ایودھیا: رام مندر کے چندے میں مبینہ خردبرد کے معاملے کی تحقیقات میں تیزی آ گئی ہے۔ مقدمہ درج ہونے کے بعد پولیس نے جانچ کا دائرہ بڑھاتے ہوئے شری رام جنم بھومی تیرتھ شیترا ٹرسٹ کے جنرل سیکریٹری چمپت رائے سے تقریباً تین گھنٹے تک پوچھ گچھ کی اور ان کا بیان ریکارڈ کیا۔ ذرائع کے مطابق پوچھ گچھ کے دوران وہ کئی سوالات کے تسلی بخش جواب نہیں دے سکے۔
70 افراد کو نوٹس، تقرریوں اور مالی نظام کی بھی جانچ
پولیس نے ٹرسٹ سے وابستہ عہدیداروں، ملازمین اور دیگر متعلقہ افراد سمیت تقریباً 70 افراد کو نوٹس جاری کیے ہیں۔ تفتیشی ٹیم چندے کے انتظام، نگرانی کے نظام، ملازمین کی تقرری، بینکاری کے طریقۂ کار اور مالی لین دین کا بھی جائزہ لے رہی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ بے ضابطگی کا پتہ چلایا جا سکے۔
چمپت رائے نے کیا کہا؟
ایودھیا پولیس کو دیے گئے بیان میں چمپت رائے نے کہا کہ چندے کی مبینہ چوری میں ان کا کوئی کردار نہیں ہے۔ ان کے مطابق جیسے ہی معاملے کی اطلاع ملی، انہوں نے فوری کارروائی کی اور انہی کی ہدایت پر ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ چندے میں کسی قسم کی بے ضابطگی نہ ہونے کی ذمہ داری ان کی تھی، جسے وہ تسلیم کرتے ہیں۔
ادھر، اس تنازع کے بعد چمپت رائے اور ٹرسٹ کے رکن انیل مشرا نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ٹرسٹ کے خزانچی گووند دیو گری کے مطابق آئندہ ٹرسٹ اجلاس میں اس معاملے پر اہم فیصلہ کیا جائے گا۔









