نئی دہلی :(ایجنسی)
گزشتہ سال فروری میں دہلی فسادات میں زخمی ہوئے پانچ لوگوں کو مبینہ طور پر قومی ترانہ گانے کے لیے مجبور کرنے والے پولیس اہلکاروں کی شناخت ہوگئی ہے۔ اس واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تھی اور ایک زخمی کی بعد میں موت بھی ہوگئی تھی۔ اب دہلی پولیس نے ان تین پولیس اہلکاروں کی شناخت کرلی ہے ۔
انڈین ایکسپریس کے مطابق کرائم برانچ کے اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ نے 100 سے زائد پولیس اہلکاروں سے پوچھ گچھ کی تھی اور فسادات کے دوران باہر سے تعینات پولیس اہلکاروں کے ڈیوٹی چارٹس سمیت کئی دستاویزات کی تلاشی لی تھی۔
واقعے کے تقریباً 17 ماہ بعد تینوں کی شناخت ہو گئی ہے اور ایک سینئر افسر کا کہنا ہے کہ ‘رضامندی کے بعد تینوں پر ’لائیو ڈیٹیکٹر (جھوٹ پکڑنے والا)ٹیسٹ کیاجائے گا۔‘
انڈین ایکسپریس کے مطابق پولیس کو شناخت کرنے میں پریشانی واقعہ کی لوکیشن کی وجہ سے آرہی تھی ۔ 25 فروری کو یہ واقعہ 66 فٹا روڈ پر پیش آیا تھا۔ اس جگہ کے آس پاس تین سے چار پولیس اسٹیشن کے علاقے ہیں اور ان جگہوں سے بھی پولیس اہلکاروں کو فسادات کے دوران ڈیوٹی پر تعینات کیا گیا تھا ۔
ایک سینئر عہدیدار نے انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ ’ دو ر سے ریکارڈ کی گئی ایک ویڈیو میں تفتیش کاروں نے دیکھا کہ ایک پولیس اہلکاروں کے پاس آنسو گولہ بارود ( ٹی ایس ایم) ہے ۔افسر نے کہا کہ جب بھی کوئی فورس تعیناتی کے لیے جاتی ہے تو اہلکاروں کو ٹی ایس ایم ان کے نام کے تحت جاری کئے جاتے ہیں ۔
تفتیشی افسر نے اس علاقے کی فورس کا رجسٹر چیک کیا تاکہ معلوم ہو سکے کہ اس دن ٹی ایس ایم کس کو جاری کیے گئے تھے۔ ایک انٹری اور فوٹیج کی بنیاد پر ایک پولیس اہلکار کی شناخت کی گئی، اسے تفتیش کے لیے بلایا گیا اور پھر اس کے دو ساتھیوں کو بھی ایس آئی ٹی سمن کیا ۔
قومی ترانہ گانے کے لیے جن لڑکوں کو مجبور کیا گیا تھا، ان میں سے ایک فیضان کی بعد میں موت ہوگئی تھی۔ کردم پوری رہائشی فیضان کو پولیس نے جیوتی نگر پولیس اسٹیشن میں رکھا تھا جہاں سے چھوٹنے کے ایک دن بعد اسپتال میں اس کی موت ہوگئی۔









