نئی دہلی: (پریس ریلیز)
آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس کا ایک وفد ڈاکٹر یاسر اے قریشی (جنرل سکریٹری، طبّی کانگریس گجرات اسٹیٹ) کی قیادت میں مرکزی وزیر مملکت برائے فشریز انیمل ہسبنڈری اینڈ ڈیرنگ پُرشوتم روپالا سے اُن کی رہائش گاہ پر ملا۔ وفد میں ڈاکٹر محسن دہلوی، ڈاکٹر ڈی آر سنگھ، ڈاکٹر حبیب اللہ، حکیم ایس پی بھٹناگر، ڈاکٹر سیّد احمد خاں، ڈاکٹر ذکی الدین، ڈاکٹر مسز شہناز پروین، ڈاکٹر عزیر بقائی، ڈاکٹر طیب انجم اور حکیم محمد مرتضیٰ دہلوی شامل تھے۔
وفد نے خاص طور سے قومی صحت مشن میں یونانی طریقہ علاج کی شمولیت، یونانی ڈرگ انڈسٹری کو فروغ دینے، یونانی ڈاکٹروں کو آیوروید کے مساوی سرجری کا حق دینے اور طب یونانی کے لیے NCISM میں آیوروید کی طرح الگ بورڈ بنائے جانے کا مطالبہ کیا۔ وفد نے بتایا کہ وزیر اعظم ہند سے لے کر وزیر آیوش اور درجنوں ممبر آف پارلیمنٹ کو خطوط لکھ کر ہم طب یونانی کے ساتھ ہورہے سوتیلے برتاؤ کو روکنے کا مطالبہ کرچکے ہیں نیز پارلیمنٹ میں ایک درجن سے زائد ممبر آف پارلیمنٹ کا وفد لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے ملا اور طب یونانی کے ساتھ ہورہی ناانصافی کے خلاف میمورنڈم دیا۔
پرشوتم روپالا نے وفد کو یقین دلایا کہ طب یونانی کے فروغ اور مسائل کو حل کرنے میں ہر ممکن مدد کریں گے۔ انہوں نے طب یونانی کی افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ ہندوستانی عوام کے مزاج کے مطابق ہے اس لیے یہ بہت مقبول بھی ہے۔ میری خواہش ہے کہ طب یونانی کا ملک میں فروغ ہو تاکہ عوام مزید استفادہ کرسکیں۔









