نئی دہلی :
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے دوارکا سیکٹر 22 میں مجوزہ حج ہاؤس کی مخالفت کی ہے۔ بی جے پی کا کہنا ہے کہ اسے 360 کھاپ پنچایتوں کی خواہشات کے خلاف بنایا گیا ۔ بی جے پی نے حج ہاؤس کی اراضی پر اسپتال یا اسکول کی مانگ کی ہے، جسے ابھی تک عوامی طور پر استعمال کے لیے نہیں کھولا گیا۔
360 کھاپوں نے سیکٹر 22 میں تعمیر کیے جانے والے حج ہاؤس کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ دہلی بی جے پی نے کھاپ پنچایتوں کی حمایت کرتے ہوئے حج ہاؤس کو مکمل طور پر لوگوں کے جذبات کے خلاف بتایا۔ بی جے پی نے دہلی حکومت پر من مانی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وقف بورڈ کی خالی زمین پر دہلی حکومت حج ہاؤس بنائے۔
دہلی بی جے پی کے سربراہ آدیش گپتا نے جمعہ کو کہا کہ دہلی میں تمام وقف بورڈ کی زمینیں پڑی ہوئی ہیں، ان زمینوں پر حج ہاؤس بنانے کی جگہ گرامین کی زمین پر حج ہاؤس بنانے کاکیا مطلب ہے؟ بی جے پی گرامین کے ساتھ ہے اور ہم دہلی سرکار کی من مانے کو کبھی پورا نہیں ہونے دیں گے ۔
آدیش گپتا نے یہ بھی کہا کہ 2007 میں جب کانگریس کی حکومت تھی تو انہوں نے یہ فیصلہ لیا تھاکہ یہاں پر حج ہاؤس بنائیں گے ۔ فروری 2008 میں سنگ بنیاد رکھنے کی کوشش کی گئی تو آپ تمام لوگوں کی جد وجہد کی وجہ سے اپنے منصوبے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ ایک بار پھر سے وہی وقت آگیا ہے ،جب کیجریوال کے منصوبے کو ناکام بنانا ہے اور اس میں بی جے پی ہر وقت آپ کے ساتھ ہے ۔
بی جے پی لیڈر آدیش گپتا نے کہا کہ جس طرح سے اپنے سیاسی فائدہ کے لیے کیجریوال من مانے کررہے ہیں، اس کو ہم کسی بھی صور ت میں نہیں ہونے دیں گے۔ جہاں حج ہاؤں بنانے کی بات ہو رہی ہے ، وہاں مسلم برادری کے لوگ رہتے نہیں، جو رہتے ہیں ان کی بھی چاہت ہے کہ یہاں حج ہاؤس نہ بن کر اسکول ،کالج یا اسپتال بنے۔ حج ہاؤس بنانے کاکیا مطلب ہے۔ خود کو دہلی کا مالک مان کر بیٹھنے والے کیجریوال کو سمجھنا چاہئے کہ دہلی کے اصلی مالک گاؤں – دیہات میں رہنے والے متوسط اور مزدور طبقہ کے لوگ ہیں۔
دراصل اگلے سال دہلی سےحج کو جانے والے عازمین کے لیے حج ہاؤں کی سہولت مہیاکرائی جا رہی ہے ۔ تقریباً 93.47کروڑ روپے کی لاگت والاہاؤس قریب قریب تیار ہے ۔ ہر سال 20 سے 30 ہزار عازمین حج دہلی سے جاتےہیں۔











