نئی دہلی :(ایجنسی)
حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن پارلیمنٹ تیجسوی سوریہ نے مسلمانوں اور مسیحیوں کو ہندو مذہب میں تبدیل کرنے کے مطالبہ کو واپس لے لیا ہے۔ کرناٹک حکومت کے ایک متنازع تبدیلی مذہب کے قانون کی منظوری کے چند روز بعد، 25 دسمبر کو ریاست کے ضلع اُوڈوپی کے کرشنا مٹھ میں منعقد ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ ’ہم نے اس ملک میں رام مندر تعمیر کر دیا ہے، جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 ختم کر دیا ہے، ہمیں پاکستان کے مسلمانوں کو ہندو بنانا چاہیے، ہمیں گھر واپسی کو ترجیح دینی ہوگی، اکھنڈ بھارت کے تصور میں پاکستان شامل ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا تھا کہ مٹھوں اور مندروں کو اس سلسلے میں قیادت کرنی چاہیے اور ہر مندر اور مٹھ کو اس کے لیے سالانہ ہدف مقرر کرنا چاہیے۔
یہ پہلا موقع نہیں جب تیجسوی نے تفرقہ انگیز بیان دیا ہو۔ ان کے گذشتہ متنازع تبصروں کی طرح اس بار بھی سوشل میڈیا پر تنقید ہوئی اور انھوں نے 27 دسمبر کو یہ کہتے ہوئے اپنا بیان واپس لے لیا کہ ’دو دن قبل اُوڈوپی سری کرشنا مٹھ میں منعقدہ ایک پروگرام میں میں نے ’بھارت میں ہندو بحالی‘ کے موضوع پر بات کی تھی۔ میری تقریر کے بعض بیانات نے ایک افسوسناک تنازع پیدا کر دیا ہے۔ اس لیے میں غیر مشروط طور پر یہ بیانات واپس لیتا ہوں۔‘
اگرچہ انھوں نے اپنے بیانات واپس لیے لیکن ان کی تقریب کو سوشل میڈیا پر لائیو اسٹریم کیا گیا تھا۔ جب تک وہ اپنے بیانات کے لیے معافی مانگتے تب تک ان کی تقریر سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی تھی۔
تیجسوی سوریا کون ہیں؟

تیجسوی کو مرکزی حکمراں جماعت بی جے پی کے ایک ابھرتے ہوئے ستارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ وہ ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس سے بچپن سے جڑے ہوئے ہیں اور جنوبی بنگلور سے پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ہیں۔ 2019 کے پارلیمانی انتخابات میں پارٹی نے لوگوں کی توقع کے خلاف سابق مرکزی وزیر اننت کمار کی بیوہ، تیجسونی اننت کمار، کے بجائے انھیں ٹکٹ دیا تھا۔
پارٹی کا ان پر اعتماد اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت ان کی عمر محض 28 سال تھی اور انھیں اتنی بڑی سطح پر کوئی انتخابی تجربہ نہیں تھا۔ پارٹی کی امیدوں کے مطابق انھوں نے کانگریس کے ایک تجربہ کار امیدوار کو شکست دی تھی۔
اسی انتخابی مہم کے دوران انھوں نے کہا تھا کہ ’اگر آپ مودی کے ساتھ ہیں تو بھارت کے ساتھ ہیں۔ اگر آپ مودی کے ساتھ نہیں تو آپ بھارت مخالف قوتوں کو مضبوط کر رہے ہیں۔‘
اس سے قبل 2018 میں کرناٹک کے شہر کے جے نگر نامی سیٹ کے ضمنی انتخابات کے نتائج کے بعد انھوں نے کہا تھا کہ بی جے پی کو ’صحیح طور پر ایک ہندو پارٹی بننا چاہیے نہ کہ صرف ایک ایسی پارٹی جسے ہندو پارٹی کے طور پر دیکھا جاتا ہو۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’آپ چاہیں تو مجھے متعصب یا فرقہ پرست کہیں۔ لیکن جے نگر میں بی جے پی کی شکست کی واحد وجہ مسلم ووٹوں کا یکطرفہ ہونا ہے۔‘ انھوں نے ثبوت کے طور پر جے نگر کے ایک علاقے کی نشاندہی بھی کی جہاں کانگریس پارٹی کو زیادہ ووٹ ملے تھے۔
’دی ہندو‘ کی ویشنا رائے نے تو اپنے ایک کالم میں یہاں کہہ دیا کہ تیجسوی انھیں ایک نوجوان نریندر مودی کی یاد دلاتے ہیں۔ ’مودی کی طرح تیجسوی کو آر ایس ایس کی حمایت حاصل ہے۔ مودی کی طرح وہ حقائق کے ساتھ کھیلتے ہیں۔‘
سماجی کارکن راجندرن پربھاکر جو کہ جنوبی بنگلور میں کام کرتے ہیں، بتاتے ہیں کہ ’تیجسوی آر ایس ایس کارکن ہیں اور ان کا بچپن جنوبی بنگلور میں ہی گزرا ہے۔‘ ایک مقامی صحافی کے مطابق اس علاقے میں ہندو اعلیٰ ذاتوں کی اکثریت ہے۔ پربھاکر بتاتے ہیں کہ انھیں آر ایس ایس نے تیار کیا ہے اور وہ نظریاتی طور پر کافی مضبوط ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ تیجسوی کئی شعبوں میں ماہر سمجھے جاتے ہیں، مثلاً ’وہ اچھے مقرر ہیں، اچھا لکھتے ہیں اور بحث و مباحثے میں بھی اچھے ہیں۔ اور اس کے علاوہ ان کے بہت اعلیٰ سطح پر سیاسی تعلقات ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’ان کے عروج کی وجہ ان کے اعلیٰ سطحی سیاسی تعلقات ہیں، جن میں بی جے پی کے بڑے نام شامل ہیں جن میں سے نریندر مودی بھی ایک ہیں۔‘
پارٹی قیادت سے ان کی قربت اس بات سے صاف ظاہر ہوتی ہے کہ ان کے ایم پی آفس کے افتتاح کے لیے امت شاہ خود بنگلور آئے۔
بنگلور شہر کو بھارت کی ’سیلیکن ویلی‘ کہا جاتا ہے جہاں کمپیوٹر سے متعلق کاروبار اور نوکری کے لیے پورے ملک سے نوجوان آتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھارت کی جنوبی ریاستوں میں تعلیم کی شرح شمالی ریاستوں سے بہتر ہے۔
تاہم گذشتہ دو پارلیمانی انتخابات میں شہر کی تینوں سیٹوں پر بی جے پی کامیاب رہی ہے اور جنوبی بنگلور کی سیٹ پارٹی 1991 سے جیت رہی ہے۔
سماجی ہم آہنگی پر آواز بلند کرنے والے وکیل ونے پربھاکر کہتے ہیں کہ فرقہ وارانہ سیاست سے تعلیم کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ پربھاکر کہتے ہیں کہ یہاں سے فتحیاب ہونے کے لیے پارٹی نے ’وہ چیزیں سیکھ لی ہیں جو اسے سیکھنا چاہیے تھیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ بی جے پی زبردست اکثریت کے ساتھ اقتدار میں آئی ہے۔‘
(بشکریہ: بی بی سی )










