اردو
हिन्दी
مئی 14, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

پچھہتر سالہ مودی کی سیاسی و نظریاتی کامیابی کیاہے؟

8 مہینے پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
0
پچھہتر سالہ مودی کی سیاسی و نظریاتی کامیابی کیاہے؟
50
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تجزیہ:شکیل اختر
سیاست میں ویسے تو عموماً عمر کی پابندی نہیں ہوتی لیکن جب 2014 میں مودی پہلی بار وزیراعظم بنے تھے تو اس وقت انھوں نے اپنی جماعت کے رہنماؤں کے لیے یہ ضابطہ وضع کیا تھا کہ جو رہنما 75 برس کے ہو گئے ہیں وہ فعال سیاست سے الگ ہو جائیں۔ کچھ مہینوں سے یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ آیا مودی بھی 75 برس کے ہونے پر سیاست سے سبکدوش ہو جائیں گے لیکن حال ہی میں آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے ایک بیان کے بعد یہ ساری قیاس آرائیاں دم توڑ گئیں۔اب تو مودی کبھی کبھار 2029 کے عام انتخابات کی بھی باتیں کرتے ہیں

***انڈیا کی سیاست سے مودی کو الگ کرنا اب مشکل ہو گا۔
سیاسی تجزیہ کار آرتی جے رتھ کہتی ہیں کہ ںہ بی جے پی کے دستور میں 75 برس کی عمر کی کوئی قید ہے اور نہ ہی ملک کے آئین میں ایسا کوئی ضابطہ ہے۔
مودی 2014 میں وزیر اعظم بننے کے بعد پچھلے 11 برس سے حکمراں جماعت بی جے پی کے سب سے طاقتور رہنما ہیں۔ وہ بی جے پی اور آر ایس ایس کی سیاست کا محور ہیں۔انڈین سیاست پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر بی جے پی چاہے بھی تو مودی کو نہیں ہٹا سکتی کیونکہ پارٹی میں ان کے درجے کا کوئی دوسرا رہنما نہیں۔تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ وہ ایک مقبول لیڈر ہیں اور انفرادی طور پر اتنے طاقتور ہو چکے ہیں کہ سیاست اور ان کی پارٹی ان کے ہی گرد گھومتی ہے۔وزارت عظمی تک مودی کا سیاسی سفر ان کی محنت، لگن، تحمل اور سیاسی فہم کا عکاس ہے۔
انھوں نے گجرات میں قدرے غربت میں بچپن گزارا اور کم عمری میں ہی آر ایس ایس میں شامل ہوئے جہاں ان کی نظریاتی اور سیاسی پرورش ہوئی۔ وہ 13 برس تک گجرات کے وزیر اعلی رہے۔
2002 کے گجرات کے ہندو مسلم فسادات ان کی سیاسی زندگی کا سب سے بڑا چیلنج بنے لیکن وہ سبھی دشواریوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے آگے بڑھتے رہےمودی کی سیاسی سوانح حیات ’نمو‘ کے مصنف کنگشوک ناگ نے لکھا ہے کہ ’مودی کی کہاںی معیشت، مذہب، نظریے اور ابھرتی تمناؤں کے امتزاج کی کہانی ہے جس نے گذشتہ عشروں میں انڈیا کی سیاست اور معاشی نظام کو تبدیل کر دیا۔ یہ کہانی لوگوں میں تبدیلی کی خواہشوں کی بھی عکاس ہے۔‘

***کیا مودی کا کوئی متبادل نہیں؟
بی جے پی میں اس وقت مودی کے علاوہ اس حیثیت کا کوئی دوسرا رہنما نہیں۔بی جے پی پر گہری نظر رکھنے والی سیاسی تجزیہ کار آرتی جے رتھ کہتی ہیں کہ مودی کی قیادت میں بی جے پی میں گزشتہ 11 برس میں کوئی لیڈر نہیں ابھر پایا۔وہ کہتی ہیں کہ ’اگر مودی ہٹ جائیں تو اہم سوال یہ پیدا ہوتا کہ ان کی جگہ پر کون آئے گا۔ ان کا کوئی متبادل رہنما نہیں جن کا نام لیا جا سکے۔‘وہ بتاتی ہیں کہ بعض اوقات وزیر داخلہ امت شاہ کا نام لیا جاتا ہے اور کچھ لوگ یو پی کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا نام بھی لیتے ہیں ’(تاہم) جس طرح پورے ملک پر مودی کی گرفت ہے، اس طرح کی پکڑ ان رہنماؤں کی نہیں۔‘کا کہنا ہے کہ ’امت شاہ کبھی بھی عوامی رہنما نہیں رہے ہیں۔ یوگی آدتیہ ناتھ کی مقبولیت کم و بیش یو پی تک محدود ہے۔ مودی نے عوام میں اپنے لیے جو جگہ بنائی، اس طرح کی مقبولیت کسی کو نہیں حاصل ہوئی۔ اس لیے بے جے پی کے پاس کوئی متبادل نہیں۔ آر ایس ایس کے پاس بھی کوئی راستہ نہیں۔ ان کو بھی مودی کے ساتھ چلنا پڑے گا۔‘تاہم آرتی کا کہنا ہے کہ مودی کی قیادت نے بی جے پی کی مستقبل کی قیادت کے لیے مشکلیں بھی پیدا کی ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ ’جو بی جے پی واجپئی اور اڈوانی کی تھی، اس میں بہت سارے ثانوی اور علاقائی رہنماؤں کو آگے بڑھایا جاتا تھا۔ ان کی پذیرائی کی جاتی تھی اور انھیں اعلی درجے کا رہنما بنایا جاتا تھا۔ مودی بھی اسی دور کی پیداوار ہیں۔‘’لیکن جب سے مودی آئے ہیں وہ سیاست میں واجپئی اور اڈوانی کی اس ڈگر سے ہٹ گئے۔ انھوں نے سیکنڈ جنریشن کی لیڈر شپ کو فروغ نہیں دیا۔ ان کا طرز بہت حد تک اندرا گاندھی کے پرسنالٹی کلٹ (شخصی قیادت) جیسا ہو گیا۔ مودی ایک ایسا بڑا درخت بن چکے ہیں جس کے نیچے کوئی دوسرا پیڑ نہیں اُگ سکتا۔‘

***پورے سیاسی نظام میں آر ایس ایس کی جڑیں پھیل گئی ہیں‘
ان کی 11 سالہ قیادت کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ انھوں نے بی جے پی اور آر ایس ایس کے ہندو توا کے نظریے کو انڈیا کے معاشرے میں گھول دیا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ملک کے آئینی اور جمہوری ادارے رفتہ رفتہ آر ایس ایس کی نظریاتی گرفت میں آ رہے ہیں اور ہندوتوا کی سیاست انڈیا کے معاشرے میں اتنی سرایت کر چکی ہے کہ اسے اب ہٹانا بہت مشکل ہو گا۔سیاسی تجزیہ کار ہرتوش سنگھ بل کہتے ہیں کہ ’بی جے پی پہلے بھی اقتدار میں آئی لیکن یہ پہلی بار ہوا کہ مودی کی قیادت میں آر ایس ایس نے پورے سیاسی نظام میں اپنی جڑیں پھیلا دی ہیں۔‘
’یہ مودی کے بغیر نہیں ہو سکتا تھا۔ اس لیے یہ نظریاتی اور سیاسی طور پر ان کی سب سے بڑی کامیابی شمار کی جائے گی۔ ملک اب ایک سماجی تغیر سے گزر رہا ہے۔‘گذشتہ پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی کو مکمل اکثریت نہیں مل سکی تھی لیکن اس کے بعد ہونے والے چار اہم ریاستی انتخابات میں بی جے پی کامیاب ہوئی تھی۔ہرتوش سنگھ بل کہتے ہیں کہ ’اس سے یہ تبدیلی ضرور آئی کہ مودی کی انفرادی رہنما کے طور پر جو طاقت تھی وہ کمزور ہوئی۔ سیاسی نظام پر ان کی جو مکمل گرفت تھی وہ ضرور متاثر ہوئی لیکن ملک کی ریاستوں میں آر ایس ایس اور بی جے پی کمزور نہیں ہوئی۔ اب ہم مودی کے دور سے نکل کر آر ایس ایس کے دور میں داخل ہو گئے ہیں۔‘بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی اپنا سیاسی عروج دیکھ چکے ہیں اور اب سیاسی طور پر پہلے کے مقابلے کمزور ہیں۔آنے والے مہینوں میں بہار اور بنگال اسمبلی کے انتخابات کے نتائج کا مودی کے سیاسی مستقبل پر براہ راست اثر پڑے گا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی نے گذشتہ 11 برس کے اپنے اقتدار میں بی جے پی اور آر ایس ایس کے لیے جو نظریاتی اور سیاسی مقاصد حاصل کر لیے ہیں، وہ بی جے پی کا کوئی دوسرا رہنما نہیں کر سکتا تھا۔ (بشکریہ بی بی سی یہ تجزیہ نگار کے ذاتی خیالات ہیں )

ٹیگ: Ideological successIndiaModiPolitical successبھارتسیاسی کامیابیمودینریندر مودینظریاتی کامیابی

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
Kejriwal Video Order News

کیجریوال کی جج سے بحث: ہائی کورٹ کا پولیس کو سوشل میڈیا سے ویڈیو ہٹانے کا حکم

اپریل 15, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN