واشنگٹن: امریکی سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے صدارتی اختیارات کو وسعت دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ صدر اب بیشتر آزاد وفاقی اداروں کے سربراہان کو بغیر کسی مخصوص وجہ کے عہدے سے ہٹا سکتے ہیں۔ تاہم، عدالت نے امریکی مرکزی بینک (فیڈرل ریزرو) کو اس فیصلے سے مستثنیٰ رکھا ہے۔
91 سال پرانی عدالتی نظیر تبدیل
سپریم کورٹ نے 6-3 کی اکثریت سے 1935 کے تاریخی Humphrey’s Executor فیصلے کو مؤثر طور پر تبدیل کر دیا، جس کے تحت صدر کے اختیارات پر بعض پابندیاں عائد تھیں۔ موجودہ فیصلہ فیڈرل ٹریڈ کمیشن کی سابق رکن ربیکا سلاٹر کی برطرفی سے متعلق مقدمے میں سنایا گیا۔
ٹرمپ نے کیا کہا؟
فیصلے کے بعد صدر ٹرمپ نے اسے صدارتی اختیارات کے لیے "تاریخی فتح” قرار دیا۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا کہ یہ امریکی صدارت کے اختیارات سے متعلق اہم ترین عدالتی فیصلوں میں سے ایک ہے۔









