غزہ شہر کے الشفاء ہسپتال کے سربراہ نے منگل کو بتایا کہ فلسطینی سرزمین پر گذشتہ تین دنوں میں 21 بچے غذائیت کی قلت اور فاقوں کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں۔
محمد ابو سلمیہ نے نامہ نگاروں کو بتایا، "یہ اموات غزہ کے ہسپتالوں میں ریکارڈ کی گئیں جن میں غزہ سٹی کا الشفا، دیر البلح کا شہدائے الاقصیٰ ہسپتال اور خان یونس کا ناصر ہسپتال شامل ہیں۔”
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پیر کی شام کو خبردار کیا کہ غزہ میں "لوگوں کو زندہ رکھنے والے آخری سہارے” منہدم ہو رہے ہیں اور یہ کہ غذائیت کی قلت کے شکار بچوں اور بڑوں کی بڑھتی ہوئی اطلاعات ملی ہیں۔ابو سلمیہ نے صحافیوں کو بتایا، غزہ کے باقی فعال ہسپتالوں میں غذائیت کی قلت اور فاقوں کے نئے کیسز "ہر لمحے” پہنچ رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا، "ہم غزہ کے لوگوں میں فاقوں کے باعث ہونے والی اموات کی خطرناک تعداد کی طرف بڑھ رہے ہیں۔”اسرائیلی ناکہ بندی کی وجہ سے علاقے کے 20 لاکھ سے زیادہ باشندوں کو اکتوبر 2023 میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے بدترین قلت کا سامنا ہے۔
جولائی کے اوائل میں غزہ شہر کا دورہ کرنے والے ورلڈ فوڈ پروگرام کے ڈائریکٹر کارل سکاؤ نے اس صورتِ حال کو "خراب ترین” قرار دیا جو انہوں نے کبھی نہیں دیکھی۔
گذشتہ اتوار کو غزہ کی شہری دفاع کی ایجنسی نے اطلاع دی کہ گذشتہ ہفتے میں کم از کم تین شیر خوار "شدید بھوک اور غذائیت کی قلت” سے جاں بحق ہو گئے۔
پیر کو اسرائیلی اتحادیوں برطانیہ، فرانس، آسٹریلیا اور کینیڈا سمیت دو درجن سے زائد ممالک نے جنگ کے فوری خاتمے، قیدیوں کی رہائی اور امداد کی بلاتعطل روانی پر زور دیا۔








