نئی دہلی: (ایجنسی)
ملک کی کئی ریاستوں میں ڈینگو کےمعاملے سامنے آرہے ہیں۔ 11 ریاستوں میں ڈینگو کے زیادہ خطرناک اسٹین کے کیس رپورٹ ہو رہے ہیں۔ مرکزی حکومت نے ایسی ریاستوں سے کہا ہے کہ وہ معاملوں کاشروع میں ہی پتہ لگانے ، بخار ہیلپ لائن شروع کرنے ، مناسب مقدار میں ٹیسٹنگ کٹس ، لارواکش اور ادویہ کا مناسب ذخیرہ رکھنے جیسے اقدامات کریں۔ کووڈ- 19 کی صورتحال پر اعلیٰ سطحی میٹنگ میں ، ریاستوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آنے والے تہواروں کے پیش نظر زیادہ بھیڑ جمع نہ ہوں۔
میٹنگ کے دوران وزارت صحت نے ریاستوں سے کہا کہ وہ سیرو ٹائپ- 2 ڈینگو سے متعلق ’ابھرتے ہوئے چیلنج‘ کی تیز جانچ کے لیے ٹیمیں تعینات کریں۔ یہ ٹائپبیماری کی دوسری شکلوں کے مقابلے میں زیادہ معاملوں اور پیچیدگیوں والی قسم ہے۔ ریاستوں کو مشورہ دیا گیا کہ صحت عامہ کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں جیسے کہ بخار سروے ، کنٹیکٹ ٹریسنگ ، ویکٹرز کا کنٹرول ، بلڈ بینکوں ، خاص طور پر پلیٹ لیٹس کا مناسب ذخیرہ وغیرہ ۔
جن ریاستوں جہاں سیرو ٹائپ- 2 ڈینگو کے کیسز آ رہے ہیں ان میںآندھرا پردیش، گجرات ، کرناٹک، کیرالہ، مدھیہ پردیش، اترپردیش، مہاراشٹر، اوڈیشہ ، راجستھان ، تمل ناڈو اور تلنگانہ شامل ہے۔ اس سے پہلے وزارت صحت نے اگست اور 10 ستمبر کو ریاستوں کو ایڈوائزری جاری کی تھی۔
کووڈ مینجمنٹ پر ہیلتھسکریٹری راجیش بھوشن نے انفیکشن شرح والی 15 ریاستوں کو ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور متاثر طریقہ سے پروٹوکول پر عمل آوری کرنے کو یقینی بنانے کے لیے کہا ہے ۔ ہیلتھ سکریٹری نے کہا کہ 15 ریاستوں کے 70
اضلاع میں صورتحال تشویش کی باعث ہے اور ان میں سے 34 اضلاع میں انفیکشن کی شرح 10 فیصد سے زیادہ ہے اور 36 اضلاع میں انفیکشن کی شرح 5-10 فیصد ہے۔
وزارت صحت نے کہا کہ آنے والے تہواروں کے پیش نظر ریاستوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تمام ضروری احتیاطی تدابیر کو یقینی بنائیں اور ایسے اقدامات کریں جو بڑی تعداد میں لوگوں کو جمع نہ ہونے دیں۔ نیز ، مالز ، بازاروں اور عبادت گاہوں کے حوالے سے موجودہ ہدایات پر سختی سے عمل کیا جائے اورکووڈ 19-دوستانہ ماحول پر عمل آوری یقینی بنائیں۔









