو کی زبوں حالی

3 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر
A A
0
عالم یوم اردو اور اردو کی زبوں حالی
421
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

۹نومبرعلامہ اقبال کا یوم پیدائش ہے اس روز ہر سال عالمی یوم اردو منایا جاتا ہے دہلی میں غالب اکیڈمی میں ماہر اقبالیات پروفیسر عبد الحق کی صدارت میں پروگرام منعقد ہوا۔اقبال بیسویں صدی کی عظیم شخصیت کا نام ہے۔مشرق سے بھی واقف مغرب سے بھی آگاہ، شاعر دردمند مسلمانوں کے بارے میں فکرمند، خدا آشنا، خودی کا نگہباں،اقبال کے بارے میں ایک پورا کتب خانہ وجود میں گیا ہے عرب دنیا ا ردو یا فارسی سے واقف نہیں لیکن پچیس سے زیادہ کتابیں اقبال پر چھپ چکی ہیں اور دو سو سے زیادہ مقالات لکھے جا چکے ہیں عربی کے مشہور ادیب اور مصنف ڈاکٹرطہ حسین نے لکھا کہ اسلام کی پوری تاریخ میں اقبال سے بڑھ کر کوئی شاعر اسلام پیدا نہیں ہوا۔

بہت سے شخصیتوں نے کلام اقبال کے عربی ترجمے کئے لیکن مقبول ترین کتا ب مولانا علی میاں کی کتاب روائع اقبال ہے عربی زبان وادب کا بہترین نمونہ۔ہندوستان اور پاکستان میں اقبال پر جتنا لکھاگیا ہے کسی اور شاعر اور ادیب پر نہیں لکھا گیاایک پورا کتب خانہ وجود میں آگیا ہے لیکن اقبالیات کا کتب خانہ ایک طرف اور رشید احمد صدیقی کا فقرہ ایک طرف ۔ رشید احمد صدیقی کہتے ہیں اقبال کی تین جہتیں ہیں ایک یہ کہ اقبال بہت بڑے فلسفی تھے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ دنیا میں اقبال سے بڑا کوئی فلسفی نہیں گذرا اقبال کی دوسری جہت یہ تھی کہ ہ شاعر تھے یہ بھی نہین کہا جاسکتا ہے کہ دنیا کی تاریخ میں اقبال سے بڑا کوئی شاعر کہیں نہیں پیدا ہوا اقبال کی تیسری جہت یہ ہے کہ اقبال ایک مصلح ومرشد اور ریفارمر تھے کسی کے لئے یہ دعوی کرنا مشکل ہے کہ اقبال دنیائے انسانیت کے سب سے بڑے مصلح اور مرشد تھے لیکن اگر تینوں جہتوں کو ملا کرکوئی دیکھے گا تو اقبال سے بڑی شخصیت اور کہیں نظر نہیں آئے گی۔اور کوئی بھی آنکھوں میں نہیں جچے گا

ہزار مجمع خوبان ماہ رو ہوگا نگاہ جس پہ ٹھہر جائے گی وہ تو ہوگا وہ اردو زبان جس کے بارے میں شاعر نے کہاتھا”سارے جہاں مین دھوم ہماری زباں کی ہے“اس زبان کی خدمت کے حوالہ سے بہت سے لوگوں کوغالب اکیڈمی میں انعامات سے نوازا گیا لیکن اب اسی اردو زبان کے بارے میں ایک شاعر یہ کہنے پر مجبور ہوا

کہ دو کہ شکوہ لب مغموم سے نکلے

اردو کا جنازہ ہے زرا دھوم سے نکلے زبان کی طاقت اس کے بولنے والوں پڑھنے والوں ور لکھنے والوں سے ہوتی ہے جواس کو ذریعہ اظہار کے طور پر استعمال کرتے ہیں عالمی یوم اردوکے موقعہ پراردو زبان کے مسائل اور مشکلات کے موضوع پر مذاکرہ بھی منعقد ہوا جناب سہیل انجم نے کلیدی خطبہ میں دشواریوں کا اور اہل اردو کی غفلت اور بے حسی کا تذکرہ کیا۔ آزادی سے قبل کشمیر سے بنگال تک لوگ اس زبان کو پڑھتے تھے اور لکھتے تھے کشمیر میں پنجاب میں اور دوسری ریاستوں میں بھی ہندو اور مسلمان دونوں یہ زبان پڑھتے اور لکھتے اور بولتے تھے دہلی یوپی اور بہاراور حیدراباد اردو تہذیب کے مرکز تھے۔ اب یہ زبان صرف مسلمانوں کی زبان بن گئی ہے اس ملک میں ہندتوا کے نظریاتی مفکرین نہ صرف اسلام کوبلکہ مسلمانوں کی زبان اور تہذیب سب کو غیر او ر لائق گردن زدنی سمجھتے ہیں۔

اردو والوں کو سب سے پہلے اس پر توجہ دینی چاہئے کہ کس طرح یہ زبان پھر سے ملک کی مشترکہ زبان بن سکتی ہے لیکن اس کی سب سے پہلی ذمہ داری ان لوگوں کی ہے جن کی ا ور جن کے آباء واجداد کی یہ مادری زبان رہی ہِے۔عربی اور فارسی کے بعد جتنا مذہبی سرمایہ اردو زبان میں ہے دنیا کی او زبان میں نہیں ہے اس لئے جن خاندانوں میں بچے اردو پڑھتے اور لکھتے نہیں ہیں ان خاندانوں میں اسلامیات کے فاضل اور اسکالر پیدا نہیں ہوسکتے ہیں اوراسلامی تہذیب کی حفاظت بھی آگے چل کر ممکن نہیں ہے اردو زبان پر سب سے پہلی ضرب اس وقت لگی تھی جب انگریزوں نے اقتدار کی طاقت سے فائدہ اٹھا کر نظام تعلیم بدل دیا تھا اور انگریزی کو ریعہ تعلیم بنا دیا تھا لیکن ان کے اندر اتنی وسعت قلبی تھی کہ انہوں نے دیسی زبانوں کے فروغ کا بھی انتظام کیا تھا لیکن جدید ہندوستان کے نئے مذہب یعنی”ہندوا“ کے جو علم بردار ہیں اور اورنئے ہندوستان کے جو معمار ہیں ان کے اندر اتنی وسعت ظرف نہیں ہے کہ وہ مسلمانوں کی تہذیب تمدن اور زبان کو برداشت کرسکیں۔

انہیں تو نماز روزہ اور قربانی وحج بھی برداشت نہیں۔ بیسویں صدی کا”ہندتوا“ وہ ہندو مذہب نہیں ہے جسے البیرونی نے جانا اور سمجھا تھااور کتاب لکھی تھی جس کا نام تو لمبا ہے اور جو مختصرا ”کتاب الہند“ کے نام سے اب مشہور ہے۔”ہندوتوا“ اب بالکل ایک نیا فلسفہ اور نیا نظریہ اور نیا مذہب اوراسلام اور عیسائیت دونوں کاحریف ہے وہ اگرچہ نکلا تو ہندو مذہب سے ہے لیکن نئئے خد و خال اور نئے فر وفال کے ساتھ۔اور اس نئے مذہب کے پنجہ خونیں کی خطرناکی اور اس کے افکار و اسرار کو سمجھنے کے لئے ایک نئے البیرونی کی ضرورت تھی اور سید سعادت اللہ حسینی کی شکل میں اس نئے البیرونی کی آمدہوئی ہے کوئی بھی شخص ان کی کتاب ”ہندتو ا نتہا پسندی“ پڑھ کر میرے اس قول کے صحیح ہونے کی شہادت دے گا ۔یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہئے کہ جب شطرنج کی بساط پر مغربیت اور الحادکی شہہ پڑی تھی اس قت اسلام کے کامیاب دفاع کے لئے جو پیادے اور کارندے میدان میں اترے تھے وہ بھی اسی خیمہ وخرگاہ سے آئے تھے۔

اردو کے خلاف اس ملک میں اتنا کام ہوااور فصیل شہر پر اتنے کماندار حملہ آور ہوئے کہ خود اردو والوں نے بھی گھبراکر اردو سے اپنا رشتہ توڑ لیا ہے اگر اردووالوں میں غیرت اور حمیت ہوتی توارد و کے دشمن لاکھ اقدامات کرتے اردوزندہ رہتی لیکن حمیت نام تھا جس کا وہ مسلمانوں کے گھر یا اردو والوں کے گھر سے رخصت ہوگئی۔

اب اردو جن گھروں مبں بولی جاتی ہے وہاں اردو کتابیں نہیں خریدی جاتی ہیں وہاں کوئی اردواخبار نہیں آتا ہے وہاں بچے اب اردو نہین پڑھتے ہیں اردو میڈیم میں داخلہ لینا تو بڑی بات ہے بچے ایک مضمون کی حیثیت سے بھی اسکول میں اردو نہیں لیتے ہیں نہ بچوں کے سر پرستوں کو اس کی فکر ہے۔

اب خطوط اردومیں نہین لکھے جاتے اب شادیوں کے کارڈ تک اردو میں نہیں چھاپے جاتے، یہاں تک کہ اردو کے اساتذہ کے گھروں سے اردو غائب ہورہی ہے اردو زبان میں ناموں کی تختیاں غائب ہوگئی ہیں قبرستانوں میں کتبے ہندی دیو ناگری میں نظر آتے ہیں۔ پہلے لوگ بچوں کاانگلش میڈیم کے اسکولوں داخلہ کرواتے تھے لیکن گھروں پر کسی مولوی صاحب کو رکھ کر بچوں کو قرآن اور اردو کی تعلیم دلواتے تھے اب یہ اہتمام اور مذہب کا احترام اور اردو سے تعلق برائے نام بھی ختم ہوگیا ہے۔

اردو زبان اردووالوں کی شقاوت قلبی پر گریہ کناں اور فریاد بلب ہے۔

اردو کو اس کا جائز حق ملنا چاہئے اردوکی قانونی لڑائی لڑنی چاہئے، لیکن اس سے پہلے زبان کے سلسلہ میں غیرت اور حمیت موجود رہنی چاہئے ہم پر اسی زبان کے سلسلہ میں جو فرض عائد ہوتا ہے اسے ادا کرنا چاہئے اردوکو اپنے گھروں میں باقی رکھنا چاہئے اگر ہمارے اندر اردو کے سلسلہ میں غیرت اور حمیت نہیں ہوگی تو ہم اردو کی لڑائی نہیں جیت سکتے ہیں۔
ّّّّّّّّّّّّّّ

تحریر پروفیسر محسن عثمانی ندوی
(یہ مضمون نگار کے نجی خیالات ہیں)

عارف محمد خاں اب جماعت اسلامی ہند سے الجھے

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN